چین: شرح پیدائش میں اضافے کے لیے نئی پیشکش کیا ہے؟
اشاعت کی تاریخ: 29th, July 2025 GMT
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 29 جولائی 2025ء) چین کے سرکاری میڈیا نے پیر کے روز بتایا کہ اب حکومت تین سال سے کم عمر کے بچوں کے والدین کو سالانہ 3,600 یوآن (500 ڈالر) کی سبسڈی فراہم کرے گی۔
گزشتہ تین برسوں سے چین کی آبادی میں مسلسل کمی واقع ہوئی ہے، جو بھارت کے بعد دنیا کی دوسری سب سے زیادہ آبادی والی ملک ہے اور اسے کم ہوتی ہوئی آبادی کے بحران کا سامنا ہے۔
سن 2024 میں مجموعی بچوں کی پیدائش کی تعداد 9.
چین میں اب شادیوں کی شرح بھی ریکارڈ کے طور پر کم ترین سطح پر پہنچ گئی ہے۔
(جاری ہے)
نوجوان جوڑے بچوں کی پرورش کے زیادہ اخراجات اور کیریئر کے خدشات کی وجہ سے بچے پیدا کرنے سے گریز کرتے ہیں۔
صوبوں کا شرح پیدائش بڑھانے پر زورسرکاری اعداد و شمار کے مطابق چین میں 20 سے زیادہ صوبائی سطح کی انتظامیہ اب بچوں کی دیکھ بھال پر سبسڈی فراہم کرتی ہیں۔
مارچ میں شمالی چین علاقے میں منگولیا کے دارالحکومت ہوہوٹ نے خاندانوں کو مزید بچے پیدا کرنے کے لیے رقم فراہم کرنے کا آغاز کیا تھا۔ اس اسکیم کے تحت تین یا زیادہ بچے والے والدین ہر نئے بچے کے لیے ایک لاکھ یوآن تک رقم حاصل کر سکتے ہیں۔
شمال مشرقی صوبے لیاؤننگ میں شین یانگ کے مقامی حکام اب تیسرا بچہ پیدا کرنے والے خاندانوں کو 500 یوآن ماہانہ اس وقت تک دیتے ہیں، جب تک کہ بچہ تین سال کا نہ ہو جائے۔
"تولیدی صلاحیت کے لیے دوستانہ معاشرہ" بنانے کے لیے چین کا جنوب مغربی صوبہ سیچوان شادی کی چھٹیوں کو پانچ سے بڑھا کر 25 دن کرنے کی تجویز کر رہا ہے اور موجودہ 60 دن کی زچگی کی چھٹیوں کو 150 دن تک کرنے کی بھی تجویز ہے۔
ایک مثبت قدم، تاہم محدود اثرتجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ سبسڈیز فراہم کرنا ایک مثبت قدم ہے، تاہم وہ خبردار کرتے ہیں کہ چین کی آبادی میں کمی کو روکنے یا اس کے سست گھریلو اخراجات کو اٹھانے کے لیے بذات خود یہی اقدام کافی نہیں ہوں گے۔
پن پوائنٹ اثاثہ جات کی انتظام کے صدر اور چیف اکانومسٹ زیوی ژانگ نے خبر رساں ادارے روئٹرز کو بتایا کہ نئی سبسڈی سے ظاہر ہوتا ہے کہ حکومت نے اس "سنگین چیلنج" کو تسلیم کر لیا ہے کہ کم زرخیزی معیشت کے لیے ایک خطرہ ہے۔
کیپٹل اکنامکس میں چین کے ماہر اقتصادیات زیچن ہوانگ نے کہا کہ یہ پالیسی خاندانوں کو براہ راست امداد فراہم کرنے کے حوالے سے ایک "اہم سنگ میل" ہے اور مستقبل میں یہ مزید مالیاتی منتقلی کی بنیاد رکھ سکتی ہے۔
لیکن انہوں نے یہ بھی کہا کہ یہ رقم اتنی کم ہے کہ اس کے " شرح پیدائش یا کھپت پر کم وقت کے دوران کوئی خاص اثر نہیں پڑے گا۔
"بیجنگ سے تعلق رکھنے والے نو سالہ بیٹے کی ماں وانگ زو نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا، "جن نوجوان جوڑوں کی ابھی شادی ہوئی ہے اور ان کے ہاں بچہ پیدا ہوا ہے، ان کے لیے یہ حقیقت میں انہیں دوسرا بچہ پیدا کرنے پر غور کرنے کی ترغیب دے سکتا ہے۔"
لیکن انہوں نے یہ بھی کہا کہ یہ نئے اقدامات خود انہیں دوسرا بچہ پیدا کرنے پر راضی کرنے کے لیے کافی نہیں ہیں۔
36 سالہ نوجوان خاتون نے اے ایف پی کو بتایا، "ایک بچہ پیدا کرنا قابل منظم ہے، لیکن اگر میرے دو بچے ہوں تو میں تھوڑا سا (مالی) دباؤ محسوس کر سکتی ہوں۔"
ادارت: جاوید اختر
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے بچہ پیدا کرنے کرنے کی ہے اور کے لیے
پڑھیں:
ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا، کپیسٹی چارجز کے سبب بجلی کی قیمتیں زیادہ ہیں، قائمہ کمیٹی تجارت
اسلام آباد:قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے تجارت کے چیئرمین جاوید حنیف خان کا کہنا ہے کہ ملک میں زیادہ تر ٹیکسز آئی ایم ایف کی شرائط کے تحت عائد کیے جاتے ہیں اور سب کو معلوم ہے کہ ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا جبکہ کپیسٹی چارجز کی وجہ سے بجلی کی قیمتیں بہت زیادہ ہیں۔
ایکسپریس کے مطابق قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے تجارت کا اجلاس چیئرمین جاوید حنیف خان کی زیر صدارت منعقد ہوا جس میں گزشتہ بیس برس کے دوران ملکی برآمدات میں خاطر خواہ اضافہ نہ ہونے کی وجوہات پر تفصیلی غور کیا گیا۔
جاوید حنیف خان نے کہا کہ سب کو معلوم ہے کہ ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا جبکہ کپیسٹی چارجز کی وجہ سے بجلی کی قیمتیں بہت زیادہ ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ملک میں زیادہ تر ٹیکسز بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی شرائط کے تحت عائد کیے جاتے ہیں۔
اجلاس میں رکن کمیٹی عالیہ کامران نے کہا کہ پاکستان کی صرف ایک فارماسیوٹیکل کمپنی کو بین الاقوامی سطح پر تسلیم کیا گیا ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ آلو جلد خراب ہو جاتے ہیں انہیں برآمد کرنے کے لیے کیا اقدامات کیے جا رہے ہیں؟ عالیہ کامران نے مزید کہا کہ ملک میں حلال فوڈ اتھارٹی تو موجود ہے لیکن تاحال اس کے قواعد و ضوابط مرتب نہیں کیے گئے جبکہ ایسا سازگار ماحول بھی پیدا نہیں ہو رہا کہ بیرونی سرمایہ کار پاکستان آ کر سرمایہ کاری کریں۔
قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں لائف انشورنس نیشنلائزیشن ترمیمی بل 2026ء بھی زیر بحث آیا۔ اس موقع پر سیکریٹری تجارت جواد پال نے بتایا کہ کمپنی کا نام اسٹیٹ لائف انشورنس لمیٹڈ رکھا جائے گا۔ کمیٹی کے رکن مرزا اختیار بیگ نے استفسار کیا کہ آیا یہ کمپنی پبلک پرائیویٹ لمیٹڈ ہوگی یا سرکاری ادارہ ہوگا اس پر حکام نے وضاحت کی کہ اگر حکومت کے پاس 51 فیصد شیئرز ہوں گے تو کمپنی پبلک شمار ہوگی، بصورت دیگر اسے پرائیویٹ تصور کیا جائے گا۔
سیکریٹری تجارت جواد پال نے مزید بتایا کہ کمپنی وزارت کے ماتحت ہی رہے گی تاہم اس کا بورڈ آزاد ہوگا اس پر کمیٹی کے ایک رکن نے رائے دی کہ اگر بورڈ کو آزاد بنانا مقصود ہے تو اسے آزادانہ طور پر کام کرنے کی بھی اجازت ہونی چاہیے۔
چیئرمین جاوید حنیف خان نے کہا کہ یہ کمپنی بہرحال ایس او ایز ایکٹ کے تحت قائم کی جائے گی۔
سیکریٹری تجارت نے واضح کیا کہ کسی پبلک لمیٹڈ کمپنی کے غیر محدود شیئرز نہیں ہو سکتے۔
اجلاس کے دوران صوبائی قوانین اور اثاثوں کی منتقلی کے معاملات پر بھی گفتگو ہوئی چیئرمین جاوید حنیف خان نے کہا کہ پراپرٹی یا اثاثوں کی منتقلی پر صوبائی قوانین نافذ ہوتے ہیں لہٰذا یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس بل کے ذریعے صوبائی قانون کو کیسے بائی پاس کیا جا سکتا ہے؟ انہوں نے خبردار کیا کہ اسٹیمپ ڈیوٹی یا متعلقہ فیسوں کے حوالے سے صوبے کسی بھی وقت سوال اٹھا سکتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ صوبوں میں انشورنس کے تقریباً دو ٹریلین روپے کے اثاثے موجود ہیں اس لیے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ اتنے بڑے اثاثوں پر اسٹیمپ ڈیوٹی کی مالیت کتنی ہوگی؟چیئرمین کمیٹی نے اس بات پر زور دیا کہ کوئی بھی ایسا قانون نہیں بنایا جا سکتا جو صوبوں کے مفادات کو متاثر کرتا ہو۔