گوگل میپ کا استعمال؛ خاتون گاڑی سمیت نالے میں جا گریں
اشاعت کی تاریخ: 26th, July 2025 GMT
جدید دور کے جدید تقاضوں سے ہم آہنگ ہونے کیلئے استعمال ہونے والی ٹیکنالوجی کبھی کبھار زحمت کا باعث بھی بن جاتی ہیں۔
گوگل میپ پر اندھا اعتبار اکثر نقصان دہ ثابت ہو رہا ہے۔ کبھی سیلاب زدہ راستے، کبھی غلط پن کیے گئے مقامات، اور کبھی وقت کی غلط کیلکولیشن سے حادثات جنم لے رہے ہیں۔
ممبئی میں پیش آنے والے ایک عجیب وغریب واقعے میں گوگل میپ کی مدد سے منزل مقصود کی جانب جانے والی خاتون کے ساتھ ناخوشگوار حادثہ پیش آگیا۔
بھارتی میڈیا کے مطابق خاتون کو گوگل میپ نے بیلاپور میں واقع بے بریج کے نیچے کا راستہ دکھا دیا، جب کہ اصل راستہ پل کے اوپر سے تھا۔
خاتون نے بھی بلا تردد راستہ فالو کیا اور نتیجتاً گاڑی دھروتارا جیٹی کے قریب ایک کیچڑ زدہ نالے میں جا گری۔
خوش قسمتی سے قریب موجود میرین سیکیورٹی اہلکاروں نے فوراً موقع پر پہنچ کر خاتون کو بحفاظت نکال لیا۔
بعد میں ایک بھاری کرین کی مدد سے خاتون کی سفید رنگ کی کار کو بھی پانی سے باہر نکال لیا گیا۔
یاد رہے کہ یہ پہلا موقع نہیں جب گوگل میپ کے راستے نے کسی کو مشکل میں ڈالا ہو۔
گزشتہ برس اتر پردیش میں 3 افراد اس وقت ہلاک ہو گئے جب ان کی گاڑی ایک ٹوٹے ہوئے پل سے نیچے دریا میں جا گری۔
اسی سال نیپال-گورکھپور روٹ پر ایک گاڑی نامکمل فلائی اوور سے نیچے گرنے سے بال بال بچی تھی۔
ماہرین نے متنبہ کیا ہے کہ خاص طور پر زیر تعمیر سڑکوں، کمزور انفراسٹرکچر، یا برے موسم میں راستے کی تصدیق خود کرنا نہایت ضروری ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
لاہور کی رہائشی خاتون کی منشیات برآمدگی کیس میں ضمانت منظور
سپریم کورٹ نے لاہور کی رہائشی خاتون کی منشیات برآمدگی کے کیس میں 5 لاکھ روپے کے مچلکوں کے عوض ضمانت منظور کر لی۔
جسٹس ہاشم کاکڑ کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے لاہور کی رہائشی خاتون کے خلاف منشیات برآمدگی کے کیس کی سماعت کی۔
دوران سماعت ملزمہ کے وکیل نے اے این ایف ریڈ کی سی سی ٹی وی فوٹیج چلائی، عدالت نے ملزمہ کے گھر کی سی سی ٹی وی فوٹیج کا فرانزک کرانے کا حکم دے دیا۔
پولیس کے مطابق ایک کیس میں ملزمہ کے قبضے سے دستی بم بھی برآمد ہوا تھا۔
ملزمہ کے وکیل احسن بھون نے کہا ہے کہ واضح دیکھا جاسکتا ہے کہ اے این ایف اہلکار منشیات لے کر گھر آتا ہے، خود منشیات گھر میں رکھ کر جھوٹا کیس بنایا گیا، سی سی ٹی وی فوٹیج میں نظر آنے والا اہلکار کمرۂ عدالت میں موجود ہے۔
اے این ایف کے اہلکار نے فوٹیج میں موجودگی کی تردید کر دی۔
جس پر جسٹس اشتیاق ابراہیم نے کہا کہ اے این ایف کے اسلحہ بردار اہلکار تشدد کرتے نظر آرہے ہیں۔
اے این ایف کے وکیل نے کہا کہ یہ فوٹیج کسی اور گھر میں کیے گئے ریڈ کی ہے۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے کہا کہ اے این ایف کے 10 اہلکار تھے مگر 2 لڑکیاں پھر بھی بھاگ گئیں، اتنے ہٹے کٹے اہلکار لڑکیوں کو نہیں پکڑ سکے مگر گاڑی پکڑ لی۔
ملزمہ کے وکیل احسن بھون نے کہا کہ گاڑی کی ریکوری کا ریکارڈ بھی تبدیل کیا گیا ہے۔
جسٹس اشتیاق ابراہیم نے اے این ایف کے وکیل سے کہا کہ اے این ایف کے بیانات پر لوگوں کو پھانسی پر لٹکاتے اور عمر قید سناتے ہیں، خدا کا خوف کریں کمرۂ عدالت میں جھوٹ نہ بولیں۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے کہا کہ اے این ایف کیا کر رہا ہے، ملزمان تحویل میں ہوتے مار دیے جاتے ہیں، ایک کیس میں ملزم کی ہتھ کڑیوں کے ساتھ تصویر تھی جو اگلے روز مار دیا گیا، جوانی ہمیشہ نہیں رہنی کچھ خیال کیا کریں۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے اے این ایف کے اہلکار سے استفسار کیا کہ آپ نے کبھی چرس پی ہے؟ جس پر اہلکار نے کہا کہ نہیں سر میں نے کبھی چرس نہیں پی۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ چرس نہیں پی اس لیے آپ میں احساس بھی نہیں ہے، جس پر عدالت میں قہقہے لگ گئے۔