اسلام آباد: مطیع اللہ جان اور اسد طور کے یوٹیوب چینل کی بندش کا حکم معطل
اشاعت کی تاریخ: 11th, July 2025 GMT
اسلام آباد(نیوز ڈیسک)اسلام آباد کی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ نے 2 یوٹیوب چینلز کی حد تک بندش کا حکم معطل کرتے ہوئے نیشنل کرائم ایجنسی کو 21 جولائی کے لیے نوٹس جاری کردیے ۔
ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج افضل مجوکہ نے کیس کی سماعت کی, عدالت نے دو صحافیوں مطیع اللہ جان اور اسد طور کی حد تک یوٹیوب چینلز کی بندش کا حکم معطل کردیا۔
اسلام آباد کی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن عدالت نے ریاست مخالف مواد نشر کرنے پر ستائیس یوٹیوب چینلز کو بلاک کرنے کا حکم جاری کیا تھا، ان میں صحافی مطیع اللہ جان اور اسد طور کے یوٹیوب چینلز بھی شامل تھے۔
ایف آئی اے کی درخواست پر جوڈیشل مجسٹریٹ عباس شاہ نے فیصلہ دیا تھا۔ عدالت کی جانب سے دو صفحات پر مشتمل تحریری حکم نامہ میں یوٹیوب کے متعلقہ آفیسر انچارج کو ان چینلز کو فوری بلاک کرنے ہدایت کی گئی تھی۔
ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج افضل مجوکہ نے اسد طور اور مطیع اللہ جان کی اپیل کی منظوری کا تحریری حکم نامہ بھی جاری کردیا ہے۔
عدالت نے مطیع اللہ جان اور اسد طور کے یوٹیوب چینلز بلاک کرنے کا مجسٹریٹ کا حکم معطل کرتے ہوئے نیشنل کرائم ایجنسی کو 21 جولائی کے لیے نوٹس جاری کرکے جواب طلب کرلیا۔
حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ صحافی مطیع اللہ جان اور اسد طور نے درخواستوں میں موقف اپنایا کہ انہیں سنا نہیں گیا، درخواست گزاروں کے مطابق ان کو نوٹس بھی نہیں ہوا، شفاف ٹرائل کے حوالے سے آرٹیکل 10 اے کے تقاضے پورے نہیں کئے گئے۔
حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ مجسٹریٹ نے اپیل کنندگان بغیر سنے یوٹیوب چینلز بلاک کرنے کا حکم دیا، بادی النظر میں اس کیس میں کوئی نوٹس جاری نہیں کیا گیا، مطیع اللہ جان اور اسد طور کی حد تک مجسٹریٹ کا حکم معطل کیا جاتا ہے۔
مزیدپڑھیں:ملک میں چینی کی قیمت کی ڈبل سنچری مکمل
ذریعہ
ذریعہ: Daily Ausaf
کلیدی لفظ: مطیع اللہ جان اور اسد طور ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن یوٹیوب چینلز کا حکم معطل اسلام آباد بلاک کرنے
پڑھیں:
ایران کے شہید سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی تدفین مشہد میں ہوگی، تیاریاں شروع
ایران کے شہید سپریم لیڈر آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی تدفین تین بڑے شہروں ایران، قم اور مشہد میں نماز جنازہ کے بعد مشہد میں امام رضا کے مزار میں ہوگی، جس کے لیے حکام کی جانب سے تیاریاں شروع کی گئی ہیں۔
ایرانی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق ایران کے دارالحکومت تہران کے سماجی و ثقافتی امور کے نائب محمد امین توکلی زادہ نے بتایا کہ شہید سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ کی تدفین کے لیے تیاریاں جاری ہیں اور صرف دارالحکومت تہران میں ڈیڑھ سےدو کروڑ (15 سے 20 ملین) لوگوں کے لیے تیاریاں جاری ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہم دنیا کے انتہائی استکبار مخالف رہنما، امریکا اور اسرائیل کے خلاف جنگ کے عظیم کمانڈر اور ایران کے عظیم قابل تقلید رہنما کے جنازے میں شریک ہو رہے ہیں۔
امین توکلی زادہ نے کہا کہ مختلف صوبوں کی جانب سے جنازے کی میزبانی کے لیے درخواستیں کی گئی ہیں اور تدفین ممکنہ طور پر ذوالحج کے اختتام اور محرم کے شروع میں ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ تہران میں نماز جنازے کا پروگرام تقریباً 24 گھنٹوں تک جاری رہے گا، ہم شیعہ مسلمانوں کا ایک بہت بڑا اجتماع دیکھیں گے اور یہاں تک کہ تمام مسلمانوں کا ایک عظیم اجتماع ہوگا۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ آیت اللہ علی خامنہ ای کی نماز جنازے میں ہمسایہ ممالک بشمول پاکستان، افغانستان، بھارت، بنگلہ دیش اور کشمیر سے بڑی تعداد میں سوگواروں کی شرکت کا امکان ہے۔
یاد رہے کہ ایران کے سابق سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای 28 فروری کو امریکا اور اسرائیل کے حملے میں شہید ہوگئے تھے جب ایران پر اچانک حملہ کیا گیا تھا اور بم باری کے نتیجے میں آیت اللہ علی خامنہ ای کے علاوہ ان کے خاندان کے چند انتہائی قریبی ارکان سمیت پاسداران انقلاب کے اعلیٰ کمانڈرز بھی شہید ہوگئے تھے۔
امریکا اور اسرائیل کے اس حملے میں مناب میں لڑکیوں کے ایک اسکول پربھی بم باری کی گئی تھی، جس کے نتیجے میں اسکول کی بچیوں سمیت 165 افراد شہید ہوگئے تھے، جبکہ ایران نے جواب میں اسرائیل اور خطے کے ممالک میں قائم امریکی اڈوں پر حملے شروع کیے تھے۔
پاکستان کی ثالثی میں اپریل میں امریکا اور ایران نے جنگ بندی پر اتفاق کیا اور دونوں اطراف سے حملے روک دیے گئے تاہم ایران نے آبنائے ہرمز کا کنٹرول اپنے پاس رکھا جبکہ امریکا نے ناکہ بندی کی جو تاحال جاری ہے لیکن مخصوص جہازوں کو گزرنے کی اجازت دی جاتی ہے۔