مجھے تینوں بڑی جماعتوں نے آفر دی تھی، مگر میں نے جے یو آئی کا انتخاب کیا، فرخ خان کھوکھر
اشاعت کی تاریخ: 25th, July 2025 GMT
جمعیت علمائے اسلام کے رہنما فرخ خان کھوکھر نے انکشاف کیا ہے کہ جب انہوں نے سیاست میں قدم رکھنے کا فیصلہ کیا تو ملک کی تینوں بڑی سیاسی جماعتوں نے انہیں شمولیت کی دعوت دی اور مختلف عہدوں اور ٹکٹ کی آفرز کیں، لیکن انہوں نے جے یو آئی (ف) کو ترجیح دی۔
ان کا کہنا تھاکہ مولانا فضل الرحمان کے لیے جان بھی قربان ہے، میرے پاس اتنے اختیارات ہیں کہ جسے ٹکٹ کے لیے نامزد کروں، وہی پارٹی ٹکٹ حاصل کرے گا۔
وی ایکسکلوزیو گفتگو میں فرخ کھوکھر نے کہا کہ میں شیشے، یعنی ٹی وی کی لڑائی نہیں کرتا۔ جس دن میرے سامنے کوئی میرے قائد مولانا فضل الرحمان کے خلاف بات کرے گا، اس دن معاملہ مختلف ہوگا۔
انہوں نے مزید بتایا کہ سیاست میں شمولیت کا فیصلہ انہوں نے اپنے خاندان اور مصطفیٰ نواز کھوکھر سے مشورے کے بعد کیا۔
ان کا کہنا تھا کہ ہمارا خاندان متحد ہے، اور جہاں سے مصطفیٰ نواز کھوکھر الیکشن لڑیں گے، میں ان کی مکمل حمایت کروں گا۔
انہوں نے کہا کہ فرخ کھوکھر نے بتایا کہ انہیں نواز شریف سے دلی محبت ہے اور ان کی جماعت میں شمولیت کی آفرز بھی ملی تھیں، لیکن وہ اس میں شامل نہیں ہوئے۔
ا نہوں نے کہا کہ اگر میں پیپلز پارٹی میں شامل ہوتا تو لوگ یہی کہتے کہ ڈیل ہو گئی ہے۔
انہوں نے پنجاب کی وزیرِ اعلیٰ مریم نواز کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا کہ وہ ایک بہترین وزیر اعلیٰ ہیں۔جب انہوں نے ڈالے کلچر کے خاتمے کی بات کی، تو میں نے فوراً اپنے ڈالے ختم کر دیے۔ اس وقت میرے ساتھ کوئی ڈالا نہیں ہے۔
پاکستان آرمی سے متعلق اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میرا شروع سے پاک فوج سے مثبت تعلق رہا ہے، اور مجھے اس پر فخر ہے۔ یہ آرمی بھارت کی نہیں بلکہ پاکستان کی ہے، میرے دادا بھی فوج میں خدمات انجام دے چکے ہیں۔
امن و امان کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ میرے علاقے میں جرائم کی شرح صفر ہے۔ میں نے واضح اعلان کر رکھا ہے کہ کوئی چوری یا ڈکیتی برداشت نہیں کی جائے گی۔
فرخ خان کھوکھر کے مطابق اگر کوئی جرم کرے تو میں خود اسے پکڑ کر پولیس کے حوالے کر دیتا ہوں، یہی میرا خوف ہے۔
آخر میں انہوں نے رجب بٹ اور ڈکی بھائی کے ساتھ تعلقات پر بات کرتے ہوئے کہا کہ میں نے دونوں کو مکمل معاف کر دیا ہے، دل میں کوئی بات نہیں رکھی۔ اگر ان سے ملاقات ہوئی تو انہیں بھی جے یو آئی میں شمولیت کی دعوت دوں گا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
پیپلز پارٹی جمعیت علمائے اسلام جے یو آئی ڈکی بھائی رجب بٹ فرخ کھوکھر مریم نواز مصطفیٰ نواز کھوکھر.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: پیپلز پارٹی جمعیت علمائے اسلام جے یو ا ئی ڈکی بھائی فرخ کھوکھر مریم نواز مصطفی نواز کھوکھر نے کہا کہ انہوں نے
پڑھیں:
حکومت کا بڑا ریلیف، الیکٹرک بائیکس پر سبسڈی اور بلاسود قرض کا اعلان
اسلام آباد(نیوز ڈیسک)وزیراعظم کے اپنا گھر پروگرام کے تحت اپنا ذاتی گھر حاصل کرنے کے خواہشمند شہریوں کے لیے بڑی پیش رفت سامنے آئی ہے۔ حکومت نے اعلان کیا ہے کہ پروگرام کے تحت کمرشل بینک اب تک 160 ارب روپے مالیت کے ہاؤسنگ قرضے منظور کر چکے ہیں جبکہ کامیاب درخواست گزاروں کو قرضوں کی فراہمی کا عمل بھی تیزی سے جاری ہے۔
یہ بات وزیر خزانہ کے مشیر عدنان پاشا نے کراچی میں منعقدہ فرسٹ انٹرنیشنل انشورنس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بتائی۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کا اپنا گھر پروگرام ملک میں تقریباً ایک کروڑ (10 ملین) گھروں کی کمی کو پورا کرنے کی جانب ایک اہم قدم ہے اور اس کے ذریعے کم آمدنی والے خاندانوں کو رعایتی شرائط پر اپنے گھر کا مالک بننے کا موقع فراہم کیا جا رہا ہے۔
عدنان پاشا نے بتایا کہ اس اسکیم کے تحت شہریوں کو صرف 5 فیصد رعایتی مارک اپ پر ہاؤسنگ قرض فراہم کیا جا رہا ہے جبکہ وزارت خزانہ اس منصوبے میں شامل بینکوں کے ممکنہ قرض نقصان کا 10 فیصد تک بوجھ خود برداشت کر رہی ہے۔ اس کے علاوہ حکومت پہلے 10 سال تک مارک اپ سبسڈی بھی فراہم کر رہی ہے تاکہ ہاؤسنگ فنانس زیادہ سے زیادہ سستا اور عوام کی پہنچ میں رہ سکے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت کی کوشش ہے کہ زیادہ سے زیادہ مستحق خاندان اس سہولت سے فائدہ اٹھائیں، جس سے نہ صرف رہائشی مسائل میں کمی آئے گی بلکہ تعمیراتی شعبے، سیمنٹ، اسٹیل، ٹائلز، الیکٹریکل مصنوعات اور دیگر متعلقہ صنعتوں میں بھی معاشی سرگرمیوں کو فروغ ملے گا۔
اس موقع پر عدنان پاشا نے حکومت کے الیکٹرک موٹرسائیکل پروگرام پر بھی روشنی ڈالی۔ انہوں نے بتایا کہ حکومت آئندہ برسوں میں 20 لاکھ الیکٹرک موٹرسائیکلیں متعارف کرانے کا منصوبہ رکھتی ہے۔ ان کے مطابق پاکستان میں تقریباً 30 لاکھ رجسٹرڈ موٹرسائیکلیں ہر سال قریب 8 ارب ڈالر مالیت کا درآمدی پٹرول استعمال کرتی ہیں، جس سے نہ صرف قیمتی زرمبادلہ خرچ ہوتا ہے بلکہ ماحولیاتی آلودگی میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت شہریوں کو الیکٹرک بائیکس کی خریداری پر سبسڈی اور بلاسود فنانسنگ فراہم کر رہی ہے تاکہ ایندھن پر انحصار کم کیا جا سکے، تاہم ملک میں الیکٹرک بائیکس کی پیداوار اور سپلائی کے مسائل اب بھی موجود ہیں، جنہیں دور کرنے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
عدنان پاشا نے زرعی شعبے کے حوالے سے بتایا کہ حکومت نے حال ہی میں زرخیزی اسکیم بھی متعارف کرائی ہے جس کے تحت 21 بینکوں پاکستان بینکس ایسوسی ایشن اور سپارکو کے تعاون سے کسانوں کو ڈیجیٹل زرعی قرضے فراہم کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس منصوبے میں سیٹلائٹ مانیٹرنگ اور ریئل ٹائم ڈیٹا کے ذریعے قرضوں کے استعمال کی نگرانی کی جائے گی تاکہ شفافیت کو یقینی بنایا جا سکے اور زرعی پیداوار میں اضافہ ہو۔
حکومتی حکام کے مطابق اپنا گھر پروگرام اور دیگر مالیاتی اسکیموں کا مقصد کم آمدنی والے طبقات کو سہولت فراہم کرنے معیشت کو متحرک کرنے، تعمیراتی سرگرمیوں کو فروغ دینے اور ملک میں پائیدار ترقی کی راہ ہموار کرنا ہے۔
مزید پڑھیں۔سرکاری ملازمین کی تنخواہوں کے بعد پنشن میں بھی اضافہ