اراکین کونسل ماڈل کالونی ٹاؤن کی جانب سے بجٹ متفقہ طور پر منظور
اشاعت کی تاریخ: 10th, July 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی( اسٹاف رپورٹر)ٹاؤن چیئرمین ظفر احمد خان نے ٹاؤن میونسپل کمشنر سید امداد علی شاہ، ٹاؤن وائس چیئرمین فیصل باسط کے ہمراہ ٹاؤن میونسپل کارپوریشن ماڈل کالونی مالی سال 2025-26 ء کا ٹوٹل 4 ارب 33 کروڑ 74 لاکھ 68 ہزار 149 روپے اخراجات تخمینہ اور 48 لاکھ 80 ہزار روپے کا سرپلس بجٹ اراکین کونسل ماڈل کالونی ٹاؤن کی جانب سے متفقہ طور پر منظور کرلیا گیا۔ ٹاؤن چیئرمین ظفر احمد خان نے کہا کہ مالی سال 2025-26ء کا بجٹ انتہائی غورو غوص کے بعد تشکیل دیا ہے جس میں ہر محکمے اور عوام کی بہتری کا خیال رکھا گیا ہے۔ اس سال گزشتہ سال کی نسبت مزید بہتر بجٹ پیش کیا ہے جو کہ آمدنیوں اور سندھ حکومت کے شیئرز کو سامنے رکھتے ہوئے تشکیل دیا گیا ہے،ہر سال ترقیاتی فنڈز کو بڑھانے کیلیے کام کر رہے ہیں اس سال بھی ترقیاتی فنڈز کو بڑھایا گیا ہے۔ مہنگائی میں پسے عوام پر کسی قسم کا مالی بوجھ نہیں ڈالا ہے البتہ کاروباری حضرات سے گزارش کریں گے وہ ٹاؤن کی اون ریسورسز آمدنیوں کے ٹارگٹ کو پورا کرنے میں اپنا کردار ادا کریں، اراکین کونسل ہمارے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں ان کی مشاورت ہمیشہ ہمارے لیے قابل قدر ہے اور آئندہ بھی اسی مشاورتی عمل کو جاری رکھ کر ماڈل کالونی ٹاؤن کو بلدیاتی سہولیات سے آراستہ ٹاؤن بنائیں گے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: ماڈل کالونی
پڑھیں:
بھارت امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ، پاکستان
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں پاکستان کی جانب سے بھارت کو مؤثر جواب دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ بھارت خود امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ۔
قرارداد 2788 کے تناظر میں تنازعات کے پرامن حل پر مباحثے کے دوران پاکستان مشن کی قونصلر صائمہ سلیم نے حق جواب میں کہا کہ ایک وفد نے تنازعات کے پُرامن حل پر ہونے والی بحث کو حقائق مسخ کرنے، انکار اور بے بنیاد الزامات کے ذریعے متاثر کرنے کی کوشش کی۔
انہوں نے کہا کہ بھارت کا امن کا درس دینا مضحکہ خیز ہے، جو خود بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی، ہمسایوں کے خلاف جارحیت اور خطے میں ریاستی سرپرستی میں دہشت گردی کا مرتکب ہے۔
پاکستانی مندوب برائے اقوام متحدہ کا کہنا تھا کہ جموں و کشمیر نہ بھارت کا نام نہاد اٹوٹ انگ ہے اور نہ داخلی معاملہ؛ بھارت کا انکار اس تنازع کی بین الاقوامی حیثیت کو تبدیل نہیں کر سکتا۔ بھارت خود جموں و کشمیر کا مسئلہ سلامتی کونسل میں لے کر آیا تھا، مگر آج اسی کونسل کی قراردادوں سے انحراف کر رہا ہے۔ قراردادوں کی کوئی میعاد ختم نہیں ہوتی۔
قونصلر صائمہ سلیم نے کہا کہ آزاد جموں و کشمیر اور بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر کے حالات میں واضح فرق ہے۔ ایک طرف سیاسی آزادی ہے، دوسری طرف جبر، گرفتاریوں اور انسانی حقوق کی پامالیوں کا سلسلہ جاری ہے۔
انہوں نے کہا کہ حقوق کا استعمال اور حقوق سے محرومی ایک جیسی چیزیں نہیں ہو سکتیں۔ کشمیری عوام کے ناقابل تنسیخ حقِ خودارادیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ سندھ طاس معاہدے کو یکطرفہ طور پر معطل کرنے کا بھارتی فیصلہ بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے منشور سے بے اعتنائی کا مظہر ہے۔
پاکستانی مندوب نے حق جواب میں کہا کہ دریائے سندھ کا پانی پاکستان کے 24 کروڑ عوام کی زندگی کا ذریعہ ہے، جنگ کا ہتھیار نہیں۔ ایسے غیر ذمہ دارانہ اقدامات علاقائی امن کو خطرے میں ڈال سکتے ہیں۔ پاکستان دہشت گردی کا سب سے بڑا متاثرہ ملک ہے؛ ہزاروں بے گناہ شہریوں کی قربانیاں اس بات کا ثبوت ہیں کہ دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی جدوجہد حقیقی ہے۔
قونصلر صائمہ سلیم کا کہنا تھا کہ بھارت سے منسلک دہشت گردی کے نیٹ ورک علاقائی حدود سے نکل کر عالمی سطح تک پہنچ چکے ہیں۔ کلبھوشن یادیو کیس اس کا ایک واضح ثبوت ہے۔ بھارت میں ہندوتوا پر مبنی انتہا پسند نظریات نے اسلاموفوبیا کو ریاستی پالیسی کا رنگ دے دیا ہے، جبکہ اقلیتیں امتیازی سلوک اور جبر کا سامنا کر رہی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان نے اشتعال انگیزی اور جارحیت کے باوجود تحمل کا مظاہرہ کیا، مذاکرات کا راستہ کھلا رکھا اور تنازعات کے پُرامن حل کو ترجیح دی۔ جنوبی ایشیا میں امن کا راستہ انکار یا ہٹ دھرمی نہیں بلکہ اقوام متحدہ کے منشور، بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی پاسداری سے ہو کر گزرتا ہے۔
پاکستانی مندوب نے کہا کہ بھارت کو چاہیے کہ قرارداد 2788 پر اس کی روح اور متن کے مطابق عمل کرے، اپنے معاہداتی وعدے پورے کرے اور جموں و کشمیر تنازع کے پُرامن حل کے لیے سنجیدہ کردار ادا کرے۔