انتخابات میں الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں کا استعمال تمام سیاسی جماعتوں اور ارکان پارلیمنٹ کے وسیع البنیاد اتفاق رائے پر منحصر ہے، وفاقی وزیر ڈاکٹر طارق فضل چوہدری
اشاعت کی تاریخ: 12th, July 2025 GMT
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 12 جولائی2025ء) وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے کہا ہے کہ انتخابات میں الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں (ای وی ایم) کا استعمال تمام سیاسی جماعتوں اور ارکان پارلیمنٹ کے درمیان وسیع البنیاد اتفاق رائے پر منحصر ہے، اتفاق رائے کے بغیر یہ عمل آگے نہیں بڑھ سکتا۔
(جاری ہے)
ہفتے کو ایک انٹرویو میں وفاقی وزیر نے کہا کہ اس سلسلے میں کوئی جلدی نہیں کرنی چاہیے اور نتائج کو غور سے دیکھنے کی ضرورت ہے،یہ دیکھنا بھی ضروری ہے کہ عوام اور تمام سیاسی جماعتیں اس عمل پر کتنا اعتماد کرتی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ماضی میں بھی اس مسئلے پر اتفاق رائے پیدا کرنے کی کوششیں کی گئیں لیکن وہ کامیاب نہیں ہوسکیں۔انہوں نے کہا کہ یہ تجربہ نئے تنازعات کو جنم دے سکتا ہے جس کی وجہ سے سب کے لیے اکٹھا ہونا اور اتفاق رائے پیدا کرنا ضروری ہے۔انہوں نےزور دے کر کہا کہ پارلیمنٹ میں موجود تمام اراکین پارلیمان کا ایک پیج پر ہونا ضروری ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ مسلم لیگ ن جمہوریت پر یقین رکھتی ہے اور متوازن حکمت عملی اور سوچ سمجھ کر آگے بڑھے گی۔\932.
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے اتفاق رائے
پڑھیں:
کراچی: ہل پارک سے متصل متنازع پلاٹ پر تعمیرات کے معاملے پر میئر کراچی نے وفاقی حکومت کو خط لکھ دیا
کراچی میں ہل پارک سے متصل متنازع پلاٹ پر تعمیرات کے معاملے پر میئر کراچی مرتضیٰ وہاب نے وفاقی حکومت کو خط لکھ دیا۔
میئر کراچی نے وفاقی وزارت ہاؤسنگ اینڈ ورکس سے پلاٹ نمبر 39-G-4 کا مکمل ریکارڈ طلب کرتے ہوئے کہا ہے کہ 1959 کے اصل منظور شدہ پی ای سی ایچ ایس ماسٹر پلان میں پلاٹ نمبر 39-G-4 موجود نہیں تھا۔
مرتضیٰ وہاب کے مطابق ابتدائی جانچ میں متنازع مقام پر پانچ سو گز کا پلاٹ اصل منظور شدہ لے آؤٹ میں ظاہر نہیں ہوتا، جبکہ اصل ماسٹر پلان کے مطابق مذکورہ مقام پر صرف تقریباً دو سو گز بقایا اراضی بنتی ہے۔
یئر کراچی نے سوال اٹھایا کہ پانچ سو گز کا پلاٹ کس قانونی بنیاد پر ظاہر کیا گیا، متعلقہ حکام اس کی وضاحت فراہم کریں۔
خط میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ پلاٹ کے تمام ٹائٹل دستاویزات، الاٹمنٹ آرڈرز، لیز، میوٹیشن ریکارڈ، اصل اور نظرثانی شدہ لے آؤٹ پلانز سمیت تمام تبدیلیوں کی تفصیلات فراہم کی جائیں۔
میئر کراچی نے پلاٹ کی ملکیت، الاٹمنٹ ہسٹری، سروے تفصیلات، حدبندی کارروائی، ریگولرائزیشن، تبادلے، انضمام، سب ڈویژن یا ریکنسٹیٹیوشن سے متعلق تمام ریکارڈ بھی طلب کیا ہے۔
مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ ہل پارک سے متصل اراضی عوامی زمین میں شامل تھی یا نہیں، اس کی وضاحت بھی کی جائے، جبکہ ہل پارک، اوپن اسپیس، امنیٹی یا سرکاری زمین پر تجاوزات سے متعلق تفصیلات بھی فراہم کی جائیں۔
میئر کراچی کا کہنا ہے کہ عوامی مفاد اور بلدیاتی اثاثوں کے تحفظ کے لیے متنازع پلاٹ کی جامع تحقیقات ضروری ہیں اور ہل پارک سے متصل زمین کے تمام قانونی اور ملکیتی ریکارڈ کی فوری تصدیق کی جانی چاہیے۔
مرتضیٰ وہاب نے مطالبہ کیا کہ متنازع پلاٹ سے متعلق تمام حقائق اور دستاویزی شواہد فوری فراہم کیے جائیں، جبکہ کے ایم سی بلدیاتی اثاثوں اور عوامی سہولتوں کے تحفظ کے لیے قانون کے مطابق کارروائی کا حق محفوظ رکھتی ہے۔