Jasarat News:
2026-06-03@00:45:17 GMT

ہمارا کسی بڑی حقیقت سے گہرا تعلق نہیں

اشاعت کی تاریخ: 13th, July 2025 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

ہر سال محرم کا مہینہ آتا ہے تو ہمارے بعض احباب اس بات کو تواتر کے ساتھ دہراتے ہیں کہ امت مسلمہ نے امام حسینؓ اور ان کے خانوادے کی شہادت سے کچھ سیکھ کر نہیں دیا۔ ان کا اصرار ہے کہ شیعوں نے تو امام حسینؓ کی شہادت کو رونے دھونے کا ذریعہ بنالیا مگر سنّی تو اس سلسلے میں رونے دھونے سے بھی کم تر مقام پر کھڑے ہیں۔ ان کا یہ کہنا غلط نہیں مگر مسئلہ یہ ہے کہ فی زمانہ ہمارا کسی بھی بڑی حقیقت سے کوئی گہرا اور زندہ تعلق نہیں۔
مسلمانوں کے لیے سب سے بڑی اور سب سے اہم حقیقت خدا ہے، لیکن ایک ارب 80 کروڑ مسلمانوں میں اعشاریہ ایک فی صد مسلمان بھی ایسے نہیں ہیں جن کی زندگی ’’خدا مرکز‘‘ ہو۔ جہاں تک مسلمانوں کے بالائی طبقات کا تعلق ہے تو ان کا خدا امریکا اور یورپ ہے۔ وہ خدا سے اتنا نہیں ڈرتے جتنا امریکا اور یورپ سے ڈرتے ہیں۔ امریکا کے موجودہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایک عیاش آدمی ہیں اور وہ غزہ کے قتل عام کی پشت پناہی کررہے ہیں مگر وہ سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور قطر کے دورے پر گئے تو چار ہزار ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کے وعدے لے کر لوٹے۔ مسلم دنیا کے حکمرانوں کو دیکھا جائے تو وہ اپنے عوام کے لیے خدا بنے ہوئے ہیں اور مسلم دنیا کے عوام جتنا اپنے بادشاہوں، جرنیلوں اور سیاسی رہنمائوں سے ڈرتے ہیں اتنا وہ خدا سے نہیں ڈرتے۔ مصر کے ذرائع ابلاغ خواب میں بھی نہیں سوچ سکتے کہ وہ جنرل سیسی کے خلاف ایک لفظ بھی ادا کریں گے۔ سعودی عرب کے ذرائع ابلاغ میں ولی عہد محمد بن سلمان کے بارے میں ایک لفظ نہیں آسکتا۔ پاکستان میں کوئی جنرل عاصم منیر کے خلاف ایک لفظ لکھ سکتا ہے نہ آن ائر ہوسکتا ہے۔ البتہ مسلم دنیا میں خدا کے باغیوں کی تعداد کروڑوں میں ہے۔ بدقسمتی سے جو ’’خدا پرست‘‘ ہیں۔ ان کی خدا پرستی بھی پھسپھسی ہے۔ اسلام نے نماز کو دین کا ستون کہا ہے اور رسول اکرمؐ نے فرمایا ہے کہ نماز اس طرح پڑھو گویا تم خدا کو دیکھ رہے ہو یا کم از کم اس طرح تو پڑھو گویا خدا تمہیں دیکھ رہا ہے مگر ایک ارب 80 کروڑ مسلمانوں میں ’’شاید‘‘ پچاس سو ہی ایسے ہوں گے جو نماز میں خدا کو دیکھنے کی لذت کے حامل ہوں یا جو اس شعور کے ساتھ نماز ادا کرتے ہوں گے گویا خدا انہیں دیکھ رہا ہے۔ اس تناظر میں دیکھا جائے تو ہماری نمازیں تک نماز کہلانے کی مستحق نہیں ہیں۔ تجزیہ کیا جائے تو یہ حقیقت سامنے آتی ہے
کہ مسلمانوں کی عظیم اکثریت کے لیے خدا ایک ’’حقیقت‘‘ نہیں محض ایک تصور ہے۔ صرف ایک Concept۔ چنانچہ مسلمانوں کی عظیم اکثریت خدا سے نہیں اس کے تصور سے چمٹی ہوئی ہے۔ بدقسمتی سے اس چمٹنے میں بھی خوبصورتی اور گہرائی نہیں۔ سوال یہ ہے کہ جب ہمارا خدا ہی سے گہرا تعلق نہیں تو امام حسینؓ اور ان کے خانوادے سے ہمارا کیا گہرا تعلق ہوگا؟ یہاں ہمیں غالب اور ان کا تعلق بااللہ یاد آگیا۔ غالب کو خدا نے سات اولادیں دیں مگر ساتوں کی ساتوں مر گئیں۔ غالب نے ایک لڑکے کو گود لیا مگر وہ بھی جوانی میں فوت ہوگیا۔ اس کی موت پر غالب نے جو نوحہ لکھا اس کا ایک شعر دل دہلانے والا ہے۔
جاتے ہوئے کہتے ہو قیامت میں ملیں گے
کیا خوب قیامت کا ہے گویا کوئی دن اور
اس صورت حال کی وجہ سے غالب کو خدا سے شدید شکایت لاحق ہوئی اور انہوں نے یہ تک کہہ دیا۔
زندگی اپنی جو اس طور سے گزری غالب
ہم بھی کیا یاد کریں گے کہ خدا رکھتے تھے
مگر اس کے باوجود غالب نے خدا اور بندے کے تعلق پر ایک ایسا شعر کہا ہے کہ غالب محبت کے ساتھ خدا سے لپٹے ہوئے نظر آتے ہیں۔ انہوں نے کہا ہے۔
جان دی، دی ہوئی اُسی کی تھی
حق تو یہ ہے کہ حق ادا نہ ہوا
آج ہمارے درمیان ایسے لوگوں کا کال پڑا ہوا ہے جو خدا سے غالب کی طرح محبت کرسکتے ہوں۔ صاحبان و صاحبات اگر ہم خدا سے شدید اور گہری محبت نہیں کرسکتے تو امام حسینؓ سے کیا شدید اور گہری محبت کریں گے ۔
خدا کے بعد مسلمانوں کے لیے اہم ترین ہستی رسول اکرمؐ کی ہے۔ بقول شاعر
محمد مصطفی کہیے محمد مجتبیٰ کہیے
خدا کے بعد بس وہ ہیں اور ان کے بعد کیا کہیے
جس طرح ہم خدا کے لیے کوئی بھی قربانی دے سکتے ہیں اسی طرح ہم رسول اکرمؐ پر اپنا سب کچھ نچھاور کرسکتے ہیں۔ مگر رسول اکرمؐ سے مسلمانوں کی عظیم اکثریت کا یہ تعلق ہے کہ وہ رسول اکرمؐ کے لیے جان دے سکتے ہیں مگر آپؐ کا ’’اتباع‘‘ نہیں کرسکتے۔ دیکھا جائے تو رسول اکرمؐ کا اتباع ہی ہمارے تعلق بالرسول کا بلند ترین نقطہ ہے۔ مسلمانوں کا رسول اللہؐ سے ’’اتباع‘‘ کے دائرے میں کیا تعلق ہے اس کی ایک مثال ہم آپ کے سامنے رکھتے ہیں۔ رسول اکرمؐ نے دنیا کے بارے میں فرمایا کہ اگر دنیا مچھر کے پر کے برابر بھی اہم ہوتی تو کافروں اور مشرکوں کا اس میں کوئی حصہ نہ ہوتا۔ اسی طرح سیرت طیبہ کا ایک مشہور واقعہ ہے کہ رسول اکرمؐ صحابہ کے ساتھ کہیں جارہے تھے کہ راستے میں بکری کا ایک مرا ہوا بچہ ملا۔ رسول اکرمؐ اسے دیکھ کر ٹھیر گئے۔ صحابہ بھی کھڑے ہوگئے۔ رسول اکرمؐ نے صحابہ سے کہا کہ کیا تم میں سے کوئی بکری کے اس مرے ہوئے بچے کو خریدنا پسند کرے گا۔ صحابہ نے کہا ایک تو یہ بچہ ہے اوپر سے مرا ہوا ہے ہم تو اسے مفت بھی لینا پسند نہیں کریں گے۔ رسول اکرمؐ نے فرمایا کہ یاد رکھو دنیا بکری کے اس مرے ہوئے بچے سے زیادہ حقیر ہے۔ آپ نے دیکھا رسول اکرمؐ کے نزدیک دنیا کتنی ’’معمولی چیز‘‘ ہے مگر مسلمانوں کی اکثریت خدا اور رسول کے بجائے دنیا کی محبت میں گلے گلے تک ڈوبی ہوئی ہے۔ ایک ارب 80 کروڑ مسلمانوں میں ایک ارب 99 کروڑ 99 لاکھ مسلمان دنیا کھا رہے ہیں۔ دنیا پی رہے ہیں۔ دنیا بچھا رہے ہیں۔ دنیا اوڑھ رہے ہیں۔ انہیں دنیا سے محبت نہیں عشق ہے۔ کوئی دولت کے عشق میں مبتلا ہے۔ کوئی طاقت کے عشق میں گرفتار ہے۔ کوئی عہدوں اور مناصب کا دیوانہ ہے۔ کوئی دنیا کی شہرت پر فدا ہے۔ اس سلسلے میں بالائی، متوسط یا زیریں طبقے کی کوئی تخصیص نہیں ہر طبقہ دنیا کے عشق میں مبتلا ہے۔ حد تو یہ ہے کہ مسلم دنیا کے شاعرو ادیب، دانش ور اور اساتذہ حد یہ کہ علماء تک دنیا کی محبت میں مبتلا ہیں۔ کسی کو یاد نہیں کہ اس سلسلے میں رسول اللہ نے کیا فرمایا تھا۔ کسی کو یاد نہیں کہ رسول اکرمؐ نے کس طرح دنیا سے بے نیاز ہو کر زندگی بسر کی۔ کسی کو یاد نہیں کہ اللہ نے رسول اکرمؐ سے فرمایا کہ اگر آپ کہیں تو ہم احد پہاڑ کو آپ کے لیے سونے کا بنا دیں تو رسول اکرمؐ نے فرمایا کہ نہیں میں یہ چاہتا ہوںکہ ایک دن پیٹ بھر کر کھانا کھائوں تا کہ شکر کر سکوں اور دوسرے دن بھوکا رہوں تا کہ صبر کر سکوں۔ یعنی رسول اکرمؐ کی زندگی صبر اور شکر کے درمیان تھی مگر پوری امت کی زندگی دنیا کی طلب اور مزید طلب کے درمیان ہے۔ چنانچہ صاحبان و صاحبات اگر ہم رسول اکرمؐ کا اتباع نہیں کر سکتے تو امام حسینؓ کا اتباع کیسے کریں گے؟
مسلمانوں کے لیے خدا اور رسول اللہ کے بعد اہم ترین متاع قرآن مجید ہے۔ قرآن مجید سے مسلمانوں کے تعلق کے چار تقاضے ہیں۔
1۔ قرآن کی تلاوت کرنا۔
2۔ قرآن کو سمجھنا۔
3۔ قرآن کی تعلیم پر عمل کرنا۔
4۔ قرآن کو پورے عالمی نظام پر غالب کرنا۔
لیکن مسلمانوں کی عظیم اکثریت تو قرآن کو پڑھتی ہی نہیں۔ مسلمانوں میں ناخواندگی کی شرح بلند ہے۔ مسلمانوں کی پچاس ساٹھ فی صد تعداد کو ناظرہ قرآن کی نعمت بھی میسر نہیں آپاتی۔ جو لوگ قرآن پڑھ لیتے ہیں کہ ان کی عظیم اکثریت کبھی پورے قرآن کو ترجمے کے ساتھ نہیں پڑھتی چنانچہ 80 فی صد مسلمانوں کو معلوم ہی نہیں کہ قرآن میں اللہ نے انسانوں اور مسلمانوں سے مخاطب ہو کر کیا کہا ہے؟ اس سے بھی بڑی بدقسمتی یہ ہے کہ جو لوگ قرآن کو ترجمے سے پڑھ لیتے ہیں ان کی عظیم اکثریت قرآن پر عمل نہیں کرتی۔ مسلمانوں میں قرآن کی تفہیم کے حوالے سے ایسے لوگ تو آٹے میں نمک کے برابر ہیں۔ جنہوں نے قرآن کی کسی تفسیر کا مطالعہ کیا ہو گا۔ رہے وہ لوگ جو قرآن کے علم کو پوری دنیا اور پورے عالمی نظام پر غالب کرنے کی جدوجہد کر رہے ہیں تو ایسے لوگ مسلمانوں کا ایک فی صد بھی نہیں۔ قرآن مسلمانوں کو باطل کی مزاحمت پر مائل کرتا ہے مگر مسلمانوں کی حالیہ تاریخ میں باطل کی مزاحمت کا حق یا تو افغان مجاہدین نے سوویت یونین کی مزاحمت کر کے ادا کیا ہے۔ یا طالبان نے امریکا کو شکست سے دوچار کر کے اس حق کو ادا کرنے کا عملی ثبوت دیا ہے یا اب حماس غزہ میں اسرائیل کی مزاحمت کر کے یہ حق ادا کر رہی ہے۔ اس کے سوا پورے عالم اسلام میں سناٹے کا راج ہے۔ سوال یہ ہے کہ جن مسلمانوں کو قرآن کے تقاضے یاد نہیں انہیں امام حسینؓ کی شجاعت اور شہادت کیا یاد رہے گی؟ سوال یہ ہے کہ ہمارا کسی بھی بڑی حقیقت سے گہرا اور زندہ تعلق کیوں نہیں ہے؟ اس سوال کاجواب اقبال نے مدرسے اور خانقاہ کے حوالے سے اپنے ایک شعر میں دیا ہے۔ اقبال نے کہا ہے؎
اٹھا میں مدرسہ و خانقاہ سے غم ناک
نہ زندگی، نہ محبت، نہ معرفت، نہ نگاہ

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: مسلمانوں کی عظیم اکثریت تو امام حسین مسلمانوں کے کی مزاحمت مسلم دنیا رسول اکرم فرمایا کہ یاد نہیں قرا ن کی قرا ن کو یہ ہے کہ نہیں کر نہیں کہ دنیا کی رہے ہیں جائے تو ایک ارب کریں گے دنیا کے کہا ہے نہیں ا خدا کے کا ایک کے بعد اور ان ہیں کہ کے لیے

پڑھیں:

سرمایہ کاری نہیں قرضے ترجیح کب تک

حکمران اکثر یہ بات کرتے رہتے ہیں کہ ہمیں قرضے نہیں سرمایہ کاری درکار ہے بلکہ ایسے بیانات مسلسل آتے رہے ہیں اور آئی ایم ایف کے مطالبات پر حکومت فوری رضامندی بھی ظاہر کر دیتی ہے تاکہ قرض کی منظوری میں تاخیر نہ ہو۔ قرض منظوری کے بعد ایسے بیانات جاری ہوتے ہیں جیسے بہت بڑا معرکہ سر کر لیا ہو۔ مطلب یہ ہے کہ ہمیں قرض کے حصول کے لیے آئی ایم ایف کی ہر شرط ماننا اور بے انتہا کوشش کے بعد قرض حاصل کرنے میں کامیابی حاصل ہوتی ہے۔

ملک کو اس حالت میں پہنچایا جا چکا ہے کہ خود انحصاری کی منزل بہت دور ہوگئی ہے ۔ پاکستان کی ہر حکومت نے آئی ایم ایف کی ہر بات مانی لیکن خود انحصاری کی منزل نہ مل سکی۔ غیر سیاسی وزیر خزانہ بھی اس امید پر لائے گئے کہ ان کی کوشش سے ملک خود انحصاری کی طرف بڑھے گا اور غیر ملکی قرضوں کے مزید حصول کی کوشش نہیں ہوگی لیکن سب نے اپنا اولین مقصد مزید قرضے حاصل کرنا بنا رکھا ہے اور آئی ایم ایف کو ہر ممکن طریقے سے مزید قرض دینے پر آمادہ کرنا رہ گیا ہے ۔

اب بھی پاکستان کے لیے آئی ایم ایف کا مزید قرضہ منظور کرا لیا گیا ہے جس کا حکومتی حلقے پرجوش خیر مقدم کررہے ہیں۔ ہر وزیر خزانہ کے بارے میں یہ دعویٰ سننے میں آتا رہاکہ وہ آئی ایم ایف سے معاملات طے کرنے کا وسیع تجربہ رکھتے ہیں، لیکن معاملہ مرض بڑھتا ہی گیا جوں جوں دوا کی جیسا ہی رہا۔ آئی ایم ایف سے جان نہیں چھوٹ رہی بلکہ آئی ایم ایف مزید شرائط سخت کرتا جا رہا ہے اور حکومت کو پرانے قرضوں پر سود ادا کرنے کے لیے مزید قرضے لینا پڑ رہے ہیں۔

آئی ایم ایف اپنی ہر شرط منوا رہا ہے اور حال ہی میں آئی ایم ایف نے پٹرولیم لیوی ہدف میں 18 فی صد اضافے کا کہا ہے جب کہ حکومت نے یہ لیوی آئی ایم ایف کے مطالبے سے بھی بہت زیادہ بڑھا رہی ہے مگر آئی ایم ایف ہے کہ مطمئن ہی نہیں ہوتا۔ آئی ایم ایف نے قرض دینے کے لیے کبھی یہ شرط نہیں رکھی کہ پاکستانی حکومت اپنے شاہانہ اخراجات اور حکومتی افراد کے غیر ملکی دورے کم کرکے اپنی آمدنی کے مطابق اخراجات کم کرے تاکہ اسے مزید قرضے نہ لینا پڑیں۔

موجودہ حکومت کی طرف سے پی ٹی آئی حکومت پر الزام لگایا جاتا ہے کہ اس نے سب سے زیادہ غیر ملکی قرضے لیے اور اقتدار جاتا دیکھ کر آئی ایم ایف کو مزید ناراض کرنے کے فیصلے کیے تھے جس پر نئی حکومت کو غیر ملکی قرضوں کے حصول کے لیے سخت محنت کرنا پڑی تھی اور چار سال سے عوام سرکاری طور یہ دعوے ہی سنتے آ رہے ہیں کہ ہمیں قرضے نہیں غیر ملکی سرمایہ کاری چاہیے۔

یہ دعوے صرف دکھاوے کے لیے ہیں اور حکومت کی اولین ترجیح غیر ملکی قرضوں اور امداد کا حصول رہی ہے۔ حکومت پاکستان کو قرضے مانگنے کی عادت چھوڑدینی چاہیے اور اپنے پیروں پر کھڑے ہونے اور اپنے حاصل مالی وسائل استعمال کرکے خود انحصاری کی عملی کوشش کرنے پر توجہ دینی چاہیے۔ ملکی صنعتوں اور غریبوں پر ٹیکسوں کی بھرمار ہے اور جو تنخواہ دار طبقہ ٹیکسز کے شکنجے میں پہلے سے پھنسا ہوا ہے اس پر اور عوام پر مزید ٹیکس بڑھا دیے گئے ہیں۔

حکومتی ٹیکسوں کی بھرمار، مہنگی بجلی و گیس پر فکسڈ چارجز لگا کر بھی حکومت مطمئن نہیں۔ عوام بجلی نہ بھی استعمال کریں اور سولر سسٹم لگائیں وہ بھی حکومت کو قبول نہیں۔ بجلی پر پہلے ہی بے شمار ٹیکس لگے ہوئے ہیں اس پر کم سے کم بجلی استعمال پر فکسڈ چارجز دو ماہ بعد ہی چھ سو سے نو سو روپے ماہانہ کر دیے گئے ہیں۔ فکسڈ چارجز سے آمدنی بڑھانے کا نیا طریقہ ایجاد کر لیا گیا ہے۔

عوام سانس لینے اور سڑکیں ضرور مفت استعمال کر رہے ہیں اور ہر چیز پر ٹیکس متعلقہ اداروں کو ادا کر رہے ہیں اور وزارت خزانہ ایک ہزار روپے معاوضہ لینے والوں سے بھی ڈیڑھ سو روپے ٹیکس لے رہا ہے اور بیس ہزار ماہانہ کمانے والوں سے بھی تین ہزار روپے لیے جا رہے ہیں جو حکومتی مظالم کی انتہا ہے پھر بھی حکومتی رونا ختم ہونے میں نہیں آتا اور عوام پر جھوٹا الزام کہ وہ ٹیکس نہیں دیتے۔

بڑے تاجروں سے انکم ٹیکس وصولی اور ہر سال اپنے اہداف وصولی میں ناکامی سرکار کا قصور ہے سرکاری ادارے اپنے اہداف حاصل کرنے میں ناکام ثابت ہو چکے ہیں۔ حکومت دکھاوے کی حد تک سرمایہ کاری کو اپنی ترجیح قرار تو دیتی ہے مگر عملی طور ایسا نہیں کر رہی اور اس کی ترجیح اب بھی غیر ملکی قرضوں اور امداد کا حصول ہے۔

وزیر توانائی نے کہا ہے کہ قابل تجدید توانائی کے لیے تین سو ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کی ہمیں ضرورت ہے۔ ملکی صنعتوں پر پہلے سے ٹیکسوں کی بھرمار ہے ، نئی سرمایہ کاری کہاں سے آئے گی۔ صنعتیں باہر سے کون لائے گا یہاں تو ملکی سرمایہ بیرون ملک منتقل کیا جا رہے ہے تو یہاں بیرونی سرمایہ کار کیوں آنا چاہیں گے۔ نجیبجلی کمپنیوں کو نوازنا جاری ہے ۔ ایک مخصوص طبقے کو ٹیکسوں پر چھوٹ دی جارہی ہے، جب کہ عام لوگوں کو حکومت ریلیف کیا دے گی ،اسے تو طاقتوروں کو ٹیکسوں سے چھوٹ دینے سے ہی فرصت نہیں مل رہی۔

متعلقہ مضامین

  • سرمایہ کاری نہیں قرضے ترجیح کب تک
  • ناتمام (آخری قسط)
  • جو زہر ہم ہوا میں بو رہے ہیں
  • مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی دراندازی: پاکستان سمیت 8 ممالک کا شدید ردعمل، پورا حرم صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ قرار
  • ہمارا ایک مطالبہ ہے بانی کو شفا انٹرنیشنل منتقل کیا جائے، سہیل آفریدی
  • اٹلی میں4 پاکستانیوں کے قتل کے الزام میں 2 پاکستانی گرفتار
  • حکمران ہم سے خوفزدہ، ہمارا فوکس بانی پی ٹی آئی کی رہائی ہے، علیمہ خان
  • ہمیں پتہ ہے یہ ڈرے ہوئے ہیں، ہمارا فوکس بانی پی ٹی آئی کی رہائی ہے، علیمہ خان
  • وفاقی بجٹ5جون کو پیش نہیں کیا جائے گا
  • مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی؟ حقیقت سامنے آگئی