شیر پاؤ پل باغیانہ تقاریر کیس؛ جج نے فیصلہ لکھوانا شروع کر دیا
اشاعت کی تاریخ: 22nd, July 2025 GMT
سٹی42: لاہور میں صحافی، سیاسی کارکن، قانون دان اور پولیس کے اہلکار سب ہی 9 مئی 2023 کو شیر پاؤ پل پر بغاوت پر اکسانے والی تقریریں کرنے اور گھیراؤ جلاؤ کے مشہور مقدمے کا فیصلہ آنے کے منتظر ہیں۔
انسداد دہشتگردی عدالت کے جج کچھ دیر میں فیصلہ سنانے والے ہیں۔
سٹی42 کے نمائندہ جمال الدین کی رپورٹ کے مطابق نو مئی 2023 کو شیر پاؤ پل پر بغاوت پر اکسانے والی تقاریر کرنے اور جلاؤ گھیراؤ کے واقعات کے کیس کا فیصلہ کچھ دیر بعد سنایا جائے گا۔ کچھ دیر پہلے تک موصول ہونے والی اطلاع کے مطابق انسداد دہشت گردی عدالت کے جج ارشد جاوید عدالت مین فیصلہ قلمبند کروا رہے ہیں۔
فیصلہ سنائے جانے کے وقت اس مقدمہ میں ملوث جن ملزموں کی ضمانت ہو چکی ہے ، انہیں بھی عدالت میں موجود رہنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
کولمبیا یونیورسٹی نے اسرائیل مخالف مظاہروں پر درجنوں طلباء کو یونی ورسٹی سے نکال دیا
شاہ محمود قریشی، یاسمین راشد، عمر سرفراز اور دیگر اہم ملزموں پر نو مئی 2023 کو تشدد اور ریاست کے خلاف بغاوت کے کئی مقدمات میں سے شیر پاؤ پل تقاریر اور گھیراؤ جلاؤ کیس پہلا مقدمہ ہے جس کا فیصلہ آج سنایا جا رہا ہے۔
اس مقدمہ میں زیر حراست سابق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی اور دوسرے 13 ملزموں کا ٹرائل مکمل ہو چکا ہے۔
اس کیس کے ملزموں میں پی ٹی آئی کی پنجاب کی سابق صدر اور سابق صوبائی وزیر صحت یاسمین راشد ، سابق وزیر خارجہ اور پی ٹی آئی کے سابق وائس چئیرمین شاہ محمود قریشی کے ساتھ اعجاز چوہدری ،عمر سرفراز چیمہ ٫،میاں محمود الرشید بھی شامل ہیں۔
تھانہ سرور روڈپولیس نے مقدمہ نمبر 97/23 درج کیا تھا اور تحقیقات مکمل کرنے کے بعد مناسب وقت پر مقدمہ کا چالان جمع کروا دیا تھا۔
شیرپاؤ پل کیس میں سزاؤں پر پی ٹی آئی کا ردعمل
انسداد دہشتگردی عدالت نے ملزموں کی سکیورٹی کے سبب سے مقدمہ کی بیشتر سماعت لاہور میں کوٹ لکھپت جیل میں کی۔
آج فریقین کے دلائل مکمل ہونے کے بعد عدالت نے فیصلہ محفوظ کیا۔
اے ٹی سی جج ارشد جاوید کوٹ لکھپت جیل میں اپنی عدالت میں کچھ دیر میں فیصلہ سنائیں گے۔
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: شیر پاؤ پل کچھ دیر
پڑھیں:
اسلام آباد ہائیکورٹ: ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی سزا معطلی درخواستوں پر فیصلہ محفوظ
اسلام آباد:اسلام آباد ہائیکورٹ نے متنازع ٹویٹس کیس میں ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی سزا معطلی کی درخواستوں کے قابلِ سماعت ہونے سے متعلق فیصلہ محفوظ کر لیا۔
جسٹس اعظم خان نے کیس کی سماعت کی، عدالت میں نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) کے وکیل نے سزا معطلی کی درخواستوں پر اعتراض اٹھاتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ یہ درخواستیں قبل از وقت دائر کی گئی ہیں، اس لیے انہیں قابلِ سماعت قرار نہ دیا جائے۔
این سی سی آئی اے کے وکیل نے عدالت سے استدعا کی کہ پہلے ان کی متفرق درخواست کو سنا جائے، اگر دوسری متفرق درخواست پہلے سنی گئی تو ہماری درخواست غیرموثر ہو جائے گی۔
دورانِ سماعت ایمان مزاری کے وکیل فیصل صدیقی نے عدالت کو بتایا کہ وہ اس متفرق درخواست پر دلائل دینے کے لیے تیار ہیں اور اگر عدالت مناسب سمجھے تو دونوں درخواستوں کو ایک ساتھ سنا جا سکتا ہے۔
جسٹس اعظم خان نے ریمارکس دیے کہ وکیل پہلے مکمل تیاری کر لیں، یہ ان کے مؤکل کے حقوق کے لیے بہتر ہوگا، جس پر فیصل صدیقی نے مؤقف اختیار کیا کہ وہ اپنے حقوق چھوڑتے ہوئے دلائل دینے کے لیے تیار ہیں۔
فریقین کے دلائل مکمل ہونے کے بعد عدالت نے فیصلہ محفوظ کر لیا۔