اہل خانہ حمیرا اصغر کی لاش گھر کیوں نہیں لے کر گئے، وجہ کیا بنی؟
اشاعت کی تاریخ: 11th, July 2025 GMT
معروف اداکارہ حمیرا اصغر کی تدفین کی تیاریاں، میت گھر کے بجائے سیدھا قبرستان منتقل کی جائے گی۔
ابتدائی اطلاعات کے مطابق مرحومہ حمیرا اصغر کی تدفین کی تیاریاں جاری ہیں۔ ان کی میت کو گھر نہیں لے جایا جائے گا بلکہ براہِ راست قبرستان روانہ کیا جائے گا۔ قریبی ذرائع کے مطابق نمازِ جنازہ بھی وہیں ادا کی جائے گی، جس کے بعد اداکارہ کی تدفین عمل میں لائی جائے گی۔
اداکارہ کی آخری آرام گاہ لاہور کے علاقے ماڈل ٹاؤن کے کیو بلاک کے قبرستان میں بنائی گئی ہے جہاں ان کی تدفین کی جائے گی۔ اس موقع پر خاندان کے قریبی افراد، عزیز و اقارب اور شوبز انڈسٹری سے تعلق رکھنے والے چند قریبی ساتھیوں کی شرکت متوقع ہے۔
اداکارہ کی اچانک اور پُر اسرار موت سے ان کے مداح اور ساتھی فنکار شدید رنج و غم میں مبتلا ہیں۔ اداکارہ کی وفات پر فنکاروں کی جانب سے گہرے دکھ کا اظہار کیا جا رہا ہے۔
حمیرا اصغر کی ابتدائی پوسٹ مارٹم رپورٹ کے انکشاف ہوا ہے کہ ان کی لاش ایک یا دو ماہ نہیں بلکہ 8 سے 10 ماہ پرانی ہے اور بلکل گل سڑ چکی ہے ان کی کوئی ہڈی ٹوٹی ہوئی نہیں ملی جبکہ کسی قسم کے تشدد یا زیادتی کے نشانات بھی نہیں پائے گئے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ لاش مکمل طورپرڈی کمپوزیشن کے آخری مراحل میں تھی اورچہرے سمیت جسم کے کئی حصے پٹھوں سے خالی تھے۔ یاد رہے کہ 3 دن قبل اداکارہ حمیرا اصغر کی لاش ان کے فلیٹ سے برآمد ہوئی تھی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: حمیرا اصغر کی اداکارہ کی کی تدفین جائے گی
پڑھیں:
گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔
انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔
گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔