افغان ٹرانزٹ ٹریڈ ‘دونوں ممالک کا پابندیوں کے خاتمے پر اتفاق
اشاعت کی تاریخ: 29th, July 2025 GMT
اسلام آباد(آئی این پی)افغان ٹرانزٹ ٹریڈ پر عائد تجارتی پابندیوں کے خاتمے کے سلسلے میں بڑی پیش رفت ہوئی ہے، دونوں ممالک کا ٹرانزٹ ٹریڈ پر پابندیوں کے خاتمے پر اتفاق کر لیا ہے۔رپورٹ کے مطابق ذرائع وزارت تجارت کا کہنا ہے کہ افغانستان نے پاک افغان ٹرانزٹ ٹریڈ میں اضافے کے لیے پاکستان سے سہولیات مانگ لی ہیں، پاکستان کی جانب سے جائزے کے بعد پابندیاں ہٹانے پر اتفاق کیا گیا۔افغان ٹرانزٹ ٹریڈ پر پابندیاں ختم کرنے کا معاملہ حالیہ مذاکرات میں آیا تھا، جس میں افغان وفد کی قیادت نائب وزیر صنعت و تجارت اور پاکستانی وفد کی قیادت سیکریٹری تجارت نے کی تھی، مذاکرات میں افغانستان نے ٹرانزٹ ٹریڈ پر تمام پابندیاں ختم کرنے کی تجویز دی تھی اور تمام اشیا پر عائد پابندیاں ہٹانے کا مطالبہ کیا تھا۔افغان حکومت کا موقف تھا کہ افغانستان کی معیشت بہتر ہونے سے افغانستان کی درآمدات بڑھ گئی ہیں، اور مختلف ترقیاتی منصوبوں کے باعث افغانستان کی معیشت کا حجم بڑھ رہا ہے۔ چناں چہ پڑوسی ملک نے ٹرانزٹ ٹریڈ پر SRO1397/2023 ختم کرنے کی تجویز دی۔افغانستان صنعتی استعمال کے لیے مطلوب ضروری اشیا کی لسٹ فراہم کرے گا، پاکستان نے ضروری اشیا کا جائزہ لے کر پابندی والی لسٹ سے مصنوعات کے نام نکالنے کی یقین دہانی کرائی، پڑوسی ملک کی جانب سے افغان ٹرانزٹ ٹریڈ کی اشیا پر 10 فی صد پروسیسنگ فیس بھی ختم کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔پاکستان کا کہنا ہے کہ افغان ٹرانزٹ ٹریڈ سے 53 فی صد اشیا پر پابندی پہلے ہی ختم کی جا چکی ہے، پاکستان کی جانب سے پروسیسنگ فیس کے خاتمے کے لیے افغانستان سے لسٹ فراہم کرنے کا مطالبہ کیا گیا، فہرست کا جائزہ لینے کے بعد پراسیسنگ فیس خاتمے کے پر بھی اتفاق کیا گیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
پڑھیں:
علی الزیدی کا ایران کا اہم دورہ، دوطرفہ تعلقات بڑھانے پر اتفاق
ایرانی صدر سے ملاقات میں عراقی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ عراق اور ایران کی سلامتی ایک دوسرے سے جڑی ہوئی ہے اور عراق اپنی سرزمین ایران کے خلاف کسی بھی کارروائی کے لیے استعمال نہیں ہونے دے گا۔ اسلام ٹائمز۔ امریکا کے دورے کے بعد عراقی وزیراعظم علی الزیدی نے ایران کا اہم دورہ کیا، جہاں انہوں نے ایرانی صدر مسعود پزشکیان اور اعلیٰ ایرانی قیادت سے ملاقاتیں کیں۔خبر ایجنسی کے مطابق ایرانی صدر مسعود پزشکیان اور عراقی وزیراعظم کے درمیان ہونے والے مذاکرات میں دوطرفہ تعلقات، اقتصادی تعاون، توانائی، تجارت اور علاقائی سلامتی سمیت مختلف امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ دونوں ممالک نے اقتصادی تعاون اور مشترکہ سرمایہ کاری کو فروغ دینے پر اتفاق کیا، جبکہ نقل و حمل اور شہری تعاون سے متعلق نئے معاہدے بھی طے پائے۔
عراقی وزیراعظم علی الزیدی نے اس موقع پر کہا کہ عراق اور ایران کی سلامتی ایک دوسرے سے جڑی ہوئی ہے اور عراق اپنی سرزمین ایران کے خلاف کسی بھی کارروائی کے لیے استعمال نہیں ہونے دے گا۔ ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا کہ ایران اور عراق کے درمیان تاریخی، مذہبی اور ثقافتی رشتے نہایت مضبوط ہیں، جبکہ خطے کا استحکام دونوں ممالک کی ترقی اور خوشحالی کے لیے ناگزیر ہے۔ خبر ایجنسی کے مطابق دورے کے اختتام پر منعقدہ دستخطی تقریب میں ایرانی اور عراقی وزراء نے مختلف تعاون کے معاہدوں کا تبادلہ بھی کیا۔