بھارت بھر میں بدھ کے روز لاکھوں مزدوروں نے وزیرِاعظم نریندر مودی کی معاشی اصلاحات اور سرکاری اداروں کی نجکاری کے خلاف ایک روزہ ہڑتال کی، جس کے باعث کئی علاقوں میں ٹرانسپورٹ، بینکاری اور صنعتوں کی سرگرمیاں متاثر ہوئیں۔

یہ بھی پڑھیں:کانگریس رہنما مانی شنکر آئر نے مودی کو بھارت کی تاریخ کا بدترین وزیرِاعظم قرار دیدیا

 ہڑتال کی کال 10 بڑی مزدور تنظیموں اور کسانوں و دیہی کارکنوں کی تنظیموں کے اتحاد نے کی جانب سے دی گئی، جسے ’بھارت بند‘ یعنی ’بھارت کو بند کرو‘ کا نام دیا گیا۔

مظاہرین کا کہنا تھا کہ حکومت نئے مزدور قوانین کے ذریعے کام کرنے والوں کے حقوق محدود کر رہی ہے اور عوامی اداروں کو سرمایہ داروں کے ہاتھ فروخت کر رہی ہے۔ کئی ریاستوں میں کوئلے کی کانوں کا کام رک گیا، بعض ٹرینیں بند رہیں، جب کہ بینکوں، انشورنس کمپنیوں اور مارکیٹوں میں بھی خلل آیا۔

مظاہرین نے دہلی، کولکتہ اور ممبئی سمیت کئی شہروں میں نریندر مودی کی پُتلا  نذر آتش کیا، ریلوے اسٹیشنوں پر احتجاج کیا اور ’ریلوے نہ بیچو‘ اور ’مزدوروں کے حقوق ختم نہ کرو” جیسے نعرے لگائے۔

یہ بھی پڑھیں:مودی سرکار کا ’اذان‘ پر نیا وار، مساجد کے لاؤڈ اسپیکر پر پابندی

طلبہ رہنما آئشے گھوش نے کہا کہ آج بھارت میں مزدوروں کی محنت کی کوئی قدر نہیں، جب چاہیں کسی کو نوکری سے نکال دیا جاتا ہے، جب کہ حکومت کو ان کے مسائل کی کوئی پرواہ نہیں۔

کمیونسٹ پارٹی کے رہنما راجندر پراتھولی نے الزام لگایا کہ مودی حکومت نے صنعتی اداروں کو خوش کرنے کے لیے مزدوروں کو ملنے والی سہولیات چھین لی ہیں۔

مظاہرین کا مطالبہ ہے کہ مزدوروں کی تنخواہوں میں اضافہ کیا جائے، سرکاری اداروں کی نجکاری بند کی جائے، نئے لیبر قوانین کو واپس لیا جائے اور سرکاری شعبے میں خالی آسامیوں پر بھرتی کی جائے۔ کسان تنظیموں نے بھی کم از کم فصل خریداری قیمت بڑھانے کا مطالبہ کیا۔

ادھر حکومت کی جانب سے تاحال کوئی باضابطہ ردعمل نہیں دیا گیا ہے، تاہم ماضی میں وہ مزدور تنظیموں کے بیانات کو مسترد کرتی رہی ہے۔

حکومت کا مؤقف ہے کہ وہ ملک میں روزگار کے مواقع بڑھانے اور سرمایہ کاری لانے کے لیے اصلاحات لا رہی ہے، جن میں نجکاری، نئی لیبر پالیسی اور صنعتی ترقی کے لیے مراعات شامل ہیں، مگر مزدور تنظیمیں ان اقدامات کو مزدور دشمن قرار دے رہی ہیں۔

جنوبی ریاست تمل ناڈو میں تقریباً 30 ہزار مظاہرین کو حراست میں لیا گیا، جب کہ مختلف ریاستوں میں فیکٹریاں اور دفاتر بند رہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

بھارت بھارت بند بھارت کو بند کرو بھارت ہڑتال تمل ناڈو مودر معاشی پالیسیاں مودی.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: بھارت بھارت بند بھارت کو بند کرو بھارت ہڑتال تمل ناڈو مودر معاشی پالیسیاں رہی ہے کے لیے

پڑھیں:

روس سے طالبان کے بڑھتے روابط پر افغان سوشل میڈیا میں بحث، ملا عمر کی جدوجہد اور موجودہ پالیسیوں کا موازنہ

طالبان حکومت اور روس کے درمیان حالیہ سفارتی و سیکیورٹی روابط کے تناظر میں افغان سوشل میڈیا پر ایک نئی بحث نے جنم لے لیا ہے، جہاں متعدد صارفین اور سیاسی مبصرین طالبان کے بانی ملا عمر کی سوویت یونین کے خلاف جدوجہد اور موجودہ طالبان قیادت کے روس کے ساتھ تعلقات کو موضوعِ بحث بنا رہے ہیں۔

سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر گردش کرنے والی مختلف پوسٹس، تبصروں اور سیاسی خاکوں میں دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ ملا عمر نے افغانستان کی آزادی اور خودمختاری کے لیے سوویت افواج کے خلاف طویل جدوجہد کی تھی، جبکہ آج ان کے صاحبزادے اور طالبان حکومت کے وزیر دفاع ملا محمد یعوقب روس کے ساتھ تعلقات کو فروغ دے رہے ہیں۔ ناقدین اس صورتحال کو ’تاریخی تضاد‘ قرار دیتے ہوئے سوال اٹھا رہے ہیں کہ کیا موجودہ پالیسی طالبان کی ماضی کی جدوجہد سے مطابقت رکھتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:بہت ہوگیا، اب افغان طالبان کی تجاویز نہیں حل چاہیے، اور حل ہم نکالیں گے: ڈی جی آئی ایس پی آر

سوشل میڈیا پر شیئر کی جانے والی ایک تحریر میں کہا گیا ہے کہ سوویت جنگ کے دوران ہزاروں افغان شہری جانوں سے گئے، دیہات تباہ ہوئے اور کئی نسلیں جنگ کے اثرات کا شکار رہیں۔ اس تناظر میں بعض حلقے روس کے ساتھ بڑھتے تعلقات پر تحفظات کا اظہار کر رہے ہیں اور سوال اٹھا رہے ہیں کہ کیا افغانستان اپنی تاریخ کے تلخ اسباق کو فراموش کر رہا ہے۔

بعض پوسٹس میں طالبان حکومت اور روس کے درمیان مبینہ سیکیورٹی تعاون کے دعوے بھی کیے گئے ہیں۔ ان دعوؤں کے مطابق روس اور طالبان کے درمیان عسکری شعبے میں روابط بڑھ رہے ہیں، تاہم ان اطلاعات کی آزاد ذرائع سے مکمل تصدیق نہیں ہو سکی۔ طالبان حکام بھی اس حوالے سے مختلف مواقع پر یہ مؤقف اختیار کرتے رہے ہیں کہ ان کے خارجہ تعلقات قومی مفادات اور موجودہ علاقائی ضروریات کے مطابق استوار کیے جا رہے ہیں۔

سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ افغانستان گزشتہ کئی دہائیوں سے عالمی طاقتوں کی رقابتوں کا مرکز رہا ہے۔ سوویت یونین کے انخلا، امریکی مداخلت اور بعد ازاں طالبان کی واپسی کے بعد خطے کی جغرافیائی سیاست میں مسلسل تبدیلیاں رونما ہو رہی ہیں۔ ایسے میں طالبان حکومت کی روس، چین اور دیگر علاقائی طاقتوں کے ساتھ بڑھتی قربت کو بعض ماہرین ایک سفارتی ضرورت قرار دیتے ہیں، جبکہ ناقدین اسے ماضی کے نظریاتی مؤقف سے انحراف کے طور پر دیکھتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:افغان طالبان ہماری تجاویز سے متفق مگر تحریری معاہدہ کرنے پر تیار نہیں، رانا ثنااللہ

دوسری جانب طالبان کے حامی حلقوں کا مؤقف ہے کہ بین الاقوامی تعلقات مستقل دشمنی یا دوستی کے بجائے قومی مفادات کی بنیاد پر استوار ہوتے ہیں۔ ان کے مطابق موجودہ افغانستان کو معاشی استحکام، سفارتی روابط اور علاقائی تعاون کی ضرورت ہے، جس کے لیے مختلف ممالک کے ساتھ تعلقات ناگزیر ہیں۔

افغان سوشل میڈیا پر جاری اس بحث نے ایک بار پھر یہ سوال زندہ کر دیا ہے کہ بدلتے عالمی حالات میں نظریاتی جدوجہد اور عملی سیاست کے درمیان توازن کیسے برقرار رکھا جائے۔ ملا عمر کی تاریخی جدوجہد اور موجودہ طالبان قیادت کی سفارتی حکمت عملی کے درمیان موازنہ آنے والے دنوں میں بھی سیاسی اور عوامی حلقوں میں زیر بحث رہنے کا امکان ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

متعلقہ مضامین

  • بار ایسوسی ایشنز اور بار کونسلز کی ہڑتال کی کالیں غیر قانونی قرار
  • مشکل معاشی حالات میں حکومت کا ساتھ دینے پر کاروباری برادری کا شکریہ،حکومت اور نجی شعبے کی مضبوط شراکت داری معاشی ترقی کی ضمانت ہے، وزیراعظم
  • کاروباری رہنماؤں کا حکومتی معاشی پالیسیوں پر اعتماد، تعاون جاری رکھنے کا عزم
  • 200 سال قدیم "از غیب شہید مسجد" کو مودی حکومت نے رات کی تاریکی میں مسمار کردیا
  • مودی کی ناکام پالیسیاں؛ بھارتی نوجوانوں کی تحریک بے قابو ہونے کا اندیشہ
  • مودی کی ناکام پالیسیاں؛ بھارتی نوجوانوں کی تحریک بے قابو  ہونے کا اندیشہ
  • مہنگائی کے دباؤ میں مزدوروں کو ریلیف دینے کی سفارش، کم از کم تنخواہ میں 12.5 فیصد اضافے کی تجویز
  • روس سے طالبان کے بڑھتے روابط پر افغان سوشل میڈیا میں بحث، ملا عمر کی جدوجہد اور موجودہ پالیسیوں کا موازنہ
  • بھارت میں ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کیا ہے اور یہ بھارتی حکومت کے لیے دردِ سر کیوں بن گئی ہے؟
  • گلگت بلتستان کی سڑکوں کی خستہ حالی دیکھ کر شدید دکھ ہوا، نواز شریف