وزیر اطلاعات آزاد کشمیر کا کہنا تھا کہ استاد علم سکھانے کے ساتھ ساتھ شاگرد کی کردار سازی میں بھی اہم کردار ادا کرتا ہے، استاد اور شاگرد کے رشتے کی اہمیت کو قرآن و حدیث میں بھی اجاگر کیا گیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ وزیر اطلاعات آزاد جموں و کشمیر پیر محمد مظہر سعید شاہ نے کہا ہے کہ قرآن و سنت کی تعلیمات کے بغیر کسی اسلامی معاشرہ کی بقا اور اس کے قیام کا تصور ممکن نہیں، سیکھنے سکھانے کے عمل کا آغاز پہلی وحی ’’اِقْرَاْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِىْ خَلَقَ‘‘ سے شروع ہو کر مکہ مکرمہ میں دار ارقم اور مدینہ منورہ میں مدرسہ صفہ تک جا پہنچا، جہاں معلم انسانیت ﷺ نے صحابہ کرام کی ایک ایسی جماعت تیار کی جس نے دنیا پر اسلام کے پرچم کو لہرایا۔حضور پاک ﷺ معلم انسانیت ہیں اور آپﷺ نے اپنی زندگی علم سیکھانے میں وقف فرما رکھی تھی۔ ان خیالات کا اظہار سرپرست اعلیٰ جامعۃ الحسنین و وزیر اطلاعات آزاد جموں و کشمیر پیر مظہر سعید شاہ نے جامعۃ الحسنین کے دورہ کے دوران اساتذہ اور طلبہ سے ملاقات کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے جامعۃ الحسنین کے تمام اساتذہ کرام سے ملاقات کی اور جامعۃ الحسنین کے نگران اعلی مولانا اعجاز محمود اور دیگر اساتذہ کرام سے تفصیلی بریفنگ لی۔

پیر محمد مظہر سعید شاہ نے کہا کہ استاد علم سکھانے کے ساتھ ساتھ شاگرد کی کردار سازی میں بھی اہم کردار ادا کرتا ہے، استاد اور شاگرد کے رشتے کی اہمیت کو قرآن و حدیث میں بھی اجاگر کیا گیا ہے۔ اسلام میں استاد کو روحانی باپ کا درجہ دیا گیا ہے اور شاگردوں کو ادب اور احترام سے پیش آنے کی تلقین کی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ علم کی اہمیت و فضیلت کو جاننے کیلئے سرکار دو عالم ﷺ کی احادیث مبارکہ بہت سی موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اسلام چاہتا ہے کہ دنیا میں بسنے والا ہر انسان تعلیم کے ذریعے صحیح معنوں میں اشرف المخلوقات کے درجے پر پہنچ جائے۔ وہ کتاب اللہ اور سنت نبوی ﷺکو حقیقی علم قرار دیتے ہوئے اسے انسانیت کی فلاح کا ضامن قرار دیتا ہے۔ اسلام کی تعلیمات کہتی ہیں کہ قرآن حقیقی علم ہے جب کہ دوسرے علوم معلومات کے درجے میں ہیں اور ان معلومات کو اپنی اپنی استعداد کے مطابق حاصل کرو۔ اللہ ہمیں علوم حاصل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: جامعۃ الحسنین میں بھی نے کہا

پڑھیں:

اسلام آباد میں دکانوں اور کاروباری مراکز کے اوقات میں توسیع، نیا شیڈول جاری

اسلام آباد(نیوز ڈیسک) وفاقی دارالحکومت میں دکانوں اور کاروباری مراکز کے اوقات کار میں توسیع کا فیصلہ کر لیا گیا ہے، یہ فیصلہ نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی زیر صدارت ہونے والے کفایت شعاری سے متعلق اجلاس میں کیا گیا۔

اجلاس میں طے پایا کہ اسلام آباد میں دکانیں اور شاپنگ مالز اب رات 9 بجے تک کھلے رہ سکیں گے جبکہ شادی ہالز کو رات 10 بجے تک اپنی سرگرمیاں جاری رکھنے کی اجازت ہوگی۔

اسی طرح ریسٹورنٹس کے اوقات کار میں بھی نرمی کرتے ہوئے انہیں رات 11 بجے تک کھلا رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

حکام کے مطابق ٹیک اوے اور ہوم ڈلیوری سروسز کو مقررہ اوقات کار کی پابندی سے مستثنیٰ قرار دیا گیا ہے تاکہ شہریوں کو سہولت فراہم کی جا سکے۔

اجلاس میں یہ بھی فیصلہ کیا گیا کہ فارمیسیوں، اسپتالوں اور پیٹرول پمپس کو ان پابندیوں سے مکمل استثنیٰ حاصل ہوگا اور وہ معمول کے مطابق اپنی خدمات جاری رکھ سکیں گے۔

حکومتی ذرائع کے مطابق نئے اوقات کار کا مقصد توانائی کے مؤثر استعمال اور کاروباری سرگرمیوں کے درمیان توازن برقرار رکھنا ہے، جبکہ اس فیصلے پر عملدرآمد سے متعلق مزید ہدایات جلد جاری کی جائیں گی۔

مزید پڑھیں۔ستاروں کی روشنی میں آپ کا آج (بدھ) کا دن کیسا رہے گا ؟

متعلقہ مضامین

  • ایران کے ساتھ امریکی امن مذاکرات ، اسرائیل شامل نہیں
  • اسلام آباد میں دکانوں اور کاروباری مراکز کے اوقات میں توسیع، نیا شیڈول جاری
  • امام خمینی، فکر، قیادت اور انقلاب کا استعارہ
  • ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
  • اسلام آباد میں مارکیٹوں اور دکانوں کے اوقات کار میں توسیع کی منظوری
  • مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی دراندازی: پاکستان سمیت 8 ممالک کا شدید ردعمل، پورا حرم صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ قرار
  • فرانس: نفسیاتی مریضوں کے علاج کی ذمہ داری گدھوں کے سپرد
  • 3 جون: جب حضرت امامؒ نے آخری سانس لی
  • سندھ میں 20 لاکھ گھروں کی تعمیر کو ممکن بنائیں گے:بلاول بھٹو کا گلگت جلسے سے خطاب
  • ایران، امریکا مذاکرات: یورپی یونین بھی پاکستان کے کردار کی معترف لیکن مسئلے کا حل تاحال تاخیر کا شکار کیوں؟