میانمار میں فوجی حکومت کی بدھسٹ عبادت گاہ پر بمباری؛ 23 پناہ گزین ہلاک
اشاعت کی تاریخ: 12th, July 2025 GMT
میانمار کے علاقے ساگانگ میں فوج کے فضائی حملے میں بچوں سمیت متعدد افراد ہلاک ہوگئے جو اس عمارت میں پناہ لیے ہوئے تھے۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق ایک مقامی رہائشی نے تصدیق کی کہ بدھ مذہب کی عبادت گاہ کا ہال مکمل طور پر تباہ ہوگیا۔
اس ہال میں بچوں اور خواتین سمیت درجنوں افراد سو رہے تھے۔ جو مارچ میں 7.
پناہ لینے والوں کا خیال تھا کہ ایک عبادت گاہ ہونے کی وجہ سے یہ جگہ ان کے لیے فوجی حکومت اور مسلح مخالفین کے جھڑپوں کے دوران محفوظ ثابت ہوگی۔
بدھ پیروکار اس عبادت گاہ کو دنیا سے الگ تھلگ رہنے اور مراقبہ کے لیے استعمال کیا کرتے تھے۔
یاد رہے کہ 2021 میں فوجی قیادت نے جمہوری حکومت کو معزول کرکے اپنی حکومت بنالی تھی جس کے خلاف ملک کے حصوں میں مسلح جدوجہد بھی جاری ہے۔
فوجی حکومت ان کو علیحدگی پسند قرار دیکر فضائی حملوں سے بھی گریز نہیں کرتی اور ایسے کئی واقعات میں قیمتی جانوں کا نقصان ہوچکا ہے۔
فوجی حکومت جسے ’جنتا‘ کا نام دیا گیا ہے، کے ترجمان زو من تون نے ایسے کسی واقعے سے لاعلمی کا اظہار کیا ہے۔
انھوں نے کہا کہ اس حوالے سے ابھی تحقیقات جاری ہیں اور کوئی غفلت پائی گئی تو ذمہ داروں کو قرار واقعی سزا دلوائی جائے گی۔
یاد رہے کہ رواں برس مئی میں بھی فوجی حکومت نے ایک اسکول میں علیحدگی پسندوں کی موجودگی کی اطلاع پر فضائی حملے کیے تھے جس میں 20 طلبا اور 2 اساتذہ ہلاک ہوگئے تھے۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: فوجی حکومت عبادت گاہ
پڑھیں:
امریکی ایوان نمائندگان کی ٹرمپ کو ایران جنگ روکنے کی ہدایت، قرارداد منظور
امریکا کے ریپبلکن اکثریتی ایوان نمائندگان (ہاؤس آف ریپریزنٹیٹوز) نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے خلاف امریکی فوجی کارروائیاں روکنے کی ہدایت دینے والی قرارداد منظور کر لی جسے کانگریس کی جانب سے صدر ٹرمپ کے لیے ایک اور علامتی پیغام قرار دیا جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: آبنائے ہرمز میں کسی بھی جہاز پر حملہ ہوا تو ایران کا بنیادی ڈھانچہ تباہ کردیں گے، ڈونلڈ ٹرمپ کی دھمکی
قرارداد 214 کے مقابلے میں 208 ووٹوں سے منظور ہوئی جبکہ چار ریپبلکن ارکان نے بھی ڈیموکریٹس کا ساتھ دیتے ہوئے اس کی حمایت کی۔
یہ قرارداد واشنگٹن سے تعلق رکھنے والی ڈیموکریٹ رکن پرامیلا جے پال نے پیش کی جس میں صدر ٹرمپ کو ہدایت دی گئی ہے کہ کانگریس کی منظوری کے بغیر ایران کے خلاف امریکی مسلح افواج کی کارروائیاں بند کی جائیں۔
تاہم ماہرین کے مطابق اس قرارداد کی حیثیت زیادہ تر علامتی ہے، کیونکہ حالیہ مہینوں میں بھی کانگریس اس نوعیت کی متعدد قراردادیں منظور کر چکی ہے مگر ان کے نتیجے میں جنگی کارروائیاں نہیں رک سکیں۔
مزید پڑھیے: ایران مذاکرات کے لیے بے تاب، لیکن بامعنی بات چیت ہی ہوگی، ڈونلڈ ٹرمپ
قرارداد کی حمایت کرنے والے چار ریپبلکن ارکان میں ٹام بیریٹ (مشی گن)، برائن فٹزپیٹرک (پنسلوانیا)، وارن ڈیوڈسن (اوہائیو) اور تھامس میسی (کینٹکی) شامل ہیں۔
Today, the House PASSED my bipartisan War Powers Resolution to end the war in Iran by a vote of 214-208.
This is a big victory for the vast majority of Americans who want President Trump to end this illegal war and focus on their lives right here at home. pic.twitter.com/ZaE3NtTJdP
— Rep. Pramila Jayapal (@RepJayapal) July 23, 2026
اگرچہ ریپبلکن پارٹی کو ایوان نمائندگان اور سینیٹ دونوں میں معمولی برتری حاصل ہے تاہم اس قرارداد کی منظوری کو صدر ٹرمپ کی پالیسیوں پر اپنی ہی جماعت کے بعض ارکان کے تحفظات کی علامت بھی قرار دیا جا رہا ہے۔
ادھر امریکی سینیٹ میں بھی ایران سے متعلق ایک علیحدہ مگر ملتی جلتی قرارداد پر ووٹنگ متوقع تھی۔
یہ پیشرفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب صدر ٹرمپ نے ایران کے خلاف فوجی کارروائیوں میں مزید شدت لانے کا اعلان کیا ہے اور امریکی فوجیوں کی ہلاکتوں کی بھی تصدیق کی ہے۔
مزید پڑھیں: ایران کو ایک امریکی فوجی کے قتل کی کئی گنا زیادہ قیمت چکانی پڑےگی، ڈونلڈ ٹرمپ کی تہران کو وارننگ
صدر ٹرمپ نے جمعرات کو ایران اور اس کے اتحادی یمنی حوثی گروپ کو بڑی فوجی سزا دینے کا عندیہ دیا۔ دوسری جانب، عارضی جنگ بندی کے مؤثر طور پر ختم ہونے کے 2 ہفتے بعد امریکی فوج نے ایران پر ایک اور رات فضائی حملے کیے، جس کے جواب میں ایران نے پڑوسی ممالک میں قائم امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
امریکا امریکی ایوان نمائندگان ایران امریکا کشیدگی ٹرمپ کو جنگ روکنے کی ہدایت ڈیموکریٹ رکن پرامیلا جے پال ہاؤس آف ریپریزنٹیٹوز