حمیرا اصغر کا آخری آڈیو پیغام کیا تھا اور یہ کسے بھیجا گیا تھا؟
اشاعت کی تاریخ: 11th, July 2025 GMT
پاکستانی اداکارہ حمیرا اصغر کی جانب سے دوست کو بھیجا گیا آخری آڈیو پیغام منظرِ عام پر آگیا۔
حمیرا اصغر کی دوست در شہوار نے نجی ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے ان کا آخری آڈیو پیغام سنوایا جس میں وہ اپنی دوست سے دعاؤں کی اپیل کر رہی ہیں۔
آڈیو پیغام میں حمیرا نے اپنی دوست سے معذرت کرتے ہوئے کہا کہ میں تمہارا فون نہیں اٹھا سکی کیونکہ میں سفر میں تھی اور مصروف تھی لیکن میں بہت خوش ہوں کہ تم مکہ میں ہو۔
یہ بھی پڑھیں: اہم انکشاف پر مبنی حمیرا اصغر کی پوسٹ مارٹم رپورٹ سامنے آگئی
حمیرا نے کہا کہ اپنی کیوٹ سی دوست کے لیے دل سے بہت سی دعائیں کرنا اور میرے کیرئیر کے لیے بھی دعا کرنا۔ در شہوار کے مطابق یہ وائس نوٹ انہیں حمیرا نے ستمبر 2024 میں بھیجا تھا۔
واضح رہے کہ اداکارہ کی ابتدائی پوسٹ مارٹم رپورٹ منظر عام پر آچکی ہے، جس کے مطابق ان کی موت 8 سے 10 ماہ قبل ہوئی۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اداکارہ کے جسم کی کوئی ہڈی ٹوٹی ہوئی نہیں پائی گئی جبکہ نچلے جسم کا گوشت مکمل طور پر گل چکا تھا۔
پوسٹ مارٹم رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ لاش ڈی کمپوزیشن کے آخری مرحلے میں تھی اور اس میں کچھ کیڑے بھی موجود تھے۔لاش کی حالت اس قدر خراب تھی کہ اس سے کسی بھی قسم کی جسمانی زیادتی یا تشدد کے شواہد کا تعین ممکن نہیں رہا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
حمیرا اصغر پوسٹ مارٹم حمیرا اصغر تدفین حمیرا اصغر لاش حمیرا اصغر موت حمیرا اصغر والد.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: حمیرا اصغر پوسٹ مارٹم حمیرا اصغر تدفین حمیرا اصغر لاش حمیرا اصغر موت حمیرا اصغر والد ا ڈیو پیغام پوسٹ مارٹم
پڑھیں:
وزارتِ خارجہ کی اپوسٹل سروسز کے ٹھیکوں پر سوالات، آڈٹ میں قواعد کی مبینہ خلاف ورزیوں کی نشاندہی
اسلام آباد (رضوان عباسی ) وزارتِ خارجہ کی قونصلر سروسز کے تحت اپوسٹل سروسز کے لیے کوریئر کمپنیوں کے انتخاب کے عمل پر آڈٹ نے کئی سوالات اٹھا دیے ہیں۔ آڈٹ رپورٹ کے مطابق خدمات کے حصول میں پبلک پروکیورمنٹ رولز (پیپرا) کے تقاضوں پر مکمل عمل نہیں کیا گیا اور اوپن ٹینڈرنگ کے شواہد بھی ریکارڈ پر موجود نہیں ہیں۔ روزنامہ اوصاف کو حاصل دستاویزات کے مطابق 17 مئی 2024 سے اپوسٹل سروسز کے لیے ٹی سی ایس، لیوپرڈز، جیرینز، ایم اینڈ پی اور ایکسیلنٹ کوریئر سروسز (ECS) سمیت پانچ کوریئر کمپنیوں کو دستاویزات کی وصولی اور ترسیل کی ذمہ داری سونپی گئی۔ تاہم آڈٹ کا کہنا ہے کہ کمپنیوں کے انتخاب کے لیے نہ تو اوپن کمپیٹیٹیو بڈنگ کی گئی اور نہ ہی واضح سلیکشن کرائٹیریا یا کاروباری اہلیت کا مکمل ریکارڈ دستیاب تھا۔آڈٹ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یہی طریقہ کار صرف اسلام آباد ہی نہیں بلکہ کراچی، لاہور، پشاور، کوئٹہ اور گجرات میں قائم فارن آفس لیزن دفاتر (FALOs) میں بھی اختیار کیا گیا۔
رپورٹ میں ای سی ایس یعنی ایکسیلینٹ کورئیر سروسز کے انتخاب پر بھی سوالات اٹھائے گئے ہیں۔ آڈٹ کے مطابق ای سی ایس کمپنی کے قومی سطح پر متعلقہ تجربے، کاروباری پروفائل اور اہلیت سے متعلق مطلوبہ ریکارڈ دستیاب نہیں تھا۔ اس کے علاوہ کمپنی کی سیلز ٹیکس رجسٹریشن اور سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (SECP) سے متعلق دستاویزات بھی ریکارڈ پر موجود نہ ہونے کی نشاندہی کی گئی ہے۔آڈٹ رپورٹ میں یہ سفارش کی گئی ہے کہ پورے معاملے کی جامع تحقیقات کی جائیں، ذمہ داروں کا تعین کیا جائے اور آئندہ سرکاری خریداری اور خدمات کے حصول میں پیپرا رولز پر سختی سے عمل درآمد یقینی بنایا جائے۔وزارتِ خارجہ کی جانب سے آڈٹ رپورٹ میں اٹھائے گئے نکات پر تاحال باضابطہ مؤقف سامنے نہیں آیا۔