جنوبی وزیرستان میں دہشتگردوں کے حملے میں زخمی ہونیوالے ڈی ایس پی شہید ہوگئے
اشاعت کی تاریخ: 13th, July 2025 GMT
جنوبی وزیرستان میں دہشت گردوں کے حملے میں زخمی ہونے والے ڈی ایس پی شہید ہوگئے۔
تھانہ تولئی خولہ ضلع جنوبی وزیرستان لوئر میں چند دن قبل نامعلوم دہشت گردوں کے ایک بزدلانہ حملے میں زخمی ہونے والے مشن اسپتال پشاور میں زیر علاج ایس ڈی پی او برمل سرکل ڈی ایس پی رحمین خان شہید ہو گئے۔
شہید ڈی ایس پی رحمین خان کی نماز جنازہ ملک سعد شہید پولیس لائنز میں پورے سرکاری اعزاز کے ساتھ ادا کردی گئی، جس میں آئی جی خیبر پختونخوا ذوالفقار حمید ، سی سی پی او قاسم علی خان ، ایس ایس پی آپریشنز مسعود احمد ، پی ایس او ٹو آئی جی پی عمران خان ، ایس ایس پی انوسٹیگیشن نور جمال ، ایس پی ہیڈکوارٹرز علی گوہر سمیت شہید کے لواحقین اور پولیس افسران و جوانوں نے کثیر تعداد میں شرکت کی۔
آئی جی پی ذوالفقار حمید اور سی سی پی او قاسم علی خان نے جسد خاکی پر پھول چڑھائے اور شہید کے بلند درجات کے لیے دعا کی۔
آئی جی خیبرپختونخوا پولیس ذوالفقار حمید نے شہید کے لواحقین سے تعزیت کی اور شہید ڈی ایس پی رحمین خان کی دلیری اور فرض شناسی کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ بزدلانہ حملے میں ملوث ملک دشمن عناصر کو کیفرکردار تک پہنچایا جائیگا۔
انہوں نے کہا کہ دہشت گرد عناصر اپنی بزدلانہ کارروائیوں سے پولیس فورس کے حوصلے پست نہیں کر سکتے بلکہ ہمارے حوصلے بلند ہیں۔ پولیس کو اپنے ایسے افسران پر فخر ہے جو امن و امان کے لیے دہشت گردوں کے سامنے سیسہ پلائی دیوار بن کر جوانمردی سے اپنے فرائض انجام دیتے ہوئے ان کے ناپاک عزائم خاک میں ملا رہے ہیں۔
دوسری جانب وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے جام شہادت نوش کرنے والے ڈی ایس پی رحمین خان کو خراج عقیدت پیش کیا۔ انہوں نے شہید کے اہل خانہ سے دلی ہمدردی و تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ شہید ڈی ایس پی رحمین خان کی عظیم قربانی کو سلام ہے، انہوں نے جان دے دی لیکن فرض پر آنچ نہیں آنے دی۔
محسن نقوی کا کہنا تھا کہ شہید ڈی ایس پی رحمین خان جیسے بہادر سپوت خیبرپختونخوا پولیس کا فخر ہیں۔ خیبرپختونخوا پولیس کے جری افسروں اور جوانوں کی دہشتگردی کے خلاف جنگ میں لازوال قربانیوں کی کوئی نظیر نہیں ملتی۔ شہید ڈی ایس پی رحمین خان کے اہل خانہ کے ساتھ کھڑے ہیں اور ہمیشہ ساتھ کھڑے رہیں گے۔
Tagsپاکستان.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان شہید ڈی ایس پی رحمین خان حملے میں شہید کے
پڑھیں:
شہدا ء کا مقام اور فضیلت
جے یو آئی کے قصور شہرمیں غیر متوقع طور پر بہت بڑے پاور شو اور عوامی اجتماع نے جہاں پنجاب کی سیاست میں ایک نئی روح پھونکی اور دہائیوں پر محیط روایتی سیاسی و غیر سیاسی مہروں کے متبادل ایک نئی عوامی طاقت کا احساس دلایا، وہاں اس جیتی جاگتی تبدیلی سے خائف حلقوں نے ہمیشہ کی طرح ایک فرسودہ اور ہتک آمیز حربہ اختیار کیا۔
جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمن کے ایک بیان کو سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کرتے ہوئے چائے کی پیالی میں طوفان برپا کرنے کی ناکام کوشش کی گئی اور یہ گمراہ کن پروپیگنڈا گھڑا گیا کہ انھوں نے معاذ اللہ فوجی جوانوں کے لیے "شہادت کی تنخواہ" کے الفاظ استعمال کیے، حالانکہ ان کا مدعا و مقصد ہر گز یہ نہیں تھا۔ مولانا نے اپنے خطاب میں ایک انتہائی عقلی اور اصولی نکتہ واضح کیا تھا۔ اصل میں اس گفتگو کا بنیادی محور قبائلی علاقوں میں مقامی لشکروں کی تشکیل تھا۔
حیرت کی بات یہ ہے کہ اس گفتگو کا درست مفہوم سیاسی مخالفین کو تو سمجھ آگیا لیکن سوشل میڈیا کے کارندوں کو سمجھ نہ آیا کیونکہ جان بوجھ کر منفی مطلب نکالنا ان کا شیوا ہے۔ یہاں ایک بنیادی اور تلخ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ شہادت کا رتبہ، جہاد کی فضیلت اور شہید کا مقام کیا ہوتا ہے، یہ دینِ اسلام کے اسرار و رموز سے واقف، پوری زندگی قال اللہ و قال الرسول کی صدائیں بلند کرنے والا ایک جید عالمِ دین بہتر جانتا ہے یا پھر سوشل میڈیا کے مجاہدین۔ یہ پاکستان کا سب سے بڑا المیہ ہے کہ ملک کے ممتاز ترین عالمِ دین کو شہادت کی عظمت پر لیکچر دیئے جا رہے ہیں۔
ناقدین کو شاید یہ معلوم ہی نہیں کہ شہادت ایک شرعی اور دینی اصطلاح ہے، جس کا تقدس اور حقیقی مرتبہ علماء ہی جانتے ہیں۔ مولانا فضل الرحمن خود ہزاروں شہداء کے وارث ہیں۔
1857کی جنگ آزادی میں حضرت حافظ محمد ضامن شہیدؒ سمیت کلکتہ سے پشاور تک پھانسیوں پر لٹکائے جانے والے 51 ہزار علماء ان کے ہی اکابر تھے۔ پاکستان میں سیکڑوں کی تعداد میں شہید کیے جانے والے علماء، جن میں شیخ المشائخ مولانا محمد یوسف لدھیانوی شہیدؒ، مولانا سید شمس الدین شہیدؒ، مولانا حق نواز شہیدؒ، شیخ الحدیث مولانا حسن جان شہیدؒ، شیخ الحدیث مفتی نظام الدین شامزئی شہیدؒ، مفتی جمیل خان شہیدؒ، مولانا ڈاکٹر خالد محمود سومرو شہیدؒ اور دیگر بے شمار شخصیات شامل ہیں، ان کے جماعتی کارکن، دوست اور دست و بازو تھے، جن کو دن دہاڑے اس لیے شہید کیا گیا کہ وہ ریاست و آئین پاکستان کے ساتھ کھڑے تھے اور ان میں سے آج تک کسی ایک کے قاتل کو نہیں پکڑا گیا۔ جو شخص اور جو جماعت خود شہداء کی امین ہو، وہ بھلا شہداء کی توہین کا سوچ بھی کیسے سکتی ہے؟ قصور جلسہ کے ایک لفظ کو مسخ کر کے پہاڑ بنانے والوں کا یہ وقتی ابال بہت جلد بیٹھ جائے گا۔ تمام زندگی بلامعاوضہ ملک و ملت کی خدمت کرنے والے، مدارس و مساجد کی حفاظت کے لیے دن رات ایک کرنے والے، قبائل کے لوگوں کو بغاوت سے بچانے والے اور مسلح دہشت گردوں کے خلاف ریاست کے لیے خود کش حملے، دھمکیاں اور گالیاں برداشت کرنے والے زیرک رہنما کو غدار قرار دینا نا مناسب ہے۔
اسلام میں شہید کا مقام و مرتبہ انتہائی بلند اور منفرد ہے۔ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے شہیدوں کی عظمت کو اتنے ارفع انداز میں بیان کیا ہے کہ انھیں مردہ کہنے سے بھی منع فرما دیا ہے۔ سورہ البقرہ اور سورہ آل عمران میں واضح فرمایا گیا کہ "جو لوگ اللہ کی راہ میں مارے جائیں، انھیں مردہ نہ کہو اور نہ ہی ایسا گمان کرو، بلکہ وہ اپنے رب کے پاس زندہ ہیں، انھیں رزق بھی دیا جا رہا ہے اور وہ اللہ کے اس فضل پر جو انھیں عطا کیا گیا ہے، انتہائی خوش اور مسرور ہیں"۔ یہ آیات واضح کرتی ہیں کہ شہید کی زندگی عام اموات جیسی نہیں ہوتی بلکہ وہ برزخ میں ایک خاص قسم کی حیاتِ طیبہ اور انعاماتِ الٰہی سے سرفراز ہوتے ہیں۔ احادیثِ مبارکہ میں بھی شہید کے بے پناہ فضائل کا ذکر ملتا ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ "اللہ کے نزدیک شہید کی خاص خصوصیات ہیں، خون کا پہلا قطرہ گرتے ہی اس کی مغفرت کر دی جاتی ہے، اسے جنت میں اس کا ٹھکانہ دکھا دیا جاتا ہے، اسے عذابِ قبر اور قیامت کی بڑی گھبراہٹ سے پناہ ملتی ہے، اس کے سر پر وقار کا ایسا تاج رکھا جائے گا جس کا ایک یاقوت دنیا اور مافیہا سے بہتر ہے اور اس کی اپنے اقارب میں سے ستر لوگوں کے لیے شفاعت قبول کی جائے گی"۔ کائنات کی سب سے عظیم ہستی حضرت محمد ﷺ کا شہادت کی بار بار تمنا کرنا اس بات کی دلیل ہے کہ بارگاہِ الٰہی میں شہادت کا مقام کتنا عظیم ہے۔ شہید کو یہ انفرادیت بھی حاصل ہے کہ جنت میں جانے کے بعد کوئی بھی شخص دنیا میں دوبارہ لوٹنے کی خواہش نہیں کرے گا، سوائے شہید کے، جو وہاں ملنے والے اکرام کو دیکھ کر یہ تمنا کرے گا کہ کاش اسے دنیا میں دس بار واپس بھیجا جائے تاکہ وہ بار بار اللہ کی راہ میں اپنی جان قربان کر سکے۔
احادیث کے مطابق شہید کو موت کی تکلیف اتنی ہی محسوس ہوتی ہے جتنی کسی انسان کو چیونٹی کے کاٹنے سے ہوتی ہے اور قیامت کے دن اس کے زخموں سے بہنے والے خون سے مشک کی خوشبو آئے گی۔قرآن و حدیث کی رو سے شہید کا درجہ انبیاء، صدیقین اور صالحین کے بالکل متصل ہے اور یہ اہل علم ہی جانتے ہیں لہٰذا سیاسی مقاصد کے لیے پاک صاف دامن پر چھینٹیں پھینکنے والے یاد رکھیں کہ مکافاتِ عمل کا نظام عنقریب پلٹا کھائے گا۔ وقت کا تقاضا ہے کہ نعروں، الزامات اور مذمتوں کی اس تعفن زدہ سیاست کو اب بند کیا جائے۔