سیاست میں عزت، نہ عوام کی خدمت ہے، شاہد خاقان عباسی
اشاعت کی تاریخ: 12th, July 2025 GMT
سابق وزیراعظم پاکستان کا کہنا ہے کہ حکومت کا ایک کام بتا دیں جس میں عوام کی فلاح اور نوجوانوں کے مسائل کاحل ہو، اربوں روپے خرچ کرتے ہیں لیکن کیا تعلیم اور صحت کا نظام بہتر ہے؟ یہ حکمران جب تک رہیں گے ان کا ہر لمحہ ملک پر بھاری ہے، جب عدل کا نظام ختم ہو جاتا ہے تو ملک ترقی نہیں کرتا۔ اسلام ٹائمز۔ سابق وزیراعظم اور عوام پاکستان پارٹی کے سربراہ شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ سیاست میں عزت، نہ عوام کی خدمت، ملک کے مسائل برقرار ہیں۔ آج حکمرانوں میں مایوسی اور بے بسی نظر آتی ہے۔ پارٹی کے یوم تاسیس سے خطاب کرتے ہوئے شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ حکومت کا ایک کام بتا دیں جس میں عوام کی فلاح اور نوجوانوں کے مسائل کاحل ہو، اربوں روپے خرچ کرتے ہیں لیکن کیا تعلیم اور صحت کا نظام بہتر ہے؟ یہ حکمران جب تک رہیں گے ان کا ہر لمحہ ملک پر بھاری ہے، جب عدل کا نظام ختم ہو جاتا ہے تو ملک ترقی نہیں کرتا۔ سیاست کا مقصد ایک دوسرے کو گالیاں دینا رہ گیا، آج حکمرانوں میں مایوسی اور بےبسی نظر آتی ہے۔ شاہد خاقان عباسی کا یہ بھی کہنا تھا کہ ہماری جماعت ایسی ہوگی جو ملک اور اسکے مسائل کی بات کرے گی، ملک کے آدھے لوگ خط غربت سے نیچے چلے گئے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: شاہد خاقان عباسی کے مسائل عوام کی کا نظام
پڑھیں:
حج تھا یا پکنک؟ شدید تنقید کے بعد وسیم اکرم، مصباح الحق اور فخر عالم نے خاموشی توڑ دی
سابق قومی کرکٹر وسیم اکرم، مصباح الحق، فخرِ عالم، سعید انور اور دیگر معروف شخصیات کے حج سفر پر سوشل میڈیا پر ہونے والی تنقید کے بعد وسیم اکرم، مصباح الحق اور فخرِ عالم نے وضاحت کرتے ہوئے ناقدین کو جواب دے دیا۔
انہوں نے سر منڈوانے سے متعلق تنقید پر وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ لوگ سوال کر رہے تھے کہ ہم نے سر کیوں نہیں منڈوائے۔ حج پر روانگی سے قبل ہم نے علمائے کرام سے رہنمائی لی تھی جنہوں نے ہمیں دو آپشن دیے تھے کہ یا تو مکمل سر منڈوا لیا جائے یا قصر کرائی جائے جس میں بالوں کا کچھ حصہ کاٹا جاتا ہے۔ ہم نے دوسرا طریقہ منتخب کیا۔
@timesofkarachi Why didn’t Wasim Akram, Fakhar-e-Alam, and Misbah-ul-Haq shave their heads as part of the Hajj ritual? #TOKReports #Hajj #WasimAkram #FakhareAlam #MisbahulHaq ♬ original sound – Times of Karachiانہوں نے مزید کہا کہ دوسری تنقید یہ تھی کہ ہم حج پر آئے تھے یا پکنک منانے؟ حج ایک عبادت ہے اور دن کے چوبیس گھنٹوں میں انسان عبادت بھی کرتا ہے، دوستوں سے ملتا جلتا بھی ہے، دعائیں بھی مانگتا ہے اور کبھی مسکراتا اور خوشی کا اظہار بھی کرتا ہے۔ یہ سب بھی حج کے تجربے کا حصہ ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ہماری لوگوں سے گزارش ہے کہ تنقید کرنے سے پہلے ان معاملات کو اچھی طرح سمجھیں۔ ہم نے نوجوانوں کی رہنمائی اور انہیں حج کی ترغیب دینے کے لیے ویڈیوز بنائیں تاکہ وہ اس بابرکت سفر کی منصوبہ بندی کر سکیں۔
حج کے سفر کے بارے میں بات کرتے ہوئے فخرِ عالم نے کہا کہ ہم حج مکمل کر چکے ہیں اور لوگ ہم سے مختلف سوالات کر رہے ہیں۔ سب سے زیادہ پوچھا جانے والا سوال یہ ہے کہ آخر ہمیں حج پر جانے کی ترغیب کس چیز نے دی؟
اس سوال کے جواب میں وسیم اکرم نے کہا کہ کوئی خاص منصوبہ نہیں تھا۔ میں نے اپنے دوست سے کہا تھا کہ جب مجھے اندر سے آمادگی محسوس ہوگی تب میں حج کے لیے جاؤں گا۔ چونکہ آپ اور مصباح پہلے ہی جا رہے تھے اس لیے میں نے بھی ساتھ جانے کا فیصلہ کر لیا۔ میری عمر جلد 60 سال ہونے والی ہے اس لیے مجھے لگا کہ یہی مناسب وقت ہے۔
مصباح الحق نے بھی اپنے حج کے تجربے پر خوشی اور اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ ان کی زندگی کا ایک خاص سفر تھا اور دوستوں کے ساتھ اس روحانی تجربے کو شیئر کرنے سے یہ یادگار لمحہ مزید خوبصورت بن گیا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
حج حج 2026 فخر عالم مصباح الحق وسیم اکرم