وزیراعلیٰ کی تیراہ واقعے کی مذمت، جاں بحق افراد کیلئے فی کس ایک کروڑ روپے کا اعلان
اشاعت کی تاریخ: 28th, July 2025 GMT
علی امین گنڈا پور نے کہا کہ قبائلی عمائدین اور مشران کے جرگوں کا سلسلہ ڈویژنل اور پھر صوبائی سطح پر آنے والے ہفتے سے شروع ہوجائے گا۔ اسلام ٹائمز۔ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور نے نے تیراہ واقعے پر گہرے رنج اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے جاں بحق اور زخمی ہوئے امداد کا اعلان کیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا نے وادی تیراہ میں فائرنگ سے جاں بحق ہونے والوں کے لواحقین کیلیے فی کس ایک کروڑ جبکہ زخمیوں کو فی کس 25 لاکھ روپے دینے کا اعلان کیا۔ وزیراعلیٰ نے قبائلی مشران اور عوامی نمائندوں پر مشتمل جرگہ پشاور طلب کیا ہے تاکہ مقامی جذبات و تحفظات کو سنا جا سکے۔ وزیراعلیٰ نے ضلعی انتظامیہ اور اداروں کو عوامی رابطے مضبوط بنانے اور نظم و ضبط برقرار رکھنے کی ہدایت کی۔
وزیراعلیٰ کا کہنا ہے کہ خیبر پختونخوا حکومت پائیدار امن، عوامی تحفظ اور باہمی احترام کے فروغ کے لیے پرعزم ہے۔ انہوں نے کہا کہ آل پارٹیز کانفرنس میں اِنہی واقعات اور معاملات کو حل کرنے پر سنجیدگی سے غور کرکے تجاویز مرتب کی گئی تھیں۔ علی امین گنڈا پور نے کہا کہ قبائلی عمائدین اور مشران کے جرگوں کا سلسلہ ڈویژنل اور پھر صوبائی سطح پر آنے والے ہفتے سے شروع ہوجائے گا۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
پڑھیں:
خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان، پنجاب اور کشمیر میں تیز بارشوں کی پیشگوئی، لینڈ سلائیڈنگ کا خدشہ
محکمہ موسمیات کے مطابق موسلادھار بارشوں کے باعث اسلام آباد/راولپنڈی، پشاور، نوشہرہ، گجرات، گوجرانوالہ، لاہور، سیالکوٹ، ساہیوال، خانیوال، ملتان اور فیصل آباد میں نشیبی علاقے زیر آب آنے کا خدشہ ہے۔ اسلام ٹائمز۔ آئندہ چوبیس گھنٹوں کے دوران موسلادھار بارشوں کے سبب خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان، مری، گلیات اور کشمیر کے پہاڑی علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ کا خدشہ ہے۔ محکمہ موسمیات نے اس حوالے سے انتباہ جاری کردیا جس میں کہا ہے کہ آئندہ چوبیس گھنٹوں کے دوران کشمیر، مری، گلیات، شمال مشرقی پنجاب، اسلام آباد، خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان، ڈیرہ غازی خان کے پہاڑی ندی نالوں اور شمال مشرقی بلوچستان کے مقامی/ بر ساتی ندی نالوں میں طغیانی کا خدشہ ہے۔ محکمہ موسمیات کے مطابق موسلادھار بارشوں کے باعث اسلام آباد/راولپنڈی، پشاور، نوشہرہ، گجرات، گوجرانوالہ، لاہور، سیالکوٹ، ساہیوال، خانیوال، ملتان اور فیصل آباد میں نشیبی علاقے زیر آب آنے کا خدشہ ہے۔ موسلادھار بارش، تیز آندھی اور آسمانی بجلی گرنے کے باعث کمزور تعمیرات (سولر پینلز، بجلی کے کھمبے، بل بورڈز وغیرہ) کو نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے۔