بھارت میں زیادتی کے پے در پے واقعات؛ مودی راج میں خواتین کی زندگی اجیرن
اشاعت کی تاریخ: 28th, July 2025 GMT
بھارتی میں زیادتی کے پے در پے واقعات اور ان پر مودی حکومت کی ناکامی نے خواتین کی زندگی کو جہنم بنا دیا ہے۔
مودی راج اور ریاستی سرپرستی میں بھارتی خواتین خود کو غیرمحفوظ تصور کرنے لگی ہیں۔ بی جے پی کے کٹھ پتلی وزیراعظم نریندر مودی کے دور اقتدار میں ریاستی ناکامیوں کا شکار خواتین ایک بار پھر ظلم کے نشانے پر ہیں، جہاں عصمت دری کا ایک اور واقعہ مودی کی مسلسل ریاستی ناکامی کو ثابت کرتا ہے۔
این ڈی ٹی وی کے مطابق بہار میں 26 سالہ خاتون کو ایمبولینس میں اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا ۔ متاثرہ خاتون گارڈ بھرتی کے دوران جسمانی ٹیسٹ دیتے ہوئے بے ہوش ہو گئی تھی۔
متاثرہ خاتون کا کہنا ہے کہ نیم بے ہوشی کے دوران ایمبولینس میں 3 سے 4 افراد نے زیادتی کا نشانہ بنایا جب کہ سی سی ٹی وی فوٹیج سے ایمبولینس کے روٹ اور وقت کی تصدیق کر لی گئی ہے۔
بھارتی میڈیا کے مطابق رکنِ پارلیمنٹ چراغ پاسوان نے بہار میں جرائم کی بڑھتی وارداتوں پر تشویش کا اظہارکیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت عوام کی زندگیوں سے کھیل رہی ہے۔ ریاستی انتظامیہ مجرموں کے سامنے جھک چکی ہے۔ قتل، عصمت دری ، چوری، ڈکیتی جیسے جرائم مسلسل ہو رہے ہیں۔ یہ صرف زیادتی نہیں بلکہ مودی کی سرپرستی میں ایک مکمل ادارہ جاتی ناکامی ہے۔
یہ واقعہ کسی سنسان گلی میں نہیں، بلکہ سرکاری بھرتی کے دوران پیش آیا ہے۔ ناقِص انتظامات کے باعث پیش آنے والے واقعے نے مودی سرکار کی نااہلی کو بے نقاب کر دیا ہے۔ مودی سرکار کے ’’بیٹی بچاؤ، بیٹی پڑھاؤ‘‘ جیسے نعرے محض سیاسی دکھاوا ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
لاہور کی رہائشی خاتون کی منشیات برآمدگی کیس میں ضمانت منظور
سپریم کورٹ نے لاہور کی رہائشی خاتون کی منشیات برآمدگی کے کیس میں 5 لاکھ روپے کے مچلکوں کے عوض ضمانت منظور کر لی۔
جسٹس ہاشم کاکڑ کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے لاہور کی رہائشی خاتون کے خلاف منشیات برآمدگی کے کیس کی سماعت کی۔
دوران سماعت ملزمہ کے وکیل نے اے این ایف ریڈ کی سی سی ٹی وی فوٹیج چلائی، عدالت نے ملزمہ کے گھر کی سی سی ٹی وی فوٹیج کا فرانزک کرانے کا حکم دے دیا۔
پولیس کے مطابق ایک کیس میں ملزمہ کے قبضے سے دستی بم بھی برآمد ہوا تھا۔
ملزمہ کے وکیل احسن بھون نے کہا ہے کہ واضح دیکھا جاسکتا ہے کہ اے این ایف اہلکار منشیات لے کر گھر آتا ہے، خود منشیات گھر میں رکھ کر جھوٹا کیس بنایا گیا، سی سی ٹی وی فوٹیج میں نظر آنے والا اہلکار کمرۂ عدالت میں موجود ہے۔
اے این ایف کے اہلکار نے فوٹیج میں موجودگی کی تردید کر دی۔
جس پر جسٹس اشتیاق ابراہیم نے کہا کہ اے این ایف کے اسلحہ بردار اہلکار تشدد کرتے نظر آرہے ہیں۔
اے این ایف کے وکیل نے کہا کہ یہ فوٹیج کسی اور گھر میں کیے گئے ریڈ کی ہے۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے کہا کہ اے این ایف کے 10 اہلکار تھے مگر 2 لڑکیاں پھر بھی بھاگ گئیں، اتنے ہٹے کٹے اہلکار لڑکیوں کو نہیں پکڑ سکے مگر گاڑی پکڑ لی۔
ملزمہ کے وکیل احسن بھون نے کہا کہ گاڑی کی ریکوری کا ریکارڈ بھی تبدیل کیا گیا ہے۔
جسٹس اشتیاق ابراہیم نے اے این ایف کے وکیل سے کہا کہ اے این ایف کے بیانات پر لوگوں کو پھانسی پر لٹکاتے اور عمر قید سناتے ہیں، خدا کا خوف کریں کمرۂ عدالت میں جھوٹ نہ بولیں۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے کہا کہ اے این ایف کیا کر رہا ہے، ملزمان تحویل میں ہوتے مار دیے جاتے ہیں، ایک کیس میں ملزم کی ہتھ کڑیوں کے ساتھ تصویر تھی جو اگلے روز مار دیا گیا، جوانی ہمیشہ نہیں رہنی کچھ خیال کیا کریں۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے اے این ایف کے اہلکار سے استفسار کیا کہ آپ نے کبھی چرس پی ہے؟ جس پر اہلکار نے کہا کہ نہیں سر میں نے کبھی چرس نہیں پی۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ چرس نہیں پی اس لیے آپ میں احساس بھی نہیں ہے، جس پر عدالت میں قہقہے لگ گئے۔