بھارت میں مودی حکومت کے خلاف ملک گیر ہڑتال
اشاعت کی تاریخ: 12th, July 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
نئی دہلی (آن لائن) بھارت میں کروڑوں مزدور، کسان، بینک ملازمین اور ٹرانسپورٹ ورکرز نے مودی حکومت کے خلاف ملک گیر ہڑتال کی۔ رپورٹ کے مطابق 30 سے 40 کروڑ افراد نے بھارت بند میں حصہ لیا، جس سے ریلوے اسٹیشن سنسان، بینک بند، اور بازار مکمل ویران ہو گئے۔ کیرالا، پنجاب، تمل ناڈو، مغربی بنگال اور مہاراشٹر سمیت کئی ریاستوں میں دفاتر، اسکول، پبلک ٹرانسپورٹ اور انڈسٹری سب کچھ بند رہا۔ سی آئی آئی کے مطابق صرف ایک دن میں معیشت کو تقریباً 15,000 کروڑ روپے کا نقصان ہوا۔ یہ احتجاج کسان دشمن پالیسیوں اور مزدور کش قوانین کے خلاف کیا گیا۔ بینکنگ نظام مفلوج ہو چکا ہے اور گاؤں سے لے کر شہروں تک لوگ حکومت سے انصاف کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ تاہم، بھارتی مین اسٹریم میڈیا کی خاموشی پر بھی سوالات اٹھ رہے ہیں، جب کہ سوشل میڈیا پر #BharatBandh2025 ٹرینڈ کر رہا ہے۔ کسانوں نے ایک بار پھر دہلی کی سرحدوں کا رخ کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ 020-21 میں جو وعدے کیے گئے تھے، وہ وفا نہیں ہوئے۔ مظاہرین کا کہنا ہے کہ یہ صرف احتجاج نہیں، بلکہ عوامی اعتماد کا بحران ہے۔ دوسری جانب ملک میں اقلیتوں، خواتین، قبائلیوں اور نچلی ذاتوں کے ساتھ ناروا سلوک اور عدم تحفظ کا ماحول بھی عوامی غصے کی ایک بڑی وجہ ہے۔ مظاہرین کا کہنا ہے کہ صرف اونچی ذات کے ہندو ہی اس ملک میں محفوظ ہیں۔ ماہرین کے مطابق بھارت بند اب صرف ایک دن کی ہڑتال نہیں بلکہ ایک انقلاب کی دستک ہے۔ عوامی صبر ختم ہو چکا ہے، اور مودی حکومت کی پالیسیوں پر واضح عدم اعتماد سامنے آ چکا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کو لاجواب کر دیا
قونصلر صائمہ سلیم— فائل فوٹواقوامِ متحدہ میں پاکستانی مشن کی قونصلر صائمہ سلیم نے سلامتی کونسل میں بھارت کو لاجواب کر دیا۔
اپنے بیان میں صائمہ سلیم نے کہا ہے کہ بھارت کا امن کا درس دینا مضحکہ خیز ہے، جو خود بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی، ہمسایوں کے خلاف جارحیت اور خطے میں ریاستی سرپرستی میں دہشت گردی کا مرتکب ہے۔
انہوں نے کہا کہ آزاد جموں و کشمیر اور بھارت کے غیر قانونی زیرِ قبضہ جموں و کشمیر کے حالات میں واضح فرق ہے۔
صائمہ سلیم نے کہا کہ ایک طرف سیاسی آزادی ہے اور دوسری طرف جبر، گرفتاریوں اور انسانی حقوق کی پامالیوں کا سلسلہ جاری ہے، حقوق کا استعمال اور حقوق سے محرومی ایک جیسی چیزیں نہیں ہو سکتیں۔
اقوامِ متحدہ میں پاکستانی کونسلر صائمہ سلیم نے کہا کہ افغان سرزمین سے حملوں کی منصوبہ بندی اور سہولت کاری ہوئی۔
انہوں نے کہا کہ کشمیری عوام کے ناقابلِ تنسیخ حقِ خودارادیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا، جموں و کشمیر نہ بھارت کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ داخلی معاملہ، بھارت کا انکار اس تنازع کی بین الاقوامی حیثیت تبدیل نہیں کر سکتا۔
قونصلر صائمہ سلیم نے کہا کہ بھارت خود مسئلہ کشمیر سلامتی کونسل میں لایا اور آج قراردادوں سے انحراف کر رہا ہے، مقبوضہ کشمیر میں جبر اور انسانی حقوق کی پامالیاں جاری ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ سندھ طاس معاہدے کی معطلی کا بھارتی فیصلہ بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہے، دریائے سندھ کا پانی زندگی کا ذریعہ ہے، جنگ کا ہتھیار نہیں۔
صائمہ سلیم نے یہ بھی کہا کہ بھارت سے منسلک دہشت گردی کے نیٹ ورک عالمی سطح تک پھیل چکے ہیں، بھارت میں ہندوتوا نظریات نے اسلاموفوبیا کو ریاستی پالیسی بنا دیا ہے۔