جنوبی وزیرستان میں دہشت گردوں کے حملے میں زخمی ہونے والے ڈی ایس پی  شہید ہوگئے۔

تھانہ تولئی خولہ ضلع جنوبی وزیرستان لوئر میں چند دن قبل نامعلوم دہشت گردوں کے ایک بزدلانہ حملے میں زخمی ہونے والے مشن اسپتال پشاور میں زیر علاج ایس ڈی پی او برمل سرکل ڈی ایس پی رحمین خان شہید ہو گئے۔

شہید ڈی ایس پی رحمین خان کی نماز جنازہ ملک سعد شہید پولیس لائنز میں پورے سرکاری اعزاز کے ساتھ ادا کردی گئی، جس میں آئی جی خیبر پختونخوا ذوالفقار حمید ، سی سی پی او قاسم علی خان ، ایس ایس پی آپریشنز مسعود احمد ، پی ایس او ٹو آئی جی پی عمران خان ، ایس ایس پی انوسٹیگیشن نور جمال ، ایس پی ہیڈکوارٹرز علی گوہر سمیت شہید کے لواحقین اور پولیس افسران و جوانوں نے کثیر تعداد میں شرکت کی۔

آئی جی پی ذوالفقار حمید اور سی سی پی او قاسم علی خان نے جسد خاکی پر پھول چڑھائے اور شہید کے بلند درجات کے لیے دعا کی۔

آئی جی خیبرپختونخوا پولیس ذوالفقار حمید نے شہید کے لواحقین سے تعزیت کی اور  شہید ڈی ایس پی رحمین خان کی دلیری اور فرض شناسی کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ بزدلانہ حملے میں ملوث ملک دشمن عناصر کو کیفرکردار تک پہنچایا جائیگا۔

انہوں نے کہا کہ دہشت گرد عناصر اپنی بزدلانہ کارروائیوں سے پولیس فورس کے حوصلے پست نہیں کر سکتے بلکہ ہمارے حوصلے بلند ہیں۔ پولیس کو اپنے ایسے افسران پر فخر ہے جو امن و امان کے لیے دہشت گردوں کے سامنے سیسہ پلائی دیوار بن کر جوانمردی سے اپنے فرائض انجام دیتے ہوئے ان کے ناپاک عزائم خاک میں ملا رہے ہیں۔

دوسری جانب وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے جام شہادت نوش کرنے والے ڈی ایس پی رحمین خان کو خراج عقیدت پیش کیا۔ انہوں نے شہید کے اہل خانہ سے دلی ہمدردی و تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے  کہا کہ شہید ڈی ایس پی رحمین خان کی عظیم قربانی کو سلام  ہے، انہوں نے جان دے دی لیکن فرض  پر آنچ نہیں آنے دی۔

محسن نقوی کا کہنا تھا کہ شہید ڈی ایس پی رحمین خان جیسے بہادر سپوت خیبرپختونخوا پولیس کا فخر ہیں۔ خیبرپختونخوا پولیس کے جری افسروں اور جوانوں کی دہشتگردی کے خلاف جنگ میں لازوال قربانیوں کی کوئی نظیر نہیں ملتی۔ شہید ڈی ایس پی رحمین خان کے اہل خانہ کے ساتھ کھڑے ہیں اور ہمیشہ ساتھ کھڑے رہیں گے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: شہید ڈی ایس پی رحمین خان حملے میں شہید کے

پڑھیں:

سکیورٹی فورسز کی مختلف کارروائیوں میں 17 دہشت گرد جہنم واصل

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے مطابق بلوچستان کے مختلف اضلاع میں کارروائیوں کے دوران سکیورٹی فورسز نے دہشتگردوں کے ٹھکانوں کو مؤثر طریقے سے نشانہ بنایا۔ اسلام ٹائمز۔ آئی ایس پی آر کے مطابق 24 مئی ٹرین حادثے کے بعد سکیورٹی فورسز نے بلوچستان کے مختلف اضلاع میں میں انٹیلی جنس پر مبنی آپریشنز کئے، آپریشن کا سلسلہ مستونگ، نوشکی، زہری، خضدار اور کیچ میں شروع کیا گیا۔ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے مطابق کارروائیوں کے دوران سکیورٹی فورسز نے دہشتگردوں کے ٹھکانوں کو مؤثر طریقے سے نشانہ بنایا، شدید فائرنگ کے تبادلے میں ہندوستانی پراکسی فتنہ الہندوستان سے تعلق رکھنے والے 17 دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا گیا۔

آئی ایس پی آر کے مطابق ہلاک دہشت گردوں کے قبضے سے اسلحہ، گولہ بارود، دھماکہ خیز مواد اور دیسی ساختہ بم بھی برآمد ہوئے، ہلاک دہشت گرد علاقے میں دہشت گرد کی متعدد کارروائیوں میں ملوث تھے۔ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے مطابق علاقوں میں کلیئرنس آپریشنز جاری ہے، عزمِ استحکام کے تحت انسداد دہشتگردی مہم پوری قوت سے جاری رہے گی، ملک سے بیرونی سرپرستی میں ہونے والی دہشتگردی کا خاتمہ کیا جائے گا۔

متعلقہ مضامین

  • سرینڈر کا امریکی مطالبہ مسترد، ایران کا حملے کی صورت میں نئے محاذ کھولنے کا اعلان
  • کراچی میں فائرنگ سے باپ اور نوجوان بیٹا جاں بحق
  • سکیورٹی فورسز کی مختلف کارروائیوں میں 17 دہشت گرد جہنم واصل
  • صدر مملکت ، وزیر اعظم وفاقی وزیر داخلہ اور وزیر اعلیٰ سندھ  کا بھارتی سپانسرڈ دہشتگردوں کے خلاف آپریشنز پر سیکورٹی فورسز کی ستائش 
  • لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش
  • بلوچستان میں انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز، 17 دہشتگرد ہلاک
  • جنوبی پنجاب میں منکی پاکس کا پھیلاؤ، 4 مریض اسپتال داخل، الرٹ جاری
  • جاپان میں جنگلی ریچھ نے حملے کر کے چار افراد کو زخمی کر دیا
  • اوباڑو : تیز آندھی اور بارش کے باعث مختلف حادثات میں 50 کے قریب افراد زخمی
  • ورلڈ کپ تیاریوں کے لیے سست وکٹوں پر تنقید مسترد، مائیک ہیسن کا دوٹوک مؤقف