مودی حکومت کی معاشی پالیسیوں کیخلاف لاکھوں مزدور سڑکوں پر آگئے، بھارت بھر میں ہڑتال
اشاعت کی تاریخ: 10th, July 2025 GMT
بھارت بھر میں بدھ کے روز لاکھوں مزدوروں نے وزیرِاعظم نریندر مودی کی معاشی اصلاحات اور سرکاری اداروں کی نجکاری کے خلاف ایک روزہ ہڑتال کی، جس کے باعث کئی علاقوں میں ٹرانسپورٹ، بینکاری اور صنعتوں کی سرگرمیاں متاثر ہوئیں۔
یہ بھی پڑھیں:کانگریس رہنما مانی شنکر آئر نے مودی کو بھارت کی تاریخ کا بدترین وزیرِاعظم قرار دیدیا
ہڑتال کی کال 10 بڑی مزدور تنظیموں اور کسانوں و دیہی کارکنوں کی تنظیموں کے اتحاد نے کی جانب سے دی گئی، جسے ’بھارت بند‘ یعنی ’بھارت کو بند کرو‘ کا نام دیا گیا۔
مظاہرین کا کہنا تھا کہ حکومت نئے مزدور قوانین کے ذریعے کام کرنے والوں کے حقوق محدود کر رہی ہے اور عوامی اداروں کو سرمایہ داروں کے ہاتھ فروخت کر رہی ہے۔ کئی ریاستوں میں کوئلے کی کانوں کا کام رک گیا، بعض ٹرینیں بند رہیں، جب کہ بینکوں، انشورنس کمپنیوں اور مارکیٹوں میں بھی خلل آیا۔
مظاہرین نے دہلی، کولکتہ اور ممبئی سمیت کئی شہروں میں نریندر مودی کی پُتلا نذر آتش کیا، ریلوے اسٹیشنوں پر احتجاج کیا اور ’ریلوے نہ بیچو‘ اور ’مزدوروں کے حقوق ختم نہ کرو” جیسے نعرے لگائے۔
یہ بھی پڑھیں:مودی سرکار کا ’اذان‘ پر نیا وار، مساجد کے لاؤڈ اسپیکر پر پابندی
طلبہ رہنما آئشے گھوش نے کہا کہ آج بھارت میں مزدوروں کی محنت کی کوئی قدر نہیں، جب چاہیں کسی کو نوکری سے نکال دیا جاتا ہے، جب کہ حکومت کو ان کے مسائل کی کوئی پرواہ نہیں۔
کمیونسٹ پارٹی کے رہنما راجندر پراتھولی نے الزام لگایا کہ مودی حکومت نے صنعتی اداروں کو خوش کرنے کے لیے مزدوروں کو ملنے والی سہولیات چھین لی ہیں۔
مظاہرین کا مطالبہ ہے کہ مزدوروں کی تنخواہوں میں اضافہ کیا جائے، سرکاری اداروں کی نجکاری بند کی جائے، نئے لیبر قوانین کو واپس لیا جائے اور سرکاری شعبے میں خالی آسامیوں پر بھرتی کی جائے۔ کسان تنظیموں نے بھی کم از کم فصل خریداری قیمت بڑھانے کا مطالبہ کیا۔
ادھر حکومت کی جانب سے تاحال کوئی باضابطہ ردعمل نہیں دیا گیا ہے، تاہم ماضی میں وہ مزدور تنظیموں کے بیانات کو مسترد کرتی رہی ہے۔
حکومت کا مؤقف ہے کہ وہ ملک میں روزگار کے مواقع بڑھانے اور سرمایہ کاری لانے کے لیے اصلاحات لا رہی ہے، جن میں نجکاری، نئی لیبر پالیسی اور صنعتی ترقی کے لیے مراعات شامل ہیں، مگر مزدور تنظیمیں ان اقدامات کو مزدور دشمن قرار دے رہی ہیں۔
جنوبی ریاست تمل ناڈو میں تقریباً 30 ہزار مظاہرین کو حراست میں لیا گیا، جب کہ مختلف ریاستوں میں فیکٹریاں اور دفاتر بند رہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
بھارت بھارت بند بھارت کو بند کرو بھارت ہڑتال تمل ناڈو مودر معاشی پالیسیاں مودی.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: بھارت بھارت بند بھارت کو بند کرو بھارت ہڑتال تمل ناڈو مودر معاشی پالیسیاں رہی ہے کے لیے
پڑھیں:
اٹلی میں چار پاکستانی زرعی مزدوروں کا قتل، دو پاکستانی شہری گرفتار
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 02 جون 2026ء) اخبار کے مطابق جلی ہوئی گاڑی امینڈولارا نامی گاؤں کے قریب ایک پٹرول پمپ پر ملی، جو کالابریا کے وسیع زرعی علاقے میں واقع ہے۔
اخبار کے مطابق پٹرول پمپ کے سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج میں دو افراد کو منی وین کے دروازے باہر سے بند کرتے اور اس کے اندر آتش گیر مائع پھینکتے ہوئے دیکھا گیا۔
رپورٹ کے مطابق اس کے بعد گاڑی میں آگ بھڑک اٹھی اور دونوں مشتبہ افراد موقع سے فرار ہو گئے۔
فائر بریگیڈ نے آگ بجھانے کے بعد گاڑی کے اندر سے چار لاشیں برآمد کیں۔
مقامی پولیس چیف نے اس اطالوی اخبار سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ’’یہ یقینی طور پر قتل کا واقعہ ہے، اب ہمیں صرف اس کی تفصیلات معلوم کرنا ہیں۔
(جاری ہے)
‘‘
اخبار نے مزید لکھا کہ گزشتہ چند مہینوں کے دوران اس علاقے میں پاکستانیوں کی گاڑیوں اور منی وینز کے نذر آتش کیے جانے کے 14 واقعات پیش آ چکے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق علاقے میں تارکین وطن کے مختلف گروہوں کے درمیان زرعی کام کی تقسیم، رہائشی دستاویزات (ریذیڈنسی پیپرز)، اور رہائش کے مسائل پر کشیدگی پائی جاتی ہے، جسے ممکنہ طور پر اس واقعے کے پس منظر سے جوڑا جا رہا ہے۔
اطالوی حکام اس واقعے کی تحقیقات جاری رکھے ہوئے ہیں تاکہ اکٹھے چار افراد کے اس قتل کے محرکات اور اس کے ذمہ دار افراد کے اس جرم میں کردار کی مکمل طور پر وضاحت ہو سکے۔
ادارت: مقبول ملک