عمران خان کے بیٹے آرہے ہیں یا جن بھوت؟ وفاقی وزیر کا دلچسپ تبصرہ
اشاعت کی تاریخ: 27th, July 2025 GMT
وفاقی وزیررانا تنویر حسین نے عمران خان کے بیٹوں کے آمد کے حوالے سے دلچسپ تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی کے بیٹے آرہے ہیں یا جن بھوت آرہے ہیں؟ بانی کے بیٹوں کا انتظار کررہے ہیں کہ وہ آئیں۔
اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے رانا تنویر حسین نے کہا کہ پیپلز پارٹی کو پہلے بھی حکومت میں آنے کی دعوت دی وہ نہیں آئے مگر اب مجھے علم نہیں وہ حکومت میں آرہے ہیں یا نہیں، پنجاب میں پیپلز پارٹی کو انتظامی امور میں مسئلہ ہے، وہ چاہتے ہیں انتظامی امور میں ان کا عمل دخل ہو، ہم نے پہلے ہی ان کو بہت زیادہ پذیرائی دی ہوئی ہے۔
رانا تنویر حسین نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کے بیٹے آرہے ہیں یا جن بھوت آرہے ہیں، ہم انتظار کررہے ہیں کہ وہ پاکستان آئیں، ہمیں معلوم ہے اور قوم کو بھی بتانا چاہتے ہیں عمران خان کو جن پاکستان مخالف قوتوں کی سپورٹ حاصل ہے انہی قوتوں کے ساتھ ان کے بیٹے رابطے کررہے ہیں جو عمران خان کی طرح ناکام ہوں گے۔
انہوں نے کہا کہ عمران خان کے کیس عدالتوں میں ہیں، پاکستان کی عدالتیں آزاد ہیں،عمران خان کو اپنے کیسز کا سامنا کرنا ہوگا اور قانون انصاف کے تقاضے پورا کرنا ہوں گے۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ بھارت سن لے اس نے ہمارا پانی روکا تو اسے جنگ تصویر کیا جائے گا، کشمیر ہماری شہ رگ ہے، بھارت کے ساتھ اس وقت تک تعلقات ٹھیک نہیں ہوسکتے جب تک کشمیر کا مسئلہ اقوام متحدہ کی قرادادوں کے مطابق حل نہیں ہوجاتا۔
رانا تنویر حسین نے کہا کہ زرعی انقلاب کے لیے وزیر اعظم نے بہت سی ہدایات دی ہیں، ہم چاہتے ہیں کسان کو تمام سہولتیں ملیں، معیاری رجسٹرڈ بیج اورکھاد ملے، عوام دیکھیں گے اگلے چھ ماہ میں زرعی انقلاب کے اثرات نظر آنا شروع ہوجائیں گے۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
سپریم کورٹ کو نیب کیسز سننے کا اختیار نہیں، عدالت عظمیٰ کا بڑا فیصلہ
اسلام آباد(نیوز ڈیسک) عدالت عظمیٰ نے بڑا فیصلہ جاری کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ سپریم کورٹ کو نیب کیسز سننے کا اختیار نہیں ہے۔
سپریم کورٹ کے جسٹس محمد علی مظہر نے مختصر فیصلہ سناتے ہوئے قرار دیا کہ نیب کیسز میں مرکزی اپیلیں اور ضمانت کی درخواستیں وفاقی آئینی عدالت سنے گی ۔ نیب قانون کی شق 32 اور 32 اے کے تحت سپریم کورٹ کو اختیار سماعت ہی نہیں ہے۔
فیصلے میں قرار دیا گیا کہ نیب کے کیسز آرٹیکل 175 اے اور ایف کے تحت کے تحت تمام کیسز وفاقی آئینی عدالت کو ٹرانسفر تصور سمجھے جائیں گے۔
واضح رہے کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان نے بھی ہائیکورٹ کے ضمانت کیس کیخلاف سپریم کورٹ سے رجوع کیا تھا اور رجسٹرار سپریم کورٹ نے درخواست اعتراضات عائد کرکے واپس کی تھی۔
سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد اب بانی پی ٹی آئی کی ضمانت کا کیس وفاقی آئینی عدالت سنے گی۔
مزید پڑھیں۔سونے کی قیمت میں نمایاں کمی،فی تولہ نئی قیمت جانئے