سعودی ایئرلائن فلائے اے ڈیل کا بڑا اعلان: پاکستان کے چار شہروں کے لیے براہِ راست پروازیں شروع
اشاعت کی تاریخ: 13th, July 2025 GMT
ریاض(نیوز ڈیسک) سعودی عرب کی ایئرلائن Flyadeal نے پاکستان کے لیے چار نئے فضائی راستوں کا اعلان کر دیا ہے، جو اگست کے آخر میں فعال ہو جائیں گے۔
یہ اعلان Flyadeal کی پاکستان میں تیزی سے بڑھتی ہوئی موجودگی کی علامت ہے۔
24 سے 26 اگست کے درمیان شروع ہونے والی ان پروازوں کے تحت:
ریاض سے اسلام آباد
ریاض سے پشاور
ریاض سے سیالکوٹ
دمام سے کراچی
پر ہفتہ وار 2 سے 3 پروازیں چلائی جائیں گی۔ تمام پروازیں جدید Airbus A320 طیاروں پر کی جائیں گی۔
قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ ریاض سے سیالکوٹ کا راستہ اس وقت کسی بھی ایئرلائن کی طرف سے براہ راست فراہم نہیں کیا جا رہا، کیونکہ PIA نے پچھلے سال یہ سروس بند کر دی تھی۔ اب Flyadeal وہ واحد ایئرلائن ہو گی جو اس براہ راست فضائی رابطے کو بحال کر رہی ہے۔
پاکستان سعودی عرب کے لیے ایک تیزی سے بڑھتی ہوئی ایوی ایشن مارکیٹ بن چکا ہے۔ صرف 2024 میں 59 لاکھ مسافر دونوں ممالک کے درمیان سفر کر چکے ہیں، اور ہر سال نشستوں کی تعداد میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔
Flyadeal نے فروری 2025 میں جدہ اور ریاض سے کراچی کے لیے پروازوں کے ذریعے پاکستانی مارکیٹ میں قدم رکھا تھا، اور اب نئے راستوں کے اضافے کے ساتھ اس کی خدمات میں دو گنا اضافہ ہو جائے گا۔
Post Views: 4.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
اب وقت آگیا، دونوں ممالک کسی نہ کسی شکل میں ایک معاہدے تک پہنچ جائیں، ٹرمپ کا ایران کو پیغام
واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ انہوں نے ایران کو واضح پیغام دیا ہے کہ اب وقت آگیا ہے کہ دونوں ممالک کسی نہ کسی شکل میں ایک معاہدے تک پہنچ جائیں۔
اپنے تازہ بیان میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ ایران گزشتہ 47 برس سے جس طرزِ عمل پر عمل پیرا ہے، اسے مزید جاری رکھنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ حالات میں سفارتی حل اور معاہدہ ہی آگے بڑھنے کا بہترین راستہ ہے۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات کے تعطل سے متعلق خبروں کو بھی مسترد کر دیا۔ انہوں نے کہا کہ بعض اطلاعات کے برعکس دونوں ممالک کے درمیان رابطے اور بات چیت مسلسل جاری ہے اور مذاکرات کا عمل رکا نہیں ہے۔
امریکی صدر کے مطابق ایران اور امریکا کے درمیان ہونے والی گفتگو مختلف معاملات پر جاری ہے، تاہم ابھی یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ مذاکرات کا حتمی نتیجہ کیا نکلے گا۔
انہوں نے مزید کہا کہ اس وقت کوئی بھی یقین کے ساتھ نہیں کہہ سکتا کہ یہ مذاکرات کس سمت جائیں گے یا ان کا اختتام کس نوعیت کے معاہدے پر ہوگا، لیکن دونوں فریقوں کے درمیان رابطے برقرار ہیں۔
ٹرمپ کا بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب حالیہ ہفتوں میں امریکا اور ایران کے درمیان ممکنہ معاہدے، جوہری پروگرام، علاقائی کشیدگی اور اقتصادی پابندیوں کے حوالے سے مختلف قیاس آرائیاں جاری ہیں۔
عالمی مبصرین کی نظریں بھی دونوں ممالک کے درمیان جاری سفارتی رابطوں پر مرکوز ہیں کیونکہ کسی بھی ممکنہ پیش رفت کے مشرق وسطیٰ اور عالمی سیاست پر اہم اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔