اداکارہ حمیرا اصغر کی 8 سے 10 ماہ پرانی لاش ان کے فلیٹ سے تین روز قبل ملی تھی اور آج تدفین بھی کردی گئی۔

اداکارہ حمیرا کی اندوہناک موت کے حوالے سے متضاد دعوے سامنے آ رہے ہیں۔ کبھی ان کی موت کو طبعی تو کبھی قتل قرار دیا جا رہا ہے۔

اس حوالے سے گزشتہ روز ایک شخص نے بھی عدالت میں مقدمہ درج کرانے کے لیے درخواست جمع کرائی تھی جس میں اداکارہ کے قتل ہونے کا دعویٰ کیا گیا تھا۔

شاہزیب سہیل نامی شہری نے درخواست میں مؤقف اختیار کیا تھا کہ حمیرا کے والدین کا اس سے قطع تعلق کرنا حیران کن بات ہے۔ 

درخواست میں کہا گیا تھا کہ پولیس نے بھی واقعہ کو تشویش ناک بتایا ہے۔ ایک معروف شوبز شخصیت ہونے کی وجہ سے یہ سماج سے جڑا اہم کیس بن گیا ہے۔

شہری نے استدعا کی کہ اس بہیمانہ موت پر اداکارہ کے اہل خانہ کو بھی شامل تفتیش کیا جائے، یہ طبعی موت نہیں بلکہ قتل ہے۔ جس کی تحقیقات کرائی جائیں۔

تاہم آج پولیس نے بتایا کہ شکایت کنندہ کا موبائل نمبر جعلی ہے وہ ایک دیہاتی خاتون کے نام ہے جنھیں اس نمبر کے بارے میں کچھ پتا نہیں۔

پولیس حکام کا مزید کہنا تھا کہ درخواست گزار کا اب تک کوئی سراغ نہیں لگایا جا سکا ہے اور ان کی فراہم کردہ ذاتی معلومات جھوٹی ہیں۔

پولیس حکام نے یہ نہیں بتایا کہ اب اس درخواست پر کسی قسم کی کارروائی کی جائے گی یا دراخوست کو رد کردیا جائے گا۔

خیال رہے کہ پوسٹ مارٹم کی ابتدائی رپورٹ میں تاحال موت کی وجہ کا تعین نہیں ہوسکا تاہم تشدد یا زہر دینے کے شواہد بھی نہیں ملے۔

یاد رہے کہ اداکارہ حمیرا اصغر کی لاش کراچی کے علاقے ڈیفنس سے ان کے فلیٹ سے ملی تھی جہاں وہ 2018 سے کرائے پر اکیلی رہ رہی تھیں۔

اداکارہ کا ستمبر 2024 سے کسی کے ساتھ کوئی رابطہ نہیں تھا اور مالک مکان نے بھی فلیٹ خالی کروانے کے لیے عدالت سے رجوع کر رکھا تھا۔

عدالت کے حکم پر جب بیلف فلیٹ خالی کروانے پہنچا تو بارہا دستک کے باجود دروازہ نہیں کھولا گیا۔ جس پر دروازہ توڑنا پڑا۔

جیسے ہی درواز ٹوٹا بدبو کا ایک بھپکا محسوس ہوا اور اداکارہ کی گلی سڑی لاش فرش پر پڑی ہوئی ملی۔ جو تقریباً 8 ماہ پرانی تھی۔

ابتدا میں ان کے اہل خانہ نے لاش وصول کرنے سے انکار کردیا تھا تاہم بعد میں پولیس کی درخواست پر ان کے بہنوئی اور بھائی لاش لینے کراچی پہنچے تھے۔

اداکارہ حمیرا اصغر ڈرائنگ اور آرٹ میں اعلیٰ تعلیم یافتہ اور ایک ماہر مصورہ اور مجسمہ ساز بھی تھیں۔ اُن کے انسٹاگرام پر فالوورز کی تعداد 7 لاکھ سے زائد تھی۔

اداکارہ شوبز کی دنیا میں نام کمانے کے لیے لاہور سے کراچی 2018 میں منتقل ہوئی تھیں۔ انھوں نے تماشا گھر اور فلم جلیبی (2015) سے شہرت حاصل کی۔

 

TagsShowbiz News Urdu.

ذریعہ

ذریعہ: Al Qamar Online

پڑھیں:

بجلی 1 روپیہ 73 پیسے مہنگی کرنے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ

فائل فوٹو

نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) نے 1 روپیہ 73 پیسے بجلی مہنگی کرنے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کرلیا۔

نیپرا نے ماہانہ ایڈجسٹمنٹ کی مد میں کراچی سمیت ملک بھر کےلیے بجلی 1 روپیہ 73 پیسے مہنگی کرنے کی درخواست پر سماعت کی۔

نیپرا اعلامیے کے مطابق سی پی پی اے کی اپریل کی ماہانہ ایڈجسٹمنٹ کی درخواست پر محفوظ فیصلہ بعد میں جاری کیا جائے گا۔

متعلقہ مضامین

  • رواں مالی سال کے دوران زرعی شعبے کی شرح نمو 2.9 فیصد، رقبہ کم ہونے کے باوجود پیداوار بہتر رہی
  • کراچی: سرجانی ٹاؤن میں فائرنگ سے باپ، بیٹا جاں بحق، دوسرا بیٹا زخمی
  • میرب علی سرجری کے بعد اسپتال منتقل، مداحوں سے صحت یابی کی دعاؤں کی اپیل
  • سپریم کورٹ: اے پی ایس شہداء لواحقین کو پیکیج نہ ملنے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب
  • مومنہ اقبال کے شوہر کون، تفصیلات سامنے آگئیں
  • شیخ رشید نے راولپنڈی ڈسٹرکٹ بار میں رکنیت بحالی کی درخواست جمع کرا دی
  • نیپرا، بجلی 1 روپیہ 73 پیسے مہنگی کرنے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ
  •  کاروباری عدم اعتماد، 80 فیصد اداروں کے سرمایہ کاری فیصلے موخر، اوورسیز چیمبر
  • بجلی 1 روپیہ 73 پیسے مہنگی کرنے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ
  • لاہور میں وین ڈرائیور سے بدتمیزی ٹریفک وارڈن کو مہنگی پڑ گئی