شاہراہِ تھک بابوسر تاحال بند، وادی تھور میں مزید 2 افراد کے سیلاب میں بہنے کی اطلاع
اشاعت کی تاریخ: 24th, July 2025 GMT
شاہراہِ تھک بابوسر تاحال سیلاب کی وجہ سے بند ہے اور وادی تھور میں مزید 2 افراد کے سیلاب میں بہنے کی اطلاع ہے۔ضلعی انتظامیہ کے مطابق وادی تھور میں گزشتہ روز سیلاب سے 50 سے زیادہ مکانات کو نقصان پہنچا، محکمہ واپڈا کی بلڈنگ بھی متاثر ہوئی اور سیلاب سے رابطہ پل، پن چکیاں، واٹر چینل، فصلوں اور باغات کو نقصان پہنچا جب کہ سیلاب میں 2 افراد کے بہہ جانے کی اطلاع ہے جن کی تلاش جاری ہے۔انتظامیہ کے مطابق ضلع بھر میں ایمرجنسی نافذ ہے، تمام محکموں کو ریسکیو کے کام میں حصہ لینے کا ہدایات کی گئی ہے، ڈاکٹروں اور پیرا میڈیکل اسٹاف کی چھٹیاں بھی منسوخ کردی گئی ہیں۔ ضلعی انتظامیہ کا کہنا ہےکہ شاہراہِ تھک بابوسر سیلاب کے وجہ سے بند ہے جس کے باعث مقامی اور دیگر لوگوں کو مشکلات سامنا ہے۔ اس حوالے سے ڈپٹی کمشنر نے بتایا کہ شاہراہ تھک بابوسر کے 8 سے 10 کلومیٹر پر ملبہ ہے، لینڈ سلائیڈنگ اوربڑے پتھروں کے باعث روڈ بحالی کے کام میں مشکلات ہیں جب کہ موسمی صورتحال کے باعث مزید سلائیڈنگ کا خدشہ ہے، چلاس روڈ کی بحالی کے کام کے ساتھ سرچ آپریشن بھی جاری ہے۔ واضح رہے کہ 3 روز قبل دیامر میں بھی بابوسرٹاپ کے مقام پر سیلابی ریلہ آیا تھا جس میں متعدد گاڑیاں بہہ گئی تھیں جب کہ سیلابی ریلے میں بہہ کر ایک بچے سمیت 6 افراد جاں بحق بھی ہوئے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: تھک بابوسر
پڑھیں:
حکومت نے پیٹرول اور ڈیزل مزید مہنگا کر دیا، نئی قیمتوں کا نوٹیفکیشن جاری
حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کرتے ہوئے پیٹرول کی قیمت میں 4 روپے 40 پیسے فی لیٹر اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 3 روپے 62 پیسے فی لیٹر اضافہ کر دیا ہے۔ اس حوالے سے باضابطہ نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:پیٹرول مہنگا ہو تو موٹرسائیکل سوار متاثر نہیں ہوتے، مشیر خزانہ کے بیان پر شدید ردعمل
نوٹیفکیشن کے مطابق اضافے کے بعد پیٹرول کی نئی قیمت 331 روپے 52 پیسے فی لیٹر مقرر کر دی گئی ہے، جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں بھی 3 روپے 62 پیسے فی لیٹر کا اضافہ کر دیا گیا ہے۔
نئی قیمتیں نافذجاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق پیٹرولیم مصنوعات کی نئی قیمتوں کا اطلاق فوری طور پر کر دیا گیا ہے، جس کے بعد ملک بھر کے پیٹرول پمپوں پر صارفین کو نئی قیمتوں کے مطابق ادائیگی کرنا ہوگی۔
عوام پر مزید مالی دباؤ کا خدشہمعاشی ماہرین کے مطابق پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافے سے ٹرانسپورٹ کے اخراجات بڑھنے کا امکان ہے، جس کے نتیجے میں اشیائے خورونوش اور دیگر ضروری اشیا کی قیمتوں پر بھی دباؤ آ سکتا ہے۔
مزید پڑھیں:ایران جنگ کے اثرات: پیٹرول مہنگا، یورپ میں الیکٹرک گاڑیوں کی فروخت میں 51 فیصد اضافہ
ڈیزل کی قیمت میں اضافہ خاص طور پر مال بردار ٹرانسپورٹ اور زرعی شعبے کے اخراجات پر اثر انداز ہو سکتا ہے۔
حکومت ہر 15 روز بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں، درآمدی لاگت، روپے کی قدر اور ٹیکسوں کی بنیاد پر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا جائزہ لیتی تھی لیکن اب روزانہ کی بنیاد پر یہ عمل جاری ہے۔
اسی جائزہ عمل کے تحت تازہ نوٹیفکیشن جاری کرتے ہوئے پیٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ کیا گیا ہے، جس کے بعد نئی قیمتیں ملک بھر میں نافذ العمل ہو گئی ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
پیٹرول پیٹرولیم مصنوعات درآمدی لاگت ڈیزل روپے کی قدر عالمی منڈی مہنگا