مولانا کے پی کی بجائے اپنے اندر تبدیلی لے آئیں تو بہت اچھا ہو گا: علی امین گنڈاپور
اشاعت کی تاریخ: 12th, July 2025 GMT
وزیرِ اعلیٰ خیبر پختون خوا علی امین گنڈا پور—فائل فوٹو
وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور کا کہنا ہے کہ عوام نے مولانا فضل الرحمان کو مسترد کیا ہوا ہے، مولانا کے پی کے میں تبدیلی لانے کی بجائے اپنے اندر تبدیلی لے آئیں تو بہت اچھا ہو گا۔
پارٹی رہنماؤں سےخطاب اور میڈیا سے بات چیت کے دوران وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان خود جعلی مینڈیٹ پر ہیں اور یہ ہمارے لیے باتیں کریں گے۔
ان کا کہنا ہے کہ مولانا فضل الرحمان کے ایک ایم این اے اور 2 ایم پی اے میرٹ پر ہیں، باقی سب فارم 47 پر ہیں، مولانا نے لوگوں کو گمراہ کیا، اس لیے اپنے حلقے سے نہ جیت سکے۔
علی امین گنڈاپور نے کہا کہ آج ہم مشاورت کے ساتھ عملی قدم سے آگے بڑھیں گے، آج لاہور سے ہم تحریک شروع کرنے جا رہے ہیں، جب بھی کوئی تحریک لاہور سے چلتی ہے وہ پورے پاکستان میں کامیاب ہوتی ہے۔
جے یو آئی کے سینیٹر کامران مرتضیٰ نے مولانا فضل الرحمٰن کے پی ٹی آئی میں اندرونی تبدیلی والے بیان کی وضاحت کرتے ہوئے کہا ہے کہ پی ٹی آئی علی امین کو وزیرِاعلیٰ کے عہدے سے ہٹاکر کسی اور کو لائے تو خیر مقدم کریں گے۔
انہوں نے کہا کہ ہمارا لیڈر بے گناہ جیل میں ہے، اس پر کوئی کیس نہیں ہے، اب ہمارا لائحہ عمل پاکستان کے حالات کے مطابق ہونا چاہیے، پنجاب کا خیبر پختونخوا سے موازنہ کریں گے تو یہ زیادتی ہو گی۔
علی امین گنڈاپور نے کہا کہ ہم نے 5 اگست تک اس تحریک کو پیک پر لے کر جانا ہے، یہ سوچنا ہوگا کہ وہ کیسے کرنا ہے۔
وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور نے رائے ونڈ روڈ پر فارم ہاؤس میں پارٹی رہنماؤں سے خطاب کے دوران کہا کہ میری اطلاع ہے کہ یاسر گیلانی سمیت تمام کارکنان کو پولیس نے چھوڑ دیا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ پنجاب اسمبلی کے اراکین کو معطل کرنا لاقانونیت ہے، اگر ایسا ہی کرنا ہے تو خیبر پختونخوا سے ان کے چیئرمین صاحبان کو فارغ کر دوں گا۔
علی امین گنڈاپور نے یہ بھی کہا کہ پنجاب حکومت کا اس وقت شکریہ ادا کروں گا، جب مجھے لاہور میں آئینی حق کے مطابق جلسہ کرنے کی اجازت دیں گے، اگر جلسے کی اجازت دیں تو صرف شکریہ نہیں بلکہ تحفہ بھی دوں گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: علی امین گنڈاپور نے خیبر پختونخوا مولانا فضل نے کہا کہ
پڑھیں:
جارحیت کی قیمت واشنگٹن کو بہت مہنگی پڑے گی، عباس عراقچی
تہران:ایران نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ممکنہ نئی فوجی کارروائی کے اشاروں پر سخت ردعمل دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ کسی بھی غیر ذمہ دارانہ عسکری اقدام کے نتائج امریکا کے لیے انتہائی مہنگے ثابت ہوں گے۔
ایرانی وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ امریکی انتظامیہ کے بعض بااثر حلقے زمینی حقائق کو نظر انداز کر رہے ہیں اور ان کی توجہ خطے کی موجودہ صورتحال کے بجائے 2028 کے صدارتی انتخابات پر مرکوز دکھائی دیتی ہے۔
مزید پڑھیںمشرق وسطیٰ کی صورتحال کنٹرول سے باہر ہوتی جارہی ہے، یو این سیکریٹری جنرل
انہوں نے کہا کہ واشنگٹن میں موجود کچھ عناصر حقیقت پسندانہ انداز میں حالات کا جائزہ لینے کے بجائے ایسے فیصلوں کی حمایت کر رہے ہیں جو خطے میں مزید کشیدگی کو جنم دے سکتے ہیں۔
ان کے بقول اگر امریکہ نے جذباتی یا غیر دانشمندانہ جارحیت کا راستہ اختیار کیا تو اس کی سیاسی اور سفارتی قیمت صدر ٹرمپ کو خود ادا کرنا پڑ سکتی ہے۔
عباس عراقچی کا کہنا تھا کہ طاقت کے استعمال یا دھمکیوں سے مسائل حل نہیں ہوں گے بلکہ اس سے خطے کی صورتحال مزید پیچیدہ اور خطرناک ہو جائے گی۔