جنگ کے دوران اسرائیلی حملے میں ایرانی صدر کے زخمی ہونے کا انکشاف
اشاعت کی تاریخ: 13th, July 2025 GMT
ایران(نیوز ڈیسک)گزشتہ ماہ جنگ کے دوران ایران پر اسرائیلی حملے کے دوران صدر مسعود پزشکیان کے زخمی ہونے کا انکشاف سامنے آگیا۔
ایرانی میڈیا نے جنگ ختم ہونے کے کئی دنوں بعد تصدیق کی ہے کہ اسرائیلی جارحیت کے دوران ایرانی صدر مسعود پزشکیان کو بھی قتل کرنے کی کوشش کی گئی تھی، جس میں وہ معمولی زخمی ہوئے تھے۔
16 جون کو تہران میں سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل کے اجلاس کے دوران عمارت کے داخلی اور خارجی راستوں پر 6 میزائل داغے گئے تھے۔
دھماکوں کے بعد متاثرہ منزل کی بجلی منقطع ہوگئی تھی، تاہم عمارت میں موجود حکام ایمرجنسی راستے سے باہر نکلنے میں کامیاب ہو گئے تھے۔
اس دوران ایران کے صدر پزشکیان سمیت کچھ حکام کو معمولی نوعیت کی چوٹیں آئیں، ایرانی صدر کی ٹانگ میں معمولی زخم آیا تھا۔
یاد رہے کہ اس سے قبل ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے امریکی صحافی اور ٹرمپ کے سابق قریبی ساتھی ٹکر کارلسن کے ساتھ ایک انٹرویو کے دوران انکشاف کیا تھا کہ اسرائیل نے انہیں قتل کرنے کی کوشش کی تھی، تاہم انہوں نے تفصیلات نہیں بتائی تھیں۔
خیال رہے کہ اسرائیل نے 13 جون کو ایران پر بغیراشتعال فضائی حملوں کے ذریعے جنگ مسلط کردی تھی اور امریکا نے بھی ایران کی جوہری تنصیبات پر حملے کیے تھے۔
اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملے تہران اور واشنگٹن کے درمیان جوہری مذاکرات کے ایک نئے دور کے لیے ملاقات سے چند دن پہلے ہوئے تھے، جس سے مذاکرات تعطل کا شکار ہو گئے جن کا مقصد ایران کے جوہری پروگرام پر ایک معاہدے تک پہنچنا تھا۔
ارشد ندیم اور نیرج چوپڑا ایک بار پھر آمنے سامنے ہونگے
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Ausaf
کلیدی لفظ: کے دوران
پڑھیں:
امریکا کی مدد کرنے والے ممالک بھی نشانے پر آسکتے ہیں، ایران کی سخت وارننگ
بشکیک / تہران: ایران نے خبردار کیا ہے کہ اگر کوئی بھی ملک امریکا کی جانب سے ایران پر ہونے والی کسی بھی فوجی کارروائی میں تعاون یا مدد فراہم کرتا ہے تو اسے بھی اس کے نتائج اور بین الاقوامی ذمہ داری کا سامنا کرنا پڑے گا۔
دوسری جانب ایرانی حکام نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا نے شمالی ایران میں پاسداران انقلاب کے ایک بحری اڈے کو نشانہ بنایا ہے۔
ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کرغزستان میں ایک اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ایران کے خلاف کسی بھی جارحیت میں حصہ لینے، تعاون کرنے یا سہولت فراہم کرنے والے تمام فریق بین الاقوامی قانون کے تحت ذمہ دار ہوں گے۔
انہوں نے کہا کہ ایران اپنے دفاع کے حق کے تحت ضروری اقدامات کرنے کا حق محفوظ رکھتا ہے اور ملکی خودمختاری کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدام کیا جائے گا۔
ادھر ایرانی سرکاری خبر رساں ادارے ارنا کے مطابق شمالی صوبے گیلان کے نائب گورنر علی باقری نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی میزائلوں نے صبح کے وقت زیباکنار میں واقع پاسداران انقلاب کی بحریہ کے ایک ہیڈکوارٹر کو نشانہ بنایا۔
ایرانی حکام کے مطابق حملے کے نتیجے میں فوجی تنصیب میں موجود کچھ آلات کو نقصان پہنچا، تاہم کسی جانی نقصان یا مزید تفصیلات کے بارے میں فوری طور پر معلومات جاری نہیں کی گئیں۔
تاحال امریکا کی جانب سے ایرانی حکام کے اس دعوے پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا، جبکہ آزاد ذرائع سے بھی اس حملے کی تصدیق نہیں ہو سکی۔
تجزیہ کاروں کے مطابق ایران اور امریکا کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث خطے کی سکیورٹی صورتحال مزید پیچیدہ ہو سکتی ہے، جبکہ دونوں ممالک کے بیانات سے سفارتی تناؤ میں مزید اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔