کیا کومل میر نے چہرے پر بوٹاکس کروایا ہے؟ اداکارہ نے بتا دیا
اشاعت کی تاریخ: 24th, July 2025 GMT
پاکستان شوبز کی اداکارہ کومل میر نے اپنی جسمانی تبدیلی سے متعلق وضاحت پیش کردی۔
اداکارہ اور ماڈل کومل میر جنہوں نے اپنے کیریئر کا آغاز "مس ویٹ پاکستان" سے کیا، ان دنوں اپنے بدلے ہوئے چہرے اور جسامت کے باعث سوشل میڈیا پر خبروں میں شامل ہیں۔ ان کی تصاویر وائرل ہوئیں تو مداحوں نے سوالات اٹھائے کہ انہوں نے فلرز کروائے ہیں یا وزن بڑھانے کیلئے بھی کوئی پروسیجر کروایا ہے۔
تاہم اب اداکارہ کومل میر نے اپنے حالیہ انٹرویو میں ان تمام باتوں کا تفصیل سے جواب دے دیا ہے۔ انٹرویو میں کومل نے بتایا کہ وہ ہمیشہ کم وزن کا شکار رہیں اور کھانے پینے سے متعلق مسائل کا سامنا کرتی رہی ہیں۔ تاہم حال ہی میں انہوں نے خوارک میں اضافہ کر کے قدرتی طور پر 6 کلو وزن بڑھایا ہے، جو زیادہ تر ان کے چہرے پر ظاہر ہوا۔
کومل نے بتایا کہ انہیں ایک فلم آفر ہوئی تھی جس کیلئے انہیں بتایا گیا کہ بڑی اسکرین پر بہتر دکھنے کے لیے صحت مند نظر آنا ضروری ہے ورنہ وہ اسکرین پر چھوٹی نظر آئیں گی، اس لیے انہوں نے خوراک میں بہتری کی زیادہ کھانا شروع کیا اور فطری طور پر وزن بڑھایا۔
کومل نے سوشل میڈیا پر پھیلنے والی ان خبروں کی سختی سے تردید کی کہ انہوں نے چہرے پر فلرز کروائے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ اب خود کو زیادہ خوبصورت اور صحت مند محسوس کرتی ہیں اور دوسروں کی رائے کی پرواہ کیے بغیر اپنی زندگی اپنے طریقے سے گزار رہی ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
لاہور میں گینگ ریپ کی شکار 18 سالہ گھریلو ملازمہ اسقاطِ حمل کے دوران جاں بحق
لاہور ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) لاہور کے علاقے ماڈل ٹاؤن میں مبینہ زیادتی کا شکار ہونے والی 18 سالہ گھریلو ملازمہ اسقاطِ حمل کے دوران جان کی بازی ہار گئی۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق لاہور کے علاقہ ماڈل ٹاؤن کے ایک گھر میں ملازمہ کے طور پر کام کرنے والی 18 سالہ لڑکی مبینہ طور پر گینگ ریپ اور بعد ازاں غیر قانونی طبی طریقہ کار کے باعث زندگی کی بازی ہار گئی ہے، متوفیہ نے ہسپتال میں دم توڑنے سے قبل اپنے بیانات ریکارڈ کرادیئے۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ لڑکی کا حمل ضائع کرنے کے لیے اسے پہلے رائے ونڈ کے ایک نجی کلینک لے جایا گیا، جہاں حالت بگڑنے پر اسے سروسز ہسپتال منتقل کیا گیا، وہ دو روز تک سروسز ہسپتال میں زیرِ علاج رہنے کے بعد دم توڑ گئی، متاثرہ لڑکی نے اپنے تحریری اور ویڈیو بیانات میں مکان مالک کے بیٹے اور ڈرائیور پر اجتماعی زیادتی کا سنگین الزام عائد کیا تھا، بعد میں مبینہ دباؤ کے تحت لڑکی نے اپنے بیان میں تبدیلی کی اور اپنے آخری بیان میں صرف ڈرائیور کو ہی نامزد کیا۔(جاری ہے)
پولیس نے بتایا کہ لڑکی کے ابتدائی بیانات کی روشنی میں گینگ ریپ کا مقدمہ درج کیا گیا تھا، تاہم اس کی موت کے بعد مقدمے میں باقاعدہ طور پر قتل کی دفعات بھی شامل کر دی گئی ہیں، ایک نامزد ملزم ڈرائیور کو گرفتار کرکے جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا گیا ہے، قتل کی دفعات شامل ہونے کے بعد کیس کی تفتیش جینڈر سیل سے تبدیل کرکے انویسٹی گیشن ونگ کے سپرد کر دی گئی ہے، پولیس نے گھر کے مالکان سمیت ان تمام افراد کو دوبارہ شاملِ تفتیش کرنے کے لیے نوٹسز جاری کر دیئے ہیں جنہیں پہلے کلیئر کر دیا گیا تھا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ضابطہ فوجداری کی دفعہ 164 کے تحت ریکارڈ کیے گئے بیانات کا دوبارہ باریک بینی سے جائزہ لیا جائے گا، متوفیہ کا پوسٹ مارٹم مکمل کر لیا گیا ہے اور موت کی اصل وجہ رپورٹ آنے کے بعد واضح ہوگی، اگر رائے ونڈ کے نجی کلینک کی جانب سے غفلت یا غیر قانونی طریقہ کار کے شواہد ملے تو اس کے خلاف بھی سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔