علی امین اسٹیبلشمنٹ کے کندھوں پر آئے، 90 روزہ تحریک حکومت بچانے کا بہانہ ہے، عظمیٰ بخاری
اشاعت کی تاریخ: 13th, July 2025 GMT
پنجاب حکومت کی وزیراطلاعات عظمیٰ بخاری نے کہا ہے کہ علی امین گنڈا پور اسٹیبلشمنٹ کے کندھوں پر سوار ہو کر اقتدار میں آئے ہیں اور اب وہ 90 روزہ تحریک کا اعلان کرکے دراصل اپنی حکومت کے لیے مہلت مانگ رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:90 روزہ تحریک: عمران خان قیادت کریں گے، آر یا پار کا عزم،علی امین گنڈاپور کی لاہور میں پریس کانفرنس
لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے عظمیٰ بخاری نے کہا کہ یہ لوگ ہمیشہ احتجاج کا اعلان کر کے کوئی نہ کوئی بہانہ بنا کر بھاگ جاتے ہیں۔ پاکستان کو جتنا نقصان پی ٹی آئی نے پہنچایا، اس کی مثال نہیں ملتی۔
انہوں نے کہا کہ علی امین گنڈا پور کو کلاشنکوف کے ساتھ شہر میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دی جائے گی اور نہ ہی کسی کو توڑ پھوڑ یا فساد کی اجازت ہوگی۔
عظمیٰ بخاری نے مزید کہا کہ جب بھی کوئی بات یا مفاہمت ہوگی تو وہ صرف جمہوری قوتوں سے ہی ہوگی۔ انہوں نے سابق وزیراعظم عمران خان پر طنز کرتے ہوئے کہا بانی پی ٹی آئی ٹرمپ کی کال کا انتظار کرتے کرتے جیل جا پہنچے۔
وزیراطلاعات نے کہا کہ پی ٹی آئی نے ہمیشہ عوام کو گمراہ کیا، نہ ملک کی معیشت بچائی، نہ امن قائم کیا۔
یہ بھی پڑھیں:بلوچستان میں پنجابیوں کے خلاف دہشتگردی پر خاموشی افسوسناک ہے، وزیر اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری
انہوں نے کہا کہ سانحہ سوات ہو یا سانحہ لورالائی، کسی بھی اہم قومی سانحے پر عمران خان کا کوئی بیان نہیں آیا، ان کی خاموشی مجرمانہ ہے۔
عظمیٰ بخاری کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کے بیانیے اور طرز سیاست نے ملک کو نقصان پہنچایا، اور اب 90 دن کی تحریک ایک سیاسی ڈراما ہے جس کا مقصد صرف اپنے اقتدار کو طول دینا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: نے کہا کہ پی ٹی آئی علی امین
پڑھیں:
بيزوس، مسک اور زکربرگ جیسے ارب پتی ہر سال ایک خفیہ سمر کیمپ میں کیوں اکٹھے ہوتے ہیں؟
امریکہ کی ریاست ایڈاہو کے ایک خاموش اور خوبصورت پہاڑی علاقے سن ویلی(Sun Valley) میں ہر سال جولائی کے مہینے میں ایک ایسی تقریب ہوتی ہے جہاں دنیا کے امیر ترین اور بااثر افراد اکٹھے ہوتے ہیں۔
اس خاص اور خفیہ محفل کو غیر رسمی طور پر ”ارب پتیوں کا سمر کیمپ“ کہا جاتا ہے۔ یہاں دنیا کے نامور اور طاقتور لوگ جیسے جیف بیزوس، مارک زکربرگ، بل گیٹس اور ایلن مسک بغیر کسی دکھاوے کے ایک ساتھ وقت گزارتے ہیں۔
یہ سلسلہ 1983 سے چلا آ رہا ہے جسے ایلن اینڈ کمپنی نامی ایک معاشی ادارہ منعقد کرواتا ہے۔ اس تقریب میں شامل ہونے کے لیے کوئی ٹکٹ نہیں خریدی جا سکتی اور نہ ہی انٹرنیٹ پر کوئی رجسٹریشن ہوتی ہے۔ یہاں صرف وہی لوگ آ سکتے ہیں جنہیں ذاتی طور پر دعوت نامہ بھیجا جاتا ہے۔ منتظمین کی طرف سے اس تقریب کی کوئی باقاعدہ مہمانوں کی فہرست یا شیڈول جاری نہیں کیا جاتا۔ اس سال یہ تقریب 7جولائی سے 11 جولائی 2026 تک منعقد ہوئی۔
اس کانفرنس کی سب سے بڑی بات یہ ہے کہ یہ روایتی دفتری میٹنگز کی طرح نہیں ہوتی۔ یہاں نہ طویل اجلاس ہوتے ہیں اور نہ ہی بڑی بڑی پریزنٹیشنز۔
امیر ترین شخصیات سوٹ بوٹ پہننے کے بجائے عام جوتوں اور آرام دہ کپڑوں میں نظر آتی ہیں۔ لوگ دن کے وقت پہاڑوں پر سیر کرتے ہیں، گولف کھیلتے ہیں، سائیکل چلاتے ہیں، مچھلی پکڑتے ہیں اور شام کو مل کر کھانا کھاتے ہیں۔
مزیدپڑھیں:عالمی منڈی میں سونے کی قیمت میں کمی
اس سال کی ملاقات میں جدید ترین ٹیکنالوجی اور آرٹیفیشل انٹیلی جنس یعنی اے آئی کا موضوع سب سے زیادہ چھایا رہا۔ اس تقریب میں ٹیکنالوجی اور کاروبار کی دنیا کے کئی بڑے نام شامل ہوئے۔
اگرچہ اس کیمپ میں میڈیا اور کیمروں کی اجازت نہیں ہوتی اور نہ ہی کوئی بڑا باضابطہ اعلان کیا جاتا ہے، لیکن ماہرین کا کہنا ہے کہ دنیا کے کئی بڑے کاروباری معاہدوں کی بنیاد اسی خاموش جگہ پر رکھی جاتی ہے جو بعد میں دنیا کے سامنے آتے ہیں۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ بہت سے شرکا اپنے اہلِ خانہ کو بھی ساتھ لاتے ہیں، جس کی وجہ سے یہ تقریب ایک کاروباری اجلاس سے زیادہ ایک پُرتعیش خاندانی تعطیلات کا منظر پیش کرتی ہے۔ تاہم، اس کے باوجود دنیا بھر کی نظریں ہر سال اس خفیہ سمر کیمپ پر لگی رہتی ہیں، کیونکہ یہاں ہونے والی ملاقاتیں مستقبل کی عالمی معیشت اور ٹیکنالوجی کی سمت کا تعین بھی کر سکتی ہیں۔