کراچی: لیاری میں عمارت گرنے کے واقعے کا مقدمہ درج
اشاعت کی تاریخ: 10th, July 2025 GMT
—فائل فوٹو
کراچی کے علاقے لیاری میں عمارت گرنے کے واقعے کا مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔
پولیس کے مطابق عمارت گرنے کے واقعے کا مقدمہ محکمۂ بلدیات کی مدعیت میں درج کیا گیا ہے۔
پولیس نے کہا کہ مقدمے میں ایس بی سی اے کے اعلیٰ افسران کو نامزد کیا گیا ہے۔
ویڈیو میں عمارت کی پارکنگ کے پلرز شدید ٹوٹ پھوٹ کا شکار نظر آرہے ہیں اور سریے باہر نکلے ہوئے ہیں۔
واضح رہے کہ بغدادی کے علاقے میں عمارت گرنے کا واقعہ 4 جولائی کو پیش آیا تھا جس میں 27 افراد جاں بحق اور 11 زخمی ہوئے تھے۔
دو روز قبل وزیرِ اطلاعات سندھ شرجیل میمن نے کہا تھا کہ حادثات کے پیش نظر کراچی میں انتہائی خستہ 51 عمارتوں میں سے 11 کو خالی کروایا گیا ہے، مخدوش عمارتوں کے تمام مکینوں کو رہائش دینا حکومت کے لیے ممکن نہیں، کچھ خاندانوں کو عارضی رہائش دے سکتے ہیں۔
سندھ حکومت نے لیاری میں عمارت گرنے کی تحقیقات کے لیے کمشنر کراچی کی سربراہی میں 5 رکنی کمیٹی قائم کر دی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
پڑھیں:
کراچی میں گیس سلینڈر دھماکے سے تباہی، 1 جاں بحق
شہر قائد کے علاقے صفورا چورنگی سندھ گرین ہوٹل واٹر ہائیڈرنٹ کے قریب واقع ٹائر پنکچر اورگیس ویلڈنگ کی مشترکہ دکان میں دھماکے کے نتیجے میں ایک شخص جاں بحق اور5 افراد زخمی ہو گئے۔
تفصیلات کے مطابق ملیر کینٹ تھانے کے علاقے صفورا چورنگی سندھ گرین ہوٹل واٹرہائیڈرنٹ کے قریب واقع ٹائر پنکچر اورگیس ویلڈنگ کی مشترکہ دکان میں دھماکےمیں 6 افراد جھلس کر زخمی ہو گئے جنہیں فوری طور پرجناح اسپتال منتقل کیا گیا۔
اسپتال منتقلی کے بعد جھلس کر زخمی ہونے والا ایک شخص دوران علاج دم توڑ گیا، جس کی شناخت 35 سالہ وقاص کے نام سے ہوئی۔
حادثے میں زخمی ہونے والے دیگر افراد میں 10 سالہ سکندر، 40 سالہ اویس اور 30 سالہ عبدالحنان اورعابد شامل ہیں جبکہ ایک زخمی کی شناخت تاحال نہیں ہوسکی۔
ایس ایچ او ملیر کینٹ آغا عبدالرشید کے مطابق دھماکے میں جاں بحق ہونے والا وقاص پنکچرکی دکان کا مالک تھا۔ انہوں نے مزید بتایا کہ پنکچر کی دکان سے متصل گاڑیوں کے سینسر گیس ویلڈنگ کے ذریعے مرمت کاکام بھی ہوتا تھا جہاں ایک چھوٹا سلنڈر موجود تھا جوروز داردھماکے سے پھٹ گیا جس کے نتیجے میں ایک شخص جاں بحق اور 5 افراد زخمی ہوئے جنہیں فوری طورپراسپتال منتقل کردیا گیا۔
عینی شاہدین کے مطابق دھماکہ اتنا شدید تھا کہ دکان مکمل طور پرتباہ ہوگئی۔