حکومتی مجرمانہ غفلت کے باعث بارش رحمت کے بجائے زحمت بن گئی
اشاعت کی تاریخ: 11th, July 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
لاہور (نمائندہ جسارت) امیر جماعت اسلامی لاہور، ضیا الدین انصاری ایڈووکیٹ نے مون سون بارشوں کے دوران پنجاب حکومت اور متعلقہ انتظامی اداروں کی ناقص کارکردگی پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت کی مجرمانہ غفلت کے باعث حالیہ بارشیں شہریوں کے لیے رحمت کے بجائے زحمت بن چکی ہیں۔لاہور کے بیشتر نشیبی اور شہری علاقے بارشی پانی میں ڈوب چکے ہیں، گلی محلوں اور یہاں تک کہ گھروں میں پانی داخل ہو چکا ہے جس سے شہری پریشانی کیساتھ نقصانات کا بھی سامنا کررہے ہیں۔ حکومتی مشینری صرف مرکزی شاہراہوں تک محدود ہے جبکہ اندرون شہر سمیت نشیبی علاقوں کی گلیاں، محلے اوررہائشی علاقوں کو مکمل طور پر نظرانداز کیاجارہا ہے۔ ان علاقوں میں نہ صرف پانی کھڑا ہے بلکہ بجلی کی طویل بندش نے صورتحال کو مزید ابتر کر دیا ہے۔ضیاء الدین انصاری ایڈووکیٹ نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ نکاسی آب کا نظام جدید تقاضوں کے مطابق فوری طور پر بہتر بنایا جائے اور بجلی کی بلا تعطل فراہمی کو یقینی بنایا جائے تاکہ مون سون کے ہر سال پیش آنے والے مسائل سے مستقل نجات حاصل کی جا سکے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
وزیر تعلیم پنجاب کا سمر کیمپ کے حوالے سے حکومتی ہدایت پر عملدرآمد نہ کرنے کا نوٹس
رانا سکندر حیات کا کہنا ہے کہ تمام ڈسٹرکٹ ایجوکیشن اتھارٹیز سمر کیمپ سے متعلق حکومتی احکامات پر سختی سے عمل کروائیں، تعلیمی اداروں کو سمر کیمپ کی اجازت پیر سے جمعرات تک کی ہے سمر کیمپ صبح 7 تا 10 بجے تک اور صرف ایک ماہ کیلئے ہوگا۔ اسلام ٹائمز۔ وزیر تعلیم پنجاب رانا سکندر حیات نے سمر کیمپ کے حوالے سے حکومتی ہدایت پر بعض سکولوں کے عملدرآمد نہ کرنے کا نوٹس لے لیا۔ رانا سکندر حیات کا کہنا ہے کہ تمام ڈسٹرکٹ ایجوکیشن اتھارٹیز سمر کیمپ سے متعلق حکومتی احکامات پر سختی سے عمل کروائیں، تعلیمی اداروں کو سمر کیمپ کی اجازت پیر سے جمعرات تک کی ہے سمر کیمپ صبح 7 تا 10 بجے تک اور صرف ایک ماہ کیلئے ہوگا۔
وزیر تعلیم نے کہا کہ والدین حکومتی ہدایات اور احکامات کی خلاف ورزی کرنے والے سکولوں کے بارے میں شکایات وزیر تعلیم کے شکایت سیل کے نمبر 03166432182 اور 03160261408 پر درج کروا سکتے ہیں۔ رانا سکندر حیات کا کہنا تھا کہ سمر کیمپ بچوں کی شرکت اور والدین کی رضامندی سے مشروط ہے، سکو لز زبردستی بچوں کو سمر کیمپ میں نہیں بلا سکتے۔