پاکستان اور چین کا فیک نیوز کا پھیلاؤ روکنے کیلئے مشترکہ تعاون کو فروغ دینے پر اتفاق
اشاعت کی تاریخ: 10th, July 2025 GMT
بیجنگ (ڈیلی پاکستان آن لائن)پاکستان اور چین نے جعلی خبروں اور غلط معلومات کے پھیلاؤ کے خلاف مشترکہ نشریاتی منصوبوں اور تعاون کو فروغ دینے پر اتفاق کیا ہے۔
ڈان نیوزنے ریڈیو پاکستان کی رپورٹ کے حوالے سے بتایاکہ یہ فیصلہ جمعرات کو بیجنگ میں پاکستان کے وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ اور چینی کمیونسٹ پارٹی کی مرکزی کمیٹی کے شعبہ تشہیر کی نائب سربراہ اور نیشنل ریڈیو و ٹیلی ویژن ایڈمنسٹریشن (این آر ٹی اے) کی وزیر اور پارٹی سیکرٹری کاؤ شومین کے درمیان ملاقات میں ہوا۔
دونوں رہنماؤں نے جعلی خبروں کے خلاف مشترکہ بیانیے پر اتفاق کیا اور تکنیکی تربیت اور ادارہ جاتی تعاون کی اہمیت پر زور دیا، انہوں نے میڈیا میں جاری شراکت داری کو باہمی اعتماد اور دیرینہ دوستی کا مظہر قرار دیا۔
ملاقات میں چین کے سرکاری چینل سی سی ٹی وی اور پاکستان ٹیلی ویژن (پی ٹی وی) کے درمیان معلومات کے تبادلے اور تعاون کو فروغ دینے سے متعلق مجوزہ معاہدے پر بھی تبادلہ خیال ہوا۔
عطا اللہ تارڑ نے کہا کہ پاکستان دوطرفہ میڈیا تعاون کو عملی اقدامات میں تبدیل کرنے کے لیے تیار ہے اور پی ٹی وی، ریڈیو پاکستان اور ایسوسی ایٹڈ پریس آف پاکستان (اے پی پی) جیسی ریاستی میڈیا تنظیمیں چین کی ترقی، بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو، سی پیک، ثقافتی روابط اور دوطرفہ تعاون کی کہانیوں کو دونوں ممالک کے عوام تک پہنچانے میں اہم کردار ادا کر رہی ہیں۔
رپورٹ کے مطابق وزیر اطلاعات نے بتایا کہ پی ٹی وی چینی پروگرام، ڈاکیومنٹریز اور خبروں کو اردو زبان میں نشر کر کے دونوں ممالک کے درمیان فکری و ثقافتی پل تعمیر کر رہا ہے، انہوں نے کہا کہ اے پی پی کی ’چائنا نیوز سروس‘ نے پاکستانی بیانیے کو چینی قارئین تک مؤثر انداز میں پہنچانے میں اہم سنگِ میل عبور کر لیا ہے۔
حالیہ پاک-بھارت کشیدگی کا حوالہ دیتے ہوئے وزیر اطلاعات نے کہا کہ چین اور پاکستان کے نوجوانوں نے ایک دوسرے کے ساتھ جس یکجہتی کا اظہار کیا، وہ سوشل میڈیا پر وائرل ہو گیا، جو دونوں ممالک کے درمیان عوامی تعلقات کی گہرائی کو ظاہر کرتا ہے۔
ملاقات میں پاکستان اور چین کے ڈیجیٹل انفلوئنسرز کے باہمی دوروں پر بھی گفتگو ہوئی، عطا اللہ تارڑ نے کہا کہ ڈیجیٹل دور میں سوشل میڈیا نمائندوں اور انفلوئنسرز کے تبادلے دوطرفہ تعلقات میں نئی روح پھونک سکتے ہیں۔
چینی وزیر کاؤ شومین نے کہا کہ چین پاکستان کو ایک قابلِ اعتماد شراکت دار سمجھتا ہے، اور دونوں ممالک کے میڈیا ادارے تجربات کے تبادلے کے ذریعے مزید قریب آ سکتے ہیں۔
فریقین نے اس بات پر اتفاق کیا کہ میڈیا، ثقافت اور عوامی روابط پاکستان اور چین کی دوستی میں نئے پہلو لا سکتے ہیں، اور ان کوششوں کو ایک مشترکہ حکمت عملی کے تحت مزید مضبوط بنایا جائے گا۔
یاد رہے کہ رواں سال فروری میں پاکستان میں چین کے سفیر جیانگ ژائی ڈونگ نے کہا تھا کہ ’ہم تعلیم، میڈیا، تھنک ٹینکس، نوجوانوں کے تبادلے، فلم اور ٹیلی ویژن کے شعبوں میں پاکستان کے ساتھ تعاون کو وسعت دینے کے لیے تیار ہیں تاکہ تہذیبوں کے مابین سیکھنے کے عمل کو فروغ دیا جا سکے اور ثقافتی و عوامی روابط کو مزید مضبوط بنایا جا سکے‘۔
"ہم تمہارا انتظار کررہے ہیں، ادھر آکر دکھاؤ" پورے پنجاب میں انکاؤنٹرز کی لائن لگانے والی پنجاب پولیس کو کچے کے ڈاکووں کا کھلاچیلنج، پولیس خاموش
مزید :.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
کلیدی لفظ: پاکستان اور چین دونوں ممالک کے میں پاکستان کے درمیان کے تبادلے نے کہا کہ تعاون کو پر اتفاق کو فروغ
پڑھیں:
گورنر خیبرپختونخوا سے ترک سفیر کی ملاقات ، باہمی تعاون ،دوطرفہ امور پر تبادلہ خیال
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی سے ترک سفیر ڈاکٹر عرفان نذیر اوغلو نے ملاقات کی،جس میں پاک ترک تعلقات، باہمی تعاون اور دوطرفہ امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔منگل کو گورنر آفس اسلام آباد سے جاری بیان کے مطابق ملاقات میں پاکستان اور ترکیہ کے برادرانہ تعلقات مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اظہار کیا گیا۔دونوں رہنماؤں کے درمیان تجارت، سرمایہ کاری، تعلیم اور ثقافت کے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر گفتگو ہوئی اورخیبرپختونخوا اور ترکیہ کے درمیان اقتصادی روابط کے فروغ پر تبادلہ خیال کیا گیا۔اس موقع پرگورنر خیبرپختونخوانے کہا کہ پاک۔بھارت جنگ میں ترکیہ نے پاکستان کا بھرپور ساتھ دیا،نئی نسل کو پاک ترک دوستی میں متحرک کرنا انتہائی ضروری ہے۔(جاری ہے)
انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا کے تاجروں اور طلبہ کے ترکیہ دوروں کا سلسلہ شروع کیا جائے،دونوں ممالک کے ثقافتی اور ادبی وفود کے دورے بھی انتہائی ضروری ہیں، ایسے اقدامات سے ترکیہ اور پاکستان دوستی مزید مضبوط ہو گی۔گورنر خیبرپختونخوا نے کہا کہ زراعت کے شعبہ میں بھی دونوں ممالک بالخصوص خیبرپختونخوا میں ترقی اور سرمایہ کاری کے وسیع امکانات ہیں۔ گورنر خیبرپختونخوا نے پشاور کو ترکیہ کے کسی بڑے شہر کے ساتھ سسٹر سٹی قرار دینے کی تجویز پیش کی۔ترک سفیر نے بتایا کہ پشاور کو ترکیہ کے ایک شہر کے ساتھ سسٹر سٹی قرار دیا جائے گا، پاکستان کے نوجوانوں کو آئی ٹی اور جدید ٹیکنالوجی کے شعبوں میں تربیت کے مواقع فراہم کرنے کے لئے تعاون کریں گے۔ ترک سفیر نے وزیراعظم یوتھ پروگرام کو نوجوانوں کی ترقی کے لئے ایک مثبت اور موثر اقدام قرار دیا۔ترک سفیر نے کہا کہ پاکستان اور ترکیہ کے درمیان تعلیم، ٹیکنالوجی اور نوجوانوں کی استعداد کار بڑھانے کے شعبوں میں تعاون مزید فروغ پائے گا۔ملاقات میں پاکستان پیپلز پارٹی کے خیبر پختونخوا اسمبلی میں پارلیمانی لیڈر احمد کنڈی بھی موجود تھے۔