لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن )سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا کہے کہ یہ واضح نہیں ہے کہ عمران خان کیا چاہتے ہیں، جو بھی جیل میں مل کر آتا ہے وہ مختلف بات کرتاہے ، میرا نہیں خیال کہ عمران خان کے بیٹے پاکستان آ کر تحریک کی قیادت کر سکیں گے اور اس سے کوئی فرق پڑے گا۔

سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ تحریک کی تو ہر وقت ضرورت ہو تی ہے ، جو ہمارے ملک کے حالات ہیں جہاں کوئی نظام نہیں چل رہا، ملکی ترقی نہیں ہو رہی ، ہر پاکستانی ہر سال غریب ہوتا جارہاہے ، ہماری کوئی پالیسی اور ڈائریکشن نہیں ہے ، ہر قسم کے مسائل ہیں، پی ٹی آئی کی تحریک کا مجھے نہیں پتا کہ مقصد کیاہے ، ماضی میں ان کا مقصد انہوں نے بیان کیا کہ ہم نے عمران خان کو جیل سے نکالنا ہے ، اگر یہ مقصد ہے تو یہ تحریک کامیاب نہیں ہو گی، آپ ملک کی بات کریں ۔

قانون سازوں کی تنخواہیں اور ٹیکسز بڑھنے ، سہولیات کی کمی پر سینئر صحافی رؤوف کلاسرا برس پڑے

انہوں نے کہا کہ جب ملک کی بات کریں گے ، ملک کے نظام کی بات کریں گے ، آئین کی بالادستی کی بات کریں گے ، سیاسی انتشار ختم کرنے کی بات کریں گے تو اسی میں عمران خان کا حل بھی نکل آئے گا ، اگر یہ کہیں گے کہ ہم نے عمران خان کو سڑک پر دباو ڈال کر نکالنا ہے تو یہ ہم نے پہلے کبھی دیکھا نہیں ہے ۔ہماری کوشش یہ تھی کہ جن نکات پر اتفاق ہو سکتا ہے ، اس پر اپوزیشن کی سوچ میں ہم آہنگی پیدا ہو جائے ، پی ٹی آئی سب سے بڑی اپوزیشن کی جماعت ہے ، ان کے پاس حکومت بھی ہے ، انہیں وہاں پر کام کرنا چاہیے، ا ن کی دونوں جگہ ناکامی ہے ، نہ تو وہ اپوزیشن کا کردار ادا کر سکے   اور نہ ہی کے پی کے حکومت چلتی ہے ، پہلے اس پر توجہ دیں، تحریک اس کے بعد چلے گی ۔ 

بھارتی خفیہ ایجنسی کے ٹویٹر اکاونٹس نے لورالائی واقعہ سے قبل ہی دہشتگردی کی خبری دی تھی : وسیم عباسی کا انکشاف

شاہد خاقان عباسی کا کہناتھا کہ آپ تحریک چلاتے ہیں تو لوگ پوچھے گے کہ آپ اقتدار میں آجائیں گے توہمیں کیا دیں گے تو اس کا جواب کوئی نہیں ہے ، پی ٹی آئی سوچ سمجھ کر اقدامات کرے۔ یہ واضح نہیں ہے کہ عمران خان کیا چاہتے ہیں، جو بھی جیل میں مل کر آتا ہے وہ مختلف بات کرتاہے ، میرا نہیں خیال کہ عمران خان کے بیٹے پاکستان آ کر تحریک کی قیادت کر سکیں گے اور اس سے کوئی فرق پڑے گا۔

مزید :.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Pakistan

کلیدی لفظ: شاہد خاقان عباسی کی بات کریں گے کہ عمران خان پاکستان ا نہیں ہے

پڑھیں:

قید تنہائی میں رکھا ہوا ہے، یہ عمران خان کی آنکھ میں آنکھ ڈال کر دیکھ بھی نہیں سکتے، علیمہ خان

راولپنڈی ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان کا کہنا ہے کہ جب بھی حکومت کو لگتا ہے عوام کا غصہ اور ٹمپریچر بڑھ رہا ہے، تو یہ خود کو بچانے کیلئے ڈیل کی باتیں اور افواہیں پھیلانا شروع کر دیتے ہیں، حقیقت میں کوئی ڈیل نہیں ہو رہی۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میڈیا ہم سے سوال کرنے کے بجائے حکومت سے جواب طلب کرے کہ عمران خان کو گزشتہ 7 ماہ سے غیر قانونی قیدِ تنہائی میں کیوں رکھا گیا ہے؟ صحافی وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی سے جا کر اس قیدِ تنہائی کی وجہ پوچھیں، ہمارا خاندان کسی قسم کا سیاسی این آر او یا ریلیف نہیں مانگ رہا، قیدِ تنہائی کا خاتمہ عمران خان کا بنیادی اور قانونی حق ہے۔

علیمہ خان نے الزام لگایا کہ گزشتہ 8 مہینوں سے عمران خان کو ذہنی و جسمانی ٹارچر کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، ملک میں کوئی قانون نہیں چل رہا، اگر حکومت ہمیں جیل میں ڈالنا چاہتی ہے تو شوق سے ڈال دے، لیکن عمران خان کی آنکھوں کے علاج اور معائنے کے لیے انہیں فوری طور پر شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کیا جائے اور وہاں کے ماہر ڈاکٹرز سے ان کا طبی معائنہ کروایا جائے۔

(جاری ہے)

انہوں نے سوال اٹھایا کہ سابق آرمی چیف کیوں عمران خان سے ملنے جائیں گے؟ وہ تو عمران خان کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھ ہی نہیں سکتے، پارٹی چیئرمین بیرسٹر گوہر نے بھی واضح کر دیا ہے کہ یہ تمام باتیں بالکل جھوٹ ہیں، جب بھی حکومت کو لگتا ہے کہ عوام کا غصہ اور ٹمپریچر بڑھ رہا ہے، تو یہ خود کو بچانے کے لیے ڈیل کی باتیں اور افواہیں پھیلانا شروع کر دیتے ہیں، جبکہ حقیقت میں کوئی ڈیل نہیں ہو رہی۔

عمران خان کی ہمشیرہ نے کہا کہ جب آپ لوگوں کے ووٹ چوری کریں گے اور عوام سمجھ جائیں گے کہ ان کے ووٹ کی کوئی حیثیت نہیں رہی، تو پھر ان کا شدید ردعمل آئے گا، حکومت کبھی لاٹھی سے تو کبھی گولی سے عوام کو مارتی ہے، ووٹ چوری سے پی ٹی آئی کا نہیں بلکہ اس عام شہری کا حق مارا جاتا ہے جس کا وہ ووٹ ہوتا ہے، گلگت بلتستان میں بھی وہی کچھ دہرایا جا رہا ہے جو عام انتخابات 2024ء میں کیا گیا تھا، وہاں پی ٹی آئی کو انتخابی مہم تک چلانے کی اجازت نہیں دی جا رہی، یاد رکھیں ظلم ہمیشہ وہی کرتا ہے جو اندر سے خود شدید خوفزدہ ہوتا ہے۔

علیمہ خان نے کہا کہ ہم پی ٹی آئی کی قیادت سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ ہمارے ساتھ آ کر یہاں بیٹھیں، جب قیادت آئے گی تو تمام ایم این ایز، ایم پی ایز، سینیٹرز اور تنظیم کے سینئر رہنما یہاں موجود ہوں گے، اگر پی ٹی آئی کی موجودہ قیادت اس فائنل کال پر بھی باہر نہیں نکلتی، تو پھر میڈیا اور عوام کا حق ہے کہ وہ ان رہنماؤں سے سوال کریں کہ وہ اپنے عظیم لیڈر کے لیے باہر کیوں نہیں آ رہے۔

متعلقہ مضامین

  • مفرور یوٹیوبرز عادل راجہ اور شاہد قاضی کا پاکستان مخالف بیانیہ بے نقاب
  • عمران خان کی اب کوئی مقبولیت نہیں، وہ رہا ہو جائیں تو حقیقت سب کے سامنے آ جائے گی، وزیر صحت پنجاب خواجہ عمران نذیر
  • نواز شریف این او سی لے کر گلگت بلتستان گئے، راناثنا
  • کراچی میں فائرنگ سے باپ اور نوجوان بیٹا جاں بحق
  • بانی جس دن محمود اچکزئی سے مطمئن نہیں ہوں گے ہٹادیے جائیں گے، جنید اکبر
  • گلگت بلتستان انتخابات کو متنازع بنانے کی ہر کوشش جمہوریت کے خلاف ہے، حلیم عادل شیخ
  • والدین کے لیے بڑی راحت، اب بچے فیس بک، انسٹاگرام استعمال نہیں کر سکیں گے
  • اسحاق ڈار کویتی وزیر خارجہ کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ، بدلتی عالمی صورتحال پر تبادلہ خیال
  • گورنر خیبرپختونخوا سے ترک سفیر کی ملاقات ، باہمی تعاون ،دوطرفہ امور پر تبادلہ خیال
  • قید تنہائی میں رکھا ہوا ہے، یہ عمران خان کی آنکھ میں آنکھ ڈال کر دیکھ بھی نہیں سکتے، علیمہ خان