خیبر پختونخوا میں یونیفارمڈ پولیس رسک الاؤنس اور شہداء پیکیج میں اضافہ
اشاعت کی تاریخ: 9th, July 2025 GMT
—فائل فوٹو
خیبر پختون خوا میں یونیفارمڈ پولیس رسک الاؤنس میں اضافہ کر دیا گیا ہے، اس حوالے سے صوبائی کابینہ کے 13 جون کے فیصلے کی روشنی میں محکمۂ خزانہ نے پشاور سے اعلامیہ جاری کیا ہے۔
اعلامیے کے مطابق کانسٹیبل سے انسپکٹر تک یونیفارمڈ پولیس اہلکاروں کے رسک الاونس میں اضافہ کیا گیا ہے، جس کے مطابق کانسٹیبل 7 اسکیل کو پہلے 7400 روپے ملتے تھے، اب 11400 روپے ملیں گے، ہیڈ کانسٹیبل کو 8100 کی بجائے 12700 روپے ملیں گے۔
اے ایس آئی کا رسک الاؤنس 8700 روپے سے بڑھ کر 15700 روپے ہو گیا، سب انسپکٹر کا رسک الاؤنس 10300 سے بڑھا کر 16300 کر دیا گیا، اسی طرح انسپکٹر کو 12700 روپے کی بجائے اب 17300 روپے ملیں گے۔
علاوہ ازیں محکمہ خزانہ خیبر پختون خوا نے پولیس شہداء پیکیج میں اضافے کا نوٹیفیکیشن جاری کر دیا، شہید پولیس اہلکار کے لواحقین کے پیکیجز میں 10، 10 لاکھ روپے کا اضافہ کیا گیا ہے۔
شہید کانسٹیبل اور ہیڈ کانسٹیبل کا پیکیج 1 کروڑ 10 لاکھ روپے کر دیا گیا ہے، ڈی ایس پی اور اے ایس رینک شہداء کے ورثاء کو 1 کروڑ 60 لاکھ روپے کا پیکیج ملے گا۔
ایس پی، ایس ایس پی اور اے آئی جی شہید پیکیج 2 کروڑ 10 لاکھ روپے ہو گیا جبکہ ڈی آئی جی پی، آئی جی کا شہید پیکیج 2 کروڑ 30 لاکھ روپے ہو گا۔
پولیس شہداء کے ورثاء کو پلاٹ بھی دیے جائیں گے، شہید کانسٹیبل کے ورثاء کو 5 مرلہ پلاٹ ملے گا، شہید اے ایس آئی اور ایس آئی کے ورثاء کو 7 مرلہ پلاٹ ملے گا۔
شہید ڈی ایس پی اور اے ایس پی کے ورثاء کو 10 مرلے کا پلاٹ ملے گا، ایس ایس پی اور شہید ہونے والے اعلیٰ افسران کے ورثاء کو ایک کنال کا پلاٹ دیا جائے گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: کے ورثاء کو ایس پی اور لاکھ روپے ملے گا کر دیا گیا ہے اے ایس
پڑھیں:
پائیڈ کی کم از کم ماہانہ اجرت 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی سفارش
پاکستان انسٹیٹیوٹ آف ڈویلپمنٹ اکنامکس (Pakistan Institute of Development Economics) نے آئندہ مالی سال 2026-27 کے لیے ملک میں کم از کم ماہانہ اجرت 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی سفارش کر دی ہے، جسے موجودہ معاشی حالات اور بڑھتی ہوئی مہنگائی کے تناظر میں ایک اہم پالیسی تجویز قرار دیا جا رہا ہے۔
پائیڈ کی جانب سے جاری کردہ شواہد پر مبنی فریم ورک کے مطابق کم از کم اجرت میں اضافہ صرف ایک انتظامی فیصلہ نہیں بلکہ ایک وسیع معاشی اور سماجی ضرورت ہے، جو گھریلو سطح پر قوتِ خرید، غربت میں کمی، غیر رسمی روزگار کے رجحانات اور مجموعی معاشی استحکام پر براہ راست اثر انداز ہوتی ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اگر مالی سال 2026-27 کے لیے کم از کم اجرت 45 ہزار روپے ماہانہ مقرر کی جاتی ہے تو یہ موجودہ 40 ہزار روپے کی سطح کے مقابلے میں 12.5 فیصد اضافہ ہوگا۔ اس اضافے کو محنت کش طبقے کی مالی مشکلات میں کمی اور ان کی معاشی استعداد بہتر بنانے کی ایک کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
پائیڈ کی رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ کم از کم اجرت کی پالیسی کو محض لیبر ڈپارٹمنٹ تک محدود نہیں رکھا جا سکتا، کیونکہ اس کا تعلق براہ راست عام شہریوں کی روزمرہ زندگی، مہنگائی کے دباؤ اور مقامی مارکیٹ کی طلب سے جڑا ہوا ہے۔ رپورٹ کے مطابق اجرت میں مناسب اضافہ نہ صرف مزدور طبقے کے معیارِ زندگی کو بہتر بنا سکتا ہے بلکہ پیداواری عمل میں بھی مثبت اثر ڈال سکتا ہے۔
مزیدپڑھیں:حکومت کا ریئل اسٹیٹ پیکیج تیار، فروخت پر ٹیکس 4.5 فیصد سے 1.5 فیصد تک لانے کی تجویز
اعداد و شمار کے مطابق مالی سال 2026 کے جولائی سے اپریل تک اوسط مہنگائی کی شرح تقریباً 6.19 فیصد رہی، تاہم اپریل 2026 میں سالانہ بنیاد پر مہنگائی بڑھ کر 10.9 فیصد تک پہنچ گئی، جس نے عام شہریوں کی قوتِ خرید کو مزید متاثر کیا۔
موجودہ معاشی صورتحال میں اجرتوں میں اضافہ ایک متوازن پالیسی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، تاہم اس کے ساتھ ساتھ کاروباری لاگت اور روزگار کے مواقع پر بھی اس کے ممکنہ اثرات کا جائزہ لینا ضروری ہوگا۔
پائیڈ کی سفارش کے بعد اب یہ معاملہ حکومتی سطح پر غور کے لیے پیش کیا جائے گا، جہاں حتمی فیصلہ بجٹ پالیسی کا حصہ بنایا جا سکتا ہے۔