بلوچستان میں 6 ماہ کے دوران دہشت گردی واقعات میں 257 افراد جان سے گئے
اشاعت کی تاریخ: 12th, July 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کوئٹہ: محکمہ داخلہ بلوچستان نے یکم جنوری سے 30 جون تک صوبے میں دہشت گردی واقعات پراعدادوشمار جاری کردیے۔
بلوچستان کے محکمہ داخلہ کے یکم جنوری سے 30 جون تک ششماہی اعداد وشمار کے مطابق بلوچستان میں دہشت گردی کے واقعات میں نمایاں تیزی رہی اور دہشت گردی کے واقعات میں 45 فیصد جبکہ سیٹلرز کی ٹارگٹ کلنگ میں 100فیصد اضافہ ہوا۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ بلوچستان میں رواں سال کے پہلے 6 ماہ کے دوران دہشت گردی کے 501 واقعات میں 133 اہلکاروں سمیت 257 افراد جاں بحق جبکہ 238 اہلکاروں سمیت 492 افراد زخمی ہوئے۔
رپورٹ کے مطابق رواں سال غیر مقامی افراد پر 14 حملے ہوئے جن میں 52 افراد جان سے گئے جبکہ 11 زخمی ہوئے، بم، دستی بم،آئی ای ڈی، بارودی سرنگ دھماکوں اور راکٹ فائر کے مجموعی طور پر 81 واقعات رونما ہوئے جن میں 26افرادجاں بحق اور 112 افراد زخمی ہوئے۔
گزشتہ 6 ماہ کے دوران عام شہریوں پر حملے کے 39 واقعات میں 11 افراد جاں بحق جبکہ 29 زخمی ہوئے، اسی عرصے کے دوران ٹرین پر دو حملوں میں 29 افراد جاں بحق ہوئے۔اس کے علاوہ پولیو ورکز پر ہونے والے ایک حملے میں ایک ورکر جان سے گیا جبکہ موبائل فون ٹاورز پر حملے کے 9 واقعات میں دو افراد زخمی ہوئے ۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: واقعات میں زخمی ہوئے کے دوران
پڑھیں:
کراچی میں گیس سلینڈر دھماکے سے تباہی، 1 جاں بحق
شہر قائد کے علاقے صفورا چورنگی سندھ گرین ہوٹل واٹر ہائیڈرنٹ کے قریب واقع ٹائر پنکچر اورگیس ویلڈنگ کی مشترکہ دکان میں دھماکے کے نتیجے میں ایک شخص جاں بحق اور5 افراد زخمی ہو گئے۔
تفصیلات کے مطابق ملیر کینٹ تھانے کے علاقے صفورا چورنگی سندھ گرین ہوٹل واٹرہائیڈرنٹ کے قریب واقع ٹائر پنکچر اورگیس ویلڈنگ کی مشترکہ دکان میں دھماکےمیں 6 افراد جھلس کر زخمی ہو گئے جنہیں فوری طور پرجناح اسپتال منتقل کیا گیا۔
اسپتال منتقلی کے بعد جھلس کر زخمی ہونے والا ایک شخص دوران علاج دم توڑ گیا، جس کی شناخت 35 سالہ وقاص کے نام سے ہوئی۔
حادثے میں زخمی ہونے والے دیگر افراد میں 10 سالہ سکندر، 40 سالہ اویس اور 30 سالہ عبدالحنان اورعابد شامل ہیں جبکہ ایک زخمی کی شناخت تاحال نہیں ہوسکی۔
ایس ایچ او ملیر کینٹ آغا عبدالرشید کے مطابق دھماکے میں جاں بحق ہونے والا وقاص پنکچرکی دکان کا مالک تھا۔ انہوں نے مزید بتایا کہ پنکچر کی دکان سے متصل گاڑیوں کے سینسر گیس ویلڈنگ کے ذریعے مرمت کاکام بھی ہوتا تھا جہاں ایک چھوٹا سلنڈر موجود تھا جوروز داردھماکے سے پھٹ گیا جس کے نتیجے میں ایک شخص جاں بحق اور 5 افراد زخمی ہوئے جنہیں فوری طورپراسپتال منتقل کردیا گیا۔
عینی شاہدین کے مطابق دھماکہ اتنا شدید تھا کہ دکان مکمل طور پرتباہ ہوگئی۔