آئی ایس پی آر کے مطابق تاجکستان کے میجر جنرل سیدزودا بابوجون عبدالقادر نے جنرل ساحر شمشاد مرزا سے ملاقات کی۔ دونوں ممالک نے خطے کی سیکیورٹی اور دفاعی تعلقات کو مضبوط کرنے پر اتفاق کیا۔پاک فوج کے شعبہ برائے تعلقاتِ عامہ (آئی ایس پی آر) کی جانب سے جاری بیان کے مطابق تاجکستان کی مسلح افواج کے چیف آف جنرل اسٹاف اور فرسٹ ڈپٹی وزیر دفاع، میجر جنرل سید زودا بابوجون عبدالقادر نے جوائنٹ اسٹاف ہیڈکوارٹرز راولپنڈی کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی جنرل ساحر شمشاد مرزا سے ملاقات کی۔آئی ایس پی آر کے مطابق اس ملاقات میں خطے کی بدلتی ہوئی سلامتی کی صورتحال اور باہمی اسٹریٹجک مفادات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ دونوں فوجی رہنماؤں نے پاکستان اور تاجکستان کے درمیان گہرے برادرانہ تعلقات کو سراہا اور دفاعی شعبے میں تعاون کو مزید فروغ دینے پر زور دیا۔ترجمان پاک فوج کے مطابق چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی نے معزز مہمان کا استقبال کیا جبکہ میجر جنرل سیدزودا نے پاکستان کی مسلح افواج کی پیشہ ورانہ مہارت اور دہشت گردی کے خلاف قربانیوں کو خراج تحسین پیش کیا۔ملاقات سے قبل مہمان کی آمد پر تینوں مسلح افواج کے چاک و چوبند دستے نے انہیں گارڈ آف آنر پیش کیا، جو دونوں ممالک کے قریبی اور مضبوط عسکری تعلقات کی عکاسی کرتا ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Nawaiwaqt

کلیدی لفظ: کے مطابق

پڑھیں:

کارگو طیارہ حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ کو کمپنی مالکان سے عدم تعاون کی شکایت

نجی کارگو ایئرلائن کے ٹو ایئرویز کے حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ حادثے کی وجوہات جاننے کے منتظر ہیں۔ انہوں نے نجی کارگو کمپنی کے مالکان کی جانب سے عدم تعاون کی شکایت بھی کی ہے، متاثرین کیلئے اب تک کسی معاوضہ کا اعلان بھی نہیں ہوا۔

7 جولائی کو شارجہ سے کراچی آنے والا نجی کارگو کمپنی کے ٹو ایئرویز کا بوئنگ 737 طیارہ بلوچستان کے ساحل سے آگے گہرے سمندر میں گر کر تباہ ہو گیا تھا۔ حادثے کے مقام سے طیارے کا کچھ ملبہ ضرور ملا ہے لیکن سمندر کی تہہ میں پہنچ جانے والے طیارے کے بلیک باکس، کاکپٹ اور عملے کا تاحال کوئی سراغ نہیں مل سکا۔ متاثرین کا مطالبہ ہے کہ اس کام کیلئے غیر ملکی ماہر کمپنیوں سے مدد لی جائے۔

نجی کارگو طیارے کا ملبا تفتیشی ٹیم کے سپرد، بلیک باکس، عملے کے 5 ارکان کی تلاش جاری

ترجمان پاکستان ایئرپورٹ اتھارٹی (پی اے اے) کے مطابق کارگو طیارے کے مزید ملبے اور عملےکی تلاش گہرے سمندر میں جاری ہے حادثے کے شکار طیارے کے مزید پرزے اور ملبہ سمندر سے برآمد کر لیا گیا۔

شہید کپٹن رضوان کے اہل خانہ نے عملے اور طیارے کے ملبے کی تلاش کیلئے پاکستان نیوی اور دیگر اداروں پر اعتماد کا اظہار کیا لیکن کارگو کمپنی کی شدید بے حسی کی شکایت کی اور مطالبہ کیا کہ کے ٹو ایئرویز کے بیرون ملک موجود مالکان کو واپس لا کر تحقیقات میں شامل کیا جائے۔

متاثرین کے مطابق کے ٹو ایئرویز کی انتظامیہ کی بے حسی کا اندازہ اس سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ ملازمین کو 3 ماہ سے تنخواہیں نہیں ملی تھیں۔ یہ تنخواہ اس المناک حادثہ کے بعد ادا کی گئی۔

ایوی ایشن ماہرین کے مطابق بوئنگ 737 کارگو طیارے کا حادثہ کیوں اور کیسے پیش آیا، یہ اہل خانہ کو بتانا اور حادثہ متاثرین کو معاوضے کی ادائیگی یقینی بنانا حکومت اور ریاست کی ذمہ داری ہے۔

متعلقہ مضامین

  • پاکستان کا بنگلہ دیش کے ساتھ تعلیمی تعاون بڑھانے کا عزم، ڈھاکہ یونیورسٹی کے شعبہ اردو میں کمپیوٹر لیب قائم
  • علماء کا سرویکل کینسر سے بچاؤ کی مہم میں محکمہ صحت کے ساتھ تعاون کا اعلان 
  • کارگو طیارہ حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ کو کمپنی مالکان سے عدم تعاون کی شکایت
  • سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو
  • علی الزیدی کا ایران کا اہم دورہ، دوطرفہ تعلقات بڑھانے پر اتفاق
  • چینی سائنسدانوں کی اہم پیش رفت، نیند بڑھانے والا قدرتی مالیکیول دریافت
  • اسلام آباد، بلاول بھٹو سے وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان امجد حسین کی ملاقات
  • مریم نواز کا اربن فلڈنگ اور سیلاب سے نمٹنے کے لیے وسائل بروئے کار لانے کا حکم
  • سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور اس کی پاسداری کریں گے: پاکستان
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم