غیرت کے نام پر 17 سالہ سدرہ کے قتل میں ملوث والد، بھائی اور سابق شوہر نے اعتراف جرم کرلیا
اشاعت کی تاریخ: 28th, July 2025 GMT
راولپنڈی میں غیرت کے نام پر 17 سالہ سدرہ کے لرزہ خیز قتل کے مقدمے میں گرفتار والد، بھائی، سابق شوہر سمیت چھ ملزمان کو پولیس نے سخت سیکیورٹی میں سول جج قمر عباس تارڑ کی عدالت میں پیش کیا، جہاں عدالت نے تمام ملزمان کو چار روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کر دیا۔
یہ بھی پڑھیں: راولپنڈی میں جرگے کے حکم پر قتل کی گئی لڑکی کی قبر کشائی، عدالتی حکم پر کارروائی مکمل
پولیس کے مطابق گرفتار افراد میں مقتولہ کا والد عرب گل، بھائی ظفر گل، سابق شوہر ضیا الرحمان، چچا مانی، سسر سلیم اور مبینہ طور پر قتل کا حکم دینے والا جرگہ سربراہ عصمت اللہ شامل ہیں۔
عدالت میں پیشی کے موقع پر سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے تھے جبکہ شہریوں کی بڑی تعداد عدالت کے باہر جمع ہو گئی۔ پولیس نے تمام ملزمان کو چہرے ڈھانپ کر عدالت میں پیش کیا تاکہ ان کی شناخت ظاہر نہ ہو۔
تفتیشی افسر نے عدالت کو بتایا کہ ابتدائی تحقیقات کے دوران تمام ملزمان نے سدرہ کے قتل کا اعتراف کر لیا ہے۔ افسر کے مطابق لڑکی کو گلا دبا کر قتل کیا گیا اور واردات میں استعمال ہونے والا تکیہ و دیگر شواہد برآمد کرنے باقی ہیں۔ تفتیشی ٹیم ملزمان سے ان کے تحریری بیانات بھی حاصل کرے گی، اس لیے سات روزہ جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی گئی۔
یہ بھی پڑھیں: راولپنڈی میں غیرت کے نام پر خاتون کا قتل، لرزہ خیز تفصیلات سامنے آگئیں
عدالت نے دلائل سننے کے بعد تمام ملزمان کا چار روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کرتے ہوئے پولیس کو حکم دیا کہ تفتیش مکمل کر کے انہیں یکم اگست کو دوبارہ عدالت میں پیش کیا جائے۔
یاد رہے کہ
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news اعتراف جرم راولپنڈی سدرہ قتل ملزمان والدین.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اعتراف جرم راولپنڈی سدرہ قتل والدین عدالت میں
پڑھیں:
کراچی: زیادتی کی شکار غیرملکی خاتون نے ملزم کو معاف کردیا
کراچی کے علاقے ڈیفنس میں زیادتی کا شکار غیر ملکی خاتون نے ملزم کو معاف کردیا۔ جوڈیشل مجسٹریٹ جنوبی ملزم کے جسمانی ریمانڈ میں چار روز کی توسیع کردی۔
کراچی میں درخشاں تھانے کی حدود میں امریکی خاتون سے زیادتی کے مقدمے کی سماعت جوڈیشل مجسٹریٹ جنوبی کی عدالت میں ہوئی پولیس نے گرفتار ملزم جیسپر عرف آدی محمود کو عدالت میں پیش کیا۔
متاثرہ خاتون نے عدالت میں زیر دفعہ 164 کا بیان ریکارڈ کروایا، متاثرہ خاتون نے ملزم کو معاف کرنے کا بیان دیا۔
پولیس کا کہنا ہے کہ مقدمہ میں ملوث ملزم آدی محمود کو گرفتار کرلیا ہے، ملزم تھانا درخشاں میں گزشتہ ڈیڑھ ماہ سے صفائی کا کام کر رہا تھا۔
خاتون نے بیان میں کہا کہ پولیس افسر نے اس کا دستخط شدہ بیان جلادیا، پولیس افسر نے کہا کہ مقدمہ درج کروائیں ورنہ ہمارے لیے مشکل ہوجائے گی۔
متاثرہ خاتون نے کہا کہ ملزم کی زندگی خراب نہیں کرنا چاہتی۔
عدالت نے متاثرہ خاتون کا بیان کیس کا حصہ بنادیا جبکہ عدالت نے ملزم جیسپر کے جسمانی ریمانڈ میں چار روز کی توسیع کردی۔
عدالت نے تفتیشی افسر کو ملزم کی عمر کے تعین سے متعلق رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی۔