’گاندھی نہیں کہ دوسرا گال آگے کر دوں‘ علیزے شاہ نے ایسا کیوں کہا؟
اشاعت کی تاریخ: 27th, July 2025 GMT
پاکستانی اداکارہ علیزے شاہ حالیہ دنوں اس وقت خبروں میں آئیں جب انہوں نے اپنی ساتھی اداکارہ منسا ملک کے غیر مناسب رویے پر تنقید کی۔
رپورٹس کے مطابق ڈراما ’محبت کی آخری کہانی‘ کے سیٹ پر شوٹنگ کے دوران منسا ملک نے علیزے شاہ کو دھکا دیا اور تھپڑ مارا، جس کے جواب میں علیزے شاہ نے ان پر اپنی چپل پھینکی۔ اداکار سامی خان نے بھی اس واقعے کی تصدیق کی۔
یہ بھی پڑھیں:جو برا کرے گا انجام بھگتے گا، عروہ حسین بھی علیزے شاہ کی حمایت میں بول اٹھیں
سوشل میڈیا پر علیزے شاہ کے بیانات وائرل ہو گئے اور ان کے مداح منسا ملک پر تنقید کرنے لگے۔
منسا ملک نے تاحال خاموشی اختیار کر رکھی ہے اور صرف چند معنی خیز اقتباسات شیئر کیے ہیں۔
علیزے شاہ نے سوشل میڈیا صارفین کا شکریہ ادا کیا اور کہا ہے کہ ان کا کمنٹس باکس بھر گیا ہے لیکن اسے شرمندگی نہیں۔ کچھ لوگ اپنی غلطی ماننے کو تیار ہی نہیں ہوتے۔
انہوں نے کہا کہ میں چاہتی ہوں کہ آپ لوگ اسے تب تک ٹرول کریں جب تک یہ مجھ سے معافی نہ مانگے۔
یہ بھی پڑھیں:علیزے شاہ کا مزید کام کرنے سے انکار، سبب کیا نکلا؟
علیزے شاہ کا کہنا تھا کہ منسا نے پہلے بھی میرے خلاف کیس کیا اور بعد میں سفارشیں کروائیں کہ میں خاموش ہو جاؤں۔
انہوں نے کہا کہ اگر کوئی مجھ پر ہاتھ اٹھائے گا تو میں چپل ماروں گی، میں گاندھی نہیں کہ دوسرا گال آگے کر دوں۔ بدمعاشوں سے لڑو اور جواب دو۔
علیزے شاہ کے اس بیان پر سوشل میڈیا صارفین نے مختلف ردِ عمل دیے۔
ایک فین نے کہا ’منسا ملک نے مجھے بلاک کر دیا‘۔
دوسرے نے لکھا ’دونوں اداکارائیں پیاری لگتی ہیں، مسئلہ حل ہونا چاہیے‘۔
جبکہ کسی نے کہا ’دونوں ہی توجہ چاہتی ہیں‘۔
یہ معاملہ ابھی تک موضوعِ بحث ہے اور مداحوں کی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
چپل ڈراما علیزے شاہ گاندھی منسا ملک.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: چپل علیزے شاہ گاندھی منسا ملک علیزے شاہ منسا ملک نے کہا
پڑھیں:
مسجد اقصیٰ کی حرمت پر کوئی سمجھوتہ نہیں، پاکستان سمیت 8 ممالک کے وزرائے خارجہ کا دوٹوک اعلان
پاکستان سمیت آٹھ مسلم ممالک کے وزرائے خارجہ نے مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں اور انتہا پسند عناصر کی حالیہ کارروائیوں کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ ایسے اقدامات نہ صرف مذہبی تقدس کی پامالی ہیں بلکہ پورے خطے میں کشیدگی کو خطرناک حد تک بڑھا رہے ہیں۔
مشترکہ اعلامیے پر پاکستان، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر، مصر، اردن، ترکیہ اور انڈونیشیا کے وزرائے خارجہ نے اتفاق کیا۔ اعلامیے میں کہا گیا کہ مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی اشتعال انگیز کارروائیاں اور اسرائیلی انتہا پسند وزرا و گروہوں کی سرگرمیاں ناقابلِ قبول ہیں اور ان سے خطے میں امن و استحکام کو شدید خطرات لاحق ہو رہے ہیں۔
وزرائے خارجہ نے اس بات پر زور دیا کہ مسجد اقصیٰ کی تاریخی، قانونی اور مذہبی حیثیت کا ہر صورت احترام کیا جانا چاہیے اور اس میں کسی بھی قسم کی یکطرفہ تبدیلی ناقابلِ قبول ہے۔
مشترکہ اعلامیے میں مسجد اقصیٰ کے انتظامی اور مذہبی امور پر اردن کے محکمہ اوقاف کے خصوصی اختیار کا اعادہ کرتے ہوئے عالمی برادری سے مطالبہ کیا گیا کہ اس حیثیت کو برقرار رکھنے کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔
اعلامیے میں اسرائیل سے مطالبہ کیا گیا کہ مسلمانوں کو مسجدِ اقصیٰ میں عبادت سے روکنے کا سلسلہ فوری طور پر بند کیا جائے، مذہبی آزادی کا احترام کیا جائے اور ایسے تمام اقدامات سے گریز کیا جائے جو مزید کشیدگی اور تصادم کا سبب بن سکتے ہیں۔