اسلام آباد:

افغان شہریوں کو غیر قانونی ای ویزا اجرا کے میگا اسکینڈل کی وفاقی تحقیقاتی ادارہ (ایف آئی اے) انسداد انسانی اسمگلنگ سیل میں درج مقدمے کی تحقیقات کے دوران تفتیشی ٹیم میں سب انسپکٹر سمیت دو اہلکار ملزمان سے رشوت ستانی میں ملوث نکلے جنہیں گرفتار کرکے مشترکہ تحقیقاتی کمیٹی (جے آئی ٹی) تشکیل دے دی گئی ہے۔

ایکسپریس نیوز کی رپورٹ کے مطابق ایف آئی اے انسداد انسانی اسمگلنگ سیل نے وفاقی دارالحکومت میں وزارت خارجہ اور پی آئی ڈی کے اہلکاروں کی مبینہ ملی بھگت سے افغان باشندوں کو اسپانسرشپ کے ذریعے غیرقانونی ای ویزوں کے میگا اسکینڈل کا سراغ لگا کر مقدمہ درج کرکے پی آئی ڈی کے انفارمیشن اسسٹنٹ نادر رحیم  اور افغان باشندوں سمیت چھ ملزمان کو گرفتار کررکھا ہے۔

مقدمے کی تفتیش کے دوران ڈائریکٹر جنرل ایف آئی اے راجا رفعت مختار کو ذرائع سے اطلاع دی گئی کہ ایف آئی اے انسداد انسانی اسمگلنگ سیل کے اہلکار مقدمے میں ملوث ملزم سے مبینہ ساز باز اور رشوت ستانی کرکے ملزم کو سہولیات مہیا کررہے ہیں۔

ڈی جی ایف آئی اے نے اس حوالے سے ڈائریکٹر ایف آئی اے اسلام آباد زون شہزاد ندیم بخاری کو خفیہ انکوائری کے احکامات جاری کیے۔

ترجمان ایف آئی اے کے  مطابق ایف آئی اے اینٹی کرپشن سرکل اسلام آباد نے بدعنوانی اور کرپشن میں ملوث ایف آئی اے انسداد انسانی اسمگلنگ سیل کے سب انسپکٹر وسیم احمد اور کانسٹیبل عاقب محمود کو مبینہ طور پر رشوت ستانی میں ملوث ہونے پر گرفتار کرلیا۔

گرفتار اہلکاروں نے افغان شہریوں کو جاری کردہ ای ویزا مقدمے میں گرفتار ملزم زبیر سے دوران جسمانی ریمانڈ رشوت کا تقاضا کیا اور  ملزم کو جسمانی ریمانڈ کے دوران سہولت کاری فراہم کرنے کے عوض 20 لاکھ روپے رشوت طلب کی اور رقم کے عوض ملزم کو جوڈیشل ریمانڈ پر بھجوانے کی یقین دہانی کروائی۔

حکام کے مطابق دونوں اہلکاروں کو گرفتار کرکے تحقیقات کے لیے اسٹنٹ ڈائریکٹر ایف آئی اے اینٹی کرپشن نعمان خلیل کی سربراہی میں چار رکنی ٹیم تشکیل دے دی گئی، ٹیم میں سب انسپکٹر شمس خان، سب انسپکٹر شہریار اور کانسٹیبل مہدی شامل ہیں اور ٹیم  نے گرفتار اہلکاروں سے تفتیش کا آغاز کردیا ہے۔

حکام کا کہنا تھا کہ افغان شہریوں کو غیر قانونی ای ویزا جاری کرنے میں ملوث گینگ کے 6 ملزمان عبدالعزیز، احمد سخی، عاطف احمد، نادر رحیم عباسی(پی آئی ڈی اہلکار)، ابرار احمد اور زبیر احمد شامل گرفتار کیے جاچکے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ایف آئی اہلکاروں کے خلاف درج مقدمے کے لیے جے آئی ٹی غیر جانب دارانہ تحقیقات کر کے رپورٹ پیش کرے گی۔

ڈائریکٹر جنرل ایف آئی اے راجا رفعت مختار نے کہا کہ محکمانہ احتساب کا مقصد ادارے کو کرپشن اور دیگر بے ضابطگیوں میں ملوث کالی بھیڑوں سے پاک کرنا ہے، غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث ایف آئی اے اہلکاروں کے خلاف سخت اقدامات عمل میں لائے جا رہے ہیں۔

ڈی جی ایف آئی اے کا مزید کہنا تھا کہ ادارے میں احتسابی عمل سے ہی انسانی اسمگلنگ اور کرپشن کا خاتمہ ممکن ہوگا، کرپشن اور بد عنوانی میں ملوث افسران کو قرار واقعی سزا دی جائے گی۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: انسداد انسانی اسمگلنگ سیل افغان شہریوں کو سب انسپکٹر ایف آئی اے میں ملوث

پڑھیں:

پاکستان اور اٹلی کے درمیان سفارتی پاسپورٹ ہولڈرز کے لیے ویزا فری سفر کا نیا معاہدہ

پاکستان اور اٹلی نے باہمی تعلقات کو مزید مضبوط بناتے ہوئے سفارتی پاسپورٹ رکھنے والوں کے لیے ویزا کی شرط ختم کرنے کے ایک تاریخی معاہدے پر دستخط کر دیے ہیں۔ اس معاہدے کو دونوں ممالک کے سفارتی تعلقات میں ایک انتہائی اہم موڑ قرار دیا جا رہا ہے۔

معاہدے پر دستخط کی تقریب اور اہم ملاقات

اٹلی کے دارلحکومت روم میں منعقدہ ایک پروقار تقریب کے دوران اٹلی میں تعینات پاکستانی سفیر علی جاوید اور اٹلی کی وزارتِ خارجہ کے سیکریٹری جنرل ریکارڈو گوارگلیا نے اس اہم معاہدے پر دستخط کیے۔

یہ بھی پڑھیں:پاکستان اٹلی سے دفاعی تعاون کے فروغ اور باہمی تجربے سے مستفید ہونا چاہتا ہے، وزیردفاع

دستخطی تقریب سے قبل دونوں اعلیٰ حکام کے درمیان ایک تفصیلی دو طرفہ ملاقات بھی ہوئی، جس میں باہمی دلچسپی کے امور، علاقائی صورتحال اور بین الاقوامی فورمز، خصوصاً اقوام متحدہ اور یورپی یونین میں تعاون کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔

باہمی اعتماد اور سفارتی وفود کا تبادلہ

سرکاری بیان کے مطابق دونوں فریقین نے وسعت اور مثبت سمت پر گامزن پاک، اٹلی تعلقات پراطمینان کا اظہار کیا۔ حکام کا کہنا ہے کہ یہ نیا معاہدہ دونوں ممالک کے درمیان موجود گہرے باہمی اعتماد، لازوال دوستی اور قریبی تعاون کی واضح علامت ہے۔ اس اقدام سے سرکاری اور سفارتی وفود کے تبادلوں میں حائل رکاوٹیں دور ہوں گی اور عوامی و حکومتی سطح پر روابط کو مزید فروغ ملے گا۔

پاک، اٹلی تعلقات کا تاریخی فریم ورک

پاکستان اور اٹلی کے درمیان طویل عرصے سے مختلف شعبوں میں قریبی تعاون جاری ہے۔ اس وقت دونوں ممالک کے مابین 15 سرکاری معاہدے نافذ العمل ہیں، جو سیاحت، ثقافت، سائنس و ٹیکنالوجی، کھیل، اعلیٰ دفاعی تعلیم اور انسدادِ منشیات جیسے شعبوں کا احاطہ کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ، دونوں ممالک کی جامعات اور تحقیقی اداروں کے درمیان 21 مفاہمتی یادداشتیں (ایم او یوز) بھی فعال ہیں۔

مزید پڑھیں:پاکستانی طالب علم اٹلی میں مفت اسکالرشپ اور لاکھوں روپے کیسے حاصل کرسکتے ہیں؟

دو طرفہ تعلقات کے اہم فریم ورک میں 2009 کا دفاعی تعاون معاہدہ، 2013 میں قائم کیا گیا اسٹریٹجک انگیجمنٹ پلان اور 2005 میں تشکیل دی گئی مشترکہ اقتصادی کمیشن شامل ہیں۔

اس سے قبل 1997 کا سرمایہ کاری تحفظ معاہدہ، 1983 کا دوہری شہریت کا معاہدہ اور 1972 کا حوالگیِ مجرمان معاہدہ بھی دونوں ممالک کے تعلقات میں اہم سنگِ میل سمجھے جاتے ہیں۔

پاکستانیوں کے لیے ’لیبر مائیگریشن‘ معاہدہ اور ملازمتیں

رپورٹ کے مطابق 7 مئی 2025 کو اسلام آباد میں دونوں ممالک کے درمیان ’لیبر موبیلٹی اینڈ مائیگریشن‘ کی ایک اہم ترین یادداشت پر دستخط کیے گئے تھے۔ یہ کسی بھی یورپی ملک کے ساتھ پاکستان کا پہلا باضابطہ لیبر معاہدہ تھا، جس کے تحت پاکستانی ہنر مندوں کے لیے اٹلی میں 10,500 مخصوص ملازمتوں کے مواقع فراہم کیے گئے ہیں، جو پاکستانی افرادی قوت کے لیے ایک بڑی کامیابی ہے۔

سال 2026 کے اختتام پر اہم مذاکرات کی تیاری

ملاقات کے دوران سفیر علی جاوید نے سیکریٹری جنرل ریکارڈو گوارگلیا کو پاکستان کے دورے کی دعوت دی تاکہ دونوں ممالک کے درمیان ’دو طرفہ سیاسی مشاورت‘ کے ساتویں دور کا انعقاد کیا جا سکے۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان سال 2026 کی آخری سہ ماہی میں ان مذاکرات کی میزبانی کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔

اس کے ساتھ ہی انہوں نے اسلام آباد میں اٹلی کے نئے تعمیر شدہ سفارت خانے کے جلد افتتاح کی خواہش کا بھی اظہار کیا، جو کہ دنیا بھر میں اٹلی کا سب سے بڑا سفارتی مشن ہوگا۔ یہ تمام اقدامات مستقبل میں دونوں ممالک کو معاشی، سفارتی اور عوامی سطح پر ایک دوسرے کے مزید قریب لے آئیں گے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

اٹلی اہم مذاکرات پاسپورٹ پاکستان علی جاوید لیبر مائیگریشن معاہدہ ملازمین

متعلقہ مضامین

  • وسائل پر قبضے کی جنگ: افغان طالبان میں اختلافات کھل کر سامنے آگئے
  • کراچی ایئرپورٹ پر جعلی یو اے ای ورک ویزا فراڈ بے نقاب، مسافر آف لوڈ
  • کوہستان اسکینڈل منظر عام پر لانے والے صحافی کو اعزاز سے نواز دیا گیا
  • کوہستان کرپشن کیس، نیب نے 6 ارب کے ریکور اثاثے خیبر پختونخوا کے حوالے کردیے
  • وفاقی آئینی عدالت نے پولٹری فیڈ ملز سے 4 فیصد اضافی ٹیکس کی وصولی غیرقانونی قرار دے دی
  • پاکستان اور اٹلی کے درمیان سفارتی پاسپورٹ ہولڈرز کے لیے ویزا فری سفر کا نیا معاہدہ
  • بحرین میں محرم الحرام کی آمد کیساتھ ہی شیعیان علیؑ کیخلاف کریک ڈاون میں تیزی
  • لاہور میں بلدیاتی الیکشن کیلئے حلقہ بندیوں کی ابتدائی فہرست کا اجرا
  • پاکستان اور اٹلی کے سفارتی پاسپورٹ ہولڈرز کیلئے ویزا ختم کرنے کا معاہدہ
  • افغان ٹیم پہلی بار بھارت میں ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی کرے گی