— فائل فوٹو 

سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو وائرل ہو رہی ہے جس میں یہ دعویٰ کیا گیا ہے کہ حکومت نے ماہانہ 40 ہزار روپے سے کم آمدنی والے لوگوں کے لیے ایک نیا پروگرام متعارف کروایا ہے جس کے تحت ایسے افراد کو جون سے ہر ماہ 2 ہزار روپے کا نقد وظیفہ ملے گا۔

سوشل میڈیا پر 23 جون سے زیر گردش اس ویڈیو میں دعویٰ کیا گیا کہ 40 ہزار روپے سے کم ماہانہ آمدنی والے افراد کو وفاقی حکومت  کی جانب سے ہر ماہ 2 ہزار روپے ملیں گے۔ 

اس ویڈیو میں ایک نجی نیوز چینل کا نیوز بلیٹن شامل ہے جس میں نیوز اینکر اس نئی اسکیم کا اعلان کرتی ہے۔

اس حوالے سے بےنظیر انکم سپورٹ پروگرام (BISP) اور وفاقی وزارت خزانہ کے حکام نے تصدیق کی ہے کہ حکومت نے ایسی کسی بھی نئی اسکیم کا اعلان نہیں کیا، جو ویڈیو سوشل میڈیا پر گردش کر رہی ہے وہ 2022ء کی ہے۔

1000 روپے کا نیا نوٹ، سوشل میڈیا پر زیر گردش دعوؤں کی حقیقت کیا ہے؟

مختلف سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر ویڈیوز اور تصاویر وائرل ہو رہی ہیں جس میں دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے 1000 روپے کے نئے ڈیزائن کے کرنسی نوٹ جارہی کئے ہیں۔

وزارت خزانہ کے ترجمان نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر ’جیو فیکٹ چیک‘ کو بتایا کہ وزارت خزانہ کو ایسے کسی اعلان کا علم نہیں ہے۔ 

انہوں نے ’جیو فیکٹ چیک‘ کو اس حوالے سے بی آئی ایس پی کے حکام سے رابطہ کرنے کی ہدایت کی، جو حکومت کی جانب سے غربت کے خاتمے کے لیے شروع کیے جانے والے پروگرامز پر عمل درآمد کروانے کا ذمہ دار ہے۔

جس کے بعد ’جیو فیکٹ چیک‘ نے بی آئی ایس پی کے سیکریٹری کے اسٹاف آفیسر محمد طارق سے رابطہ کیا تو اُنہوں نے تصدیق کر دی کہ وفاقی حکومت نے ایسی کسی اسکیم کا اعلان نہیں کیا ہے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ بی آئی ایس پی کے ساتھ رجسٹرڈ افراد صرف اپنی مقررہ رقم وصول کر سکتے ہیں لیکن اُنہیں کوئی اضافی فنڈز نہیں دیا جا رہا۔

بعد ازاں، جیو فیکٹ چیک کو مزید تحقیق کے بعد معلوم ہوا کہ سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی یہ ویڈیو دراصل 29 مئی 2022ء کی ہے۔

2022ء میں اس وقت کی حکومت نے پٹرولیم کی قیمتوں میں اضافے سے نمٹنے کے لیے 40 ہزار روپے سے کم آمدنی والوں کو 2 ہزار روپے ماہانہ سبسڈی دینے کے لیے اس طرح کے پروگرام کا اعلان کیا تھا۔

ذیل میں اس اسکیم کے بارے میں 2022ء میں شائع ہونے والا اشتہار دیکھا جا سکتا ہے۔

حکومت پاکستان کی سستا پٹرول سستا ڈیزل اسکیم— 2022ء میں شائع ہونے والا اشتہار 

اس دعوے میں کوئی سچائی نہیں ہے کیونکہ یہ اسکیم پرانی ہے اور حکومت نے اسے دوبارہ شروع نہیں کیا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jang News

کلیدی لفظ: سوشل میڈیا پر جیو فیکٹ چیک ہزار روپے کا اعلان حکومت نے کے لیے

پڑھیں:

روس سے طالبان کے بڑھتے روابط پر افغان سوشل میڈیا میں بحث، ملا عمر کی جدوجہد اور موجودہ پالیسیوں کا موازنہ

طالبان حکومت اور روس کے درمیان حالیہ سفارتی و سیکیورٹی روابط کے تناظر میں افغان سوشل میڈیا پر ایک نئی بحث نے جنم لے لیا ہے، جہاں متعدد صارفین اور سیاسی مبصرین طالبان کے بانی ملا عمر کی سوویت یونین کے خلاف جدوجہد اور موجودہ طالبان قیادت کے روس کے ساتھ تعلقات کو موضوعِ بحث بنا رہے ہیں۔

سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر گردش کرنے والی مختلف پوسٹس، تبصروں اور سیاسی خاکوں میں دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ ملا عمر نے افغانستان کی آزادی اور خودمختاری کے لیے سوویت افواج کے خلاف طویل جدوجہد کی تھی، جبکہ آج ان کے صاحبزادے اور طالبان حکومت کے وزیر دفاع ملا محمد یعوقب روس کے ساتھ تعلقات کو فروغ دے رہے ہیں۔ ناقدین اس صورتحال کو ’تاریخی تضاد‘ قرار دیتے ہوئے سوال اٹھا رہے ہیں کہ کیا موجودہ پالیسی طالبان کی ماضی کی جدوجہد سے مطابقت رکھتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:بہت ہوگیا، اب افغان طالبان کی تجاویز نہیں حل چاہیے، اور حل ہم نکالیں گے: ڈی جی آئی ایس پی آر

سوشل میڈیا پر شیئر کی جانے والی ایک تحریر میں کہا گیا ہے کہ سوویت جنگ کے دوران ہزاروں افغان شہری جانوں سے گئے، دیہات تباہ ہوئے اور کئی نسلیں جنگ کے اثرات کا شکار رہیں۔ اس تناظر میں بعض حلقے روس کے ساتھ بڑھتے تعلقات پر تحفظات کا اظہار کر رہے ہیں اور سوال اٹھا رہے ہیں کہ کیا افغانستان اپنی تاریخ کے تلخ اسباق کو فراموش کر رہا ہے۔

بعض پوسٹس میں طالبان حکومت اور روس کے درمیان مبینہ سیکیورٹی تعاون کے دعوے بھی کیے گئے ہیں۔ ان دعوؤں کے مطابق روس اور طالبان کے درمیان عسکری شعبے میں روابط بڑھ رہے ہیں، تاہم ان اطلاعات کی آزاد ذرائع سے مکمل تصدیق نہیں ہو سکی۔ طالبان حکام بھی اس حوالے سے مختلف مواقع پر یہ مؤقف اختیار کرتے رہے ہیں کہ ان کے خارجہ تعلقات قومی مفادات اور موجودہ علاقائی ضروریات کے مطابق استوار کیے جا رہے ہیں۔

سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ افغانستان گزشتہ کئی دہائیوں سے عالمی طاقتوں کی رقابتوں کا مرکز رہا ہے۔ سوویت یونین کے انخلا، امریکی مداخلت اور بعد ازاں طالبان کی واپسی کے بعد خطے کی جغرافیائی سیاست میں مسلسل تبدیلیاں رونما ہو رہی ہیں۔ ایسے میں طالبان حکومت کی روس، چین اور دیگر علاقائی طاقتوں کے ساتھ بڑھتی قربت کو بعض ماہرین ایک سفارتی ضرورت قرار دیتے ہیں، جبکہ ناقدین اسے ماضی کے نظریاتی مؤقف سے انحراف کے طور پر دیکھتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:افغان طالبان ہماری تجاویز سے متفق مگر تحریری معاہدہ کرنے پر تیار نہیں، رانا ثنااللہ

دوسری جانب طالبان کے حامی حلقوں کا مؤقف ہے کہ بین الاقوامی تعلقات مستقل دشمنی یا دوستی کے بجائے قومی مفادات کی بنیاد پر استوار ہوتے ہیں۔ ان کے مطابق موجودہ افغانستان کو معاشی استحکام، سفارتی روابط اور علاقائی تعاون کی ضرورت ہے، جس کے لیے مختلف ممالک کے ساتھ تعلقات ناگزیر ہیں۔

افغان سوشل میڈیا پر جاری اس بحث نے ایک بار پھر یہ سوال زندہ کر دیا ہے کہ بدلتے عالمی حالات میں نظریاتی جدوجہد اور عملی سیاست کے درمیان توازن کیسے برقرار رکھا جائے۔ ملا عمر کی تاریخی جدوجہد اور موجودہ طالبان قیادت کی سفارتی حکمت عملی کے درمیان موازنہ آنے والے دنوں میں بھی سیاسی اور عوامی حلقوں میں زیر بحث رہنے کا امکان ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

متعلقہ مضامین

  • ڈیٹا لیک ہونے کی خبریں؛ہائر ایجوکیشن کمیشن کی وضاحت آگئی
  • انتقال کی خبریں بے بنیاد،طاہرہ سید نے ویڈیو پیغام جاری کر دیا
  • طاہرہ سید کے انتقال کی افواہیں، گلوکارہ کا ویڈیو پیغام سامنے آگیا
  • مزدوروں کیلئے خوشخبری، کم از کم ماہانہ اجرت 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز
  • روس سے طالبان کے بڑھتے روابط پر افغان سوشل میڈیا میں بحث، ملا عمر کی جدوجہد اور موجودہ پالیسیوں کا موازنہ
  • حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا
  • میں بالکل ٹھیک اور صحت مند ہوں؛گلوکارہ طاہرہ سید کی سوشل میڈیا افواہوں کی تردید
  • معروف میکسیکن انفلوئنسر گھر میں مردہ پائی گئیں، قتل کا شبہ
  • مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی؟ حقیقت سامنے آگئی
  • میئر لندن، 16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت