پی ٹی آئی ترقی کو کریش کرنا چاہتی،رکاوٹ ڈالی تو سختی سے نمٹیں گے :احسن اقبال
اشاعت کی تاریخ: 13th, July 2025 GMT
لاہور(نیٹ نیوز) وفاقی وزیرِ منصوبہ بندی احسن اقبال نے کہا ہے پاکستان کی ترقی کی اڑان کو پی ٹی آئی پتھر مار کر کریش کرناچاہتی ہے تاہم اب یہ اڑان اْن کے پتھروں کی پہنچ سے دور چلی گئی ہے۔ لاہور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا پاکستان کا مقدر دیر پا ترقی ہے، تحریک انصاف کے پاس ایسا کوئی ہتھیار نہیں وہ پاکستان کی بلندی کی اڑان کو کریش کرسکے۔ پاکستان کے استحکام پر سمجھوتہ نہیں کریں گے، ریاست میں امن و استحکام اور اڑان کی پالیسی یکساں ہے، پی ٹی آئی نے اس میں رکاوٹ ڈالنے کی کوشش کی تو سختی سے نمٹیں گے۔ انہوں نے مزید کہا تحریکِ انصاف سمیت کسی کو بھی اجازت نہیں دیں گے وہ 24 کروڑ عوام کے مستقبل سے اپنی سیاست کی دکان چمکائیں، پاکستان کا سب سے بڑا مسئلہ امن و استحکام کی پالیسیوں کا تسلسل اور اصلاحات کا ایجنڈا ہے۔ ایک سوال کے جواب میں کہا کہ جو بھی تخریبی سیاست کرے گا لوگ اْس کا ساتھ نہیں دیں گے، عوام منفی اور دھرنوں کی سیاست سے تنگ آ چکے ہیں، ہم دہشت گردی کے خلاف فیصلہ کن جنگ لڑ رہے ہیں، یہ وہی عناصر ہیں جو بھارت کے پے رول پر ہیں۔ انہوں نے کہا بھارت ’آپریشن بنیان المرصوص‘ میں بدترین ناکامی پر شرمندہ ہے اور اسی شرمندگی کی وجہ سے وہ بلوچستان میں دہشت گردی کرا رہا ہے، بھارت دہشت گرد تنظیموں کے ذریعے کوشش کررہا ہے وہ پاکستان کو غیر مستحکم کرے اور مکروہ کھیل کھیلے، ان تمام عناصر کا صفایا کیا جائے گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
پڑھیں:
کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن
الیکشن کمیشن نے خیبر پختونخوا اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم قرار دے دیا۔
اسلام آباد سے الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی کی جانب سے کی جانے والی ترمیم آئین اور قانون سے متصادم ہے۔
الیکشن کمیشن آف پاکستان کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل چوہدری ندیم قاسم کی جانب سے چیف سیکریٹری خیبر پختونخوا کو تحریر کیے گئے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی نے بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل 6 جولائی کو منظور کیا۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق گورنر کے پی نے بلدیاتی حکومت کے نئے ترمیمی بل کی توثیق کر دی ہے، ترمیم کے مطابق ضلع میں ویلیج اور نیبر ہڈ کونسل کی آبادی 30 سے 40 ہزار کے درمیان ہوگی، ترمیم کے مطابق الیکشن کمیشن حکومت سے مشاورت سے کوئی تبدیلی کر سکے گا۔
خط کے مطابق الیکشن ایکٹ اور آئین کے مطابق بلدیاتی حکومتوں کے الیکشن کے لیے حلقہ بندی کرنا الیکشن کمیشن کا اختیار ہے، حلقہ بندی کے معاملے پر حکومت سے مشاورت بھی آئین کی روح کے خلاف ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق الیکشن کمیشن کے لیے اس ترمیم کے تحت 30 سے 40 ہزار کی آبادی کے لیے حلقہ بندی کرنا قابل عمل نہیں۔
خط کے متن کے مطابق آئین کے تحت کوئی قانون الیکشن کمیشن کے اختیارات نہیں لے سکتا، اتنی تاخیر سے یہ ترمیم کرنا بظاہر بلدیاتی انتخابات میں تاخیر کا حربہ ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا حکومت اس معاملے پر معاونت کرے تاکہ بلدیاتی انتخابات کا انعقاد کیا جا سکے۔