سول ایوی ایشن اتھارٹی کے زیر اہتمام اسکردو انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر فل اسکیل ایمرجنسی مشق کا انعقاد کیا گیا۔

یہ بھی پڑھیں: آسٹریلوی ہائی کمیشن کے وفد کا اسکردو انٹرنیشنل ایئرپورٹ کا دورہ، سہولیات کا جائزہ

مشق ایک فرضی طیارہ حادثے کے منظرنامے کے تحت کی گئی جس کا مقصد ہنگامی صورتحال میں مختلف اداروں کی تیاری اور فوری ردعمل کا جائزہ لینا تھا۔

ایمرجنسی مشق میں ایئرپورٹ سیکیورٹی فورس، ریسکیو 1122، فائر بریگیڈ، سول ایوی ایشن، پاک فوج، اور ضلعی انتظامیہ سمیت تمام متعلقہ اداروں نے بھرپور شرکت کی۔

مشق کے دوران تمام ادارے مقررہ وقت میں موقع پر پہنچے اور ریسکیو، فائر کنٹرول، میڈیکل ایویکیوشن اور ایئرپورٹ ایریا کلیئرنس کی سرگرمیاں انجام دیں۔

مزید پڑھیے: اسکردو انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر تاریخ رقم: ایک دن میں 7 پروازیں، سیاحت کے نئے دور کا آغاز

یہ مشق سول ایوی ایشن اتھارٹی کے ایمرجنسی پلاننگ کے تحت منعقد کی گئی تھی جس کا مقصد ممکنہ حادثات کی صورت میں اداروں کی تربیت، تیاری اور باہمی رابطے کے نظام کو جانچنا تھا۔

ایمرجنسی مشق کے دوران ایئرپورٹ پر معمول کی سرگرمیاں مکمل نظم و ضبط کے ساتھ جاری رہیں جبکہ سیکیورٹی و سروسز کو حکام کی ہدایت پر عارضی طور پر محدود کیا گیا۔

مزید پڑھیں: اسکردو انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر فل اسکیل ایئرپورٹ ایمرجنسی مشق 2025 کامیابی سے مکمل

حکام کے مطابق ایسی مشقیں نہ صرف اداروں کی کارکردگی کو بہتر بنانے میں مدد دیتی ہیں بلکہ ہنگامی حالات میں ان کے درمیان تعاون، ہم آہنگی اور اعتماد کو بھی فروغ دیتی ہیں۔ دیکھیے ویڈیو رپورٹ۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

اسکردو انٹرنیشنل ایئرپورٹ اسکردو ایئرپورٹ اسکردو ایئرپورٹ پر ہنگامی مشقیں.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: اسکردو انٹرنیشنل ایئرپورٹ اسکردو ایئرپورٹ اسکردو ایئرپورٹ پر ہنگامی مشقیں اسکردو انٹرنیشنل ایئرپورٹ ایمرجنسی مشق ایئرپورٹ پر

پڑھیں:

مودی حکومت کی غیرملکی فنڈنگ قانون میں ترمیم سے تنقیدی آوازوں کودبانے کی کوشش

عالمی ادارہ ایمنسٹی انٹرنیشنل بھارت میں غیر سرکاری تنظیموں اور تنقیدی آوازوں کو دبانےکا مذموم منصوبہ سامنے لے  آیا۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل سمیت8انسانی حقوق کی تنظیموں نے  فارن کنٹری بیوشن ریگولیشن ایکٹ کے قواعد میں کی جانے والی ترمیم واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل کی رپورٹ کےمطابق بھارت کے نئےغیرملکی فنڈنگ قوانین، سول سوسائٹی پر سخت نگرانی اورتنظیم سازی کی آزادی کے حق کو دبا رہے ہیں۔ 

انسانی حقوق،پالیسی تحقیق،عوامی شعور،قانونی اصلاحات اورحکومتی احتساب پرکام کرنے والی ہزاروں تنظیمیں  زد میں آئیں گی ، بھارت کے قوانین عالمی اصولوں کیخلاف ہیں جن کے ذریعے این جی اوز پرغیر ضروری اور حد سے زیادہ پابندیاں عائد کی گئیں۔

بھارتی حکومت گزشتہ ایک دہائی میں انسانی حقوق کی 22 ہزار 498تنظیموں کی رجسٹریشن منسوخ کر کےانہیں کام سے روک چکی ، اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندے بھی 2016میں این جی اوز پر پابندیوں کے کالے قوانین کو ختم کرنے کا مطالبہ کر چکے ہیں۔ 

اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندوں کے  مطابق بھارتی حکومت یہ قوانین  تنقید کرنے والی این جی اوزکو دبانے کیلئے استعمال کر  رہی ہے۔ مالیاتی شفافیت کے نام پر بنائے گئے یہ قوانین دراصل سول سوسائٹی کو کنٹرول کرنے کا ہتھکنڈہ بن چکے ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • مودی حکومت کی غیرملکی فنڈنگ قانون میں ترمیم سے تنقیدی آوازوں کودبانے کی کوشش
  • ایمنسٹی انٹرنیشنل کا نیتن یاہو کی گرفتاری کا مطالبہ، آئی سی سی میں مقدمہ چلانے پر زور
  • اسکردو: سیلفی بناتے کچورا جھیل میں گرے موبائل کو نکالتے ہوئے نوجوان گر کر جاں بحق
  • وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم
  • دبئی ایئرپورٹ پر اے آئی امیگریشن سسٹم متعارف، 3.4 سیکنڈ میں کلیئرنس