نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحٰق ڈار نے کہا ہے کہ پاکستان کا اسرائیل کو تسلیم کرنے کا کوئی منصوبہ نہیں.دورہ امریکا ہر لحاظ سےکامیاب رہا، امریکی وزیر خارجہ کو باور کرایا کہ مذاکرات کے بغیر خطے میں امن ممکن نہیں.نیویارک میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اسحٰق ڈار نے کہا کہ پاکستان کا اسرائیل کو تسلیم کرنےکا کوئی منصوبہ نہیں.

ہر موقع پر فلسطین کے ساتھ کشمیر کے مسئلے کو اجاگر کیا۔انہوں نے کہا کہ دورہ امریکا ہر لحاظ سے کامیاب رہا. امریکی وزیر خارجہ کو باور کرایا کہ مذاکرات کے بغیر خطے میں امن ممکن نہیں.امریکی وزیر خارجہ سے تجارت اور ٹیرف سے متعلق گفتگو کی۔اسحٰق ڈار نے کہا کہ بھارت کے ساتھ ڈائیلاگ ہوا تو جامع ہوگا.بھارت جب بھی جامع ڈائیلاگ کرنا چاہے. پاکستان تیار ہے. بھارت سندھ طاس معاہدے کو یکطرفہ طور پر ختم نہیں کرسکتا۔

دریں اثنا، نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحٰق ڈار نے کویت کے وزیر خارجہ عبداللہ الیحییٰ سے ملاقات کی ہے.دونوں کے درمیان ملاقات بین الاقوامی فلسطین کانفرنس کی سائیڈ لائنز ملاقاتوں کے دوران ہوئی۔ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق ملاقات میں پاکستان اور کویت کے دوطرفہ تعلقات کی مزید مضبوطی سمیت تجارت سیکورٹی اور دفاع کے شعبہ جات میں تعاون کا اعادہ کیا گیا۔دونوں رہنماؤں نے اقوام متحدہ اور او آئی سی کے ساتھ مزید معاونت پر اتفاق کیا، اعلامیے کے مطابق ملاقات میں دو طرفہ تعلقات کی مضبوطی کے لیے اعلیٰ سطح کے وفود کے تبادلوں پر اتفاق کیا گیا۔

ذریعہ

ذریعہ: Nawaiwaqt

کلیدی لفظ: اسح ق ڈار نے نے کہا

پڑھیں:

وزیراعظم کی زیر صدارت اجلاس، معیشت کی مجموعی ترقی اور پالیسی اقدامات پر جائزہ

اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت سرمایہ کاری میں اضافہ اور معیشت کی مجموعی ترقی کے لئے شعبہ جاتی اصلاحات اور پالیسی اقدامات پر جائزہ اجلاس ہوا۔

نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف نے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہا کہ ملکی معیشت کی پائیدار ترقی کے لئے صنعت وحرفت کا فروغ اور بیرونی سرمایہ کاری میں اضافہ ناگزیر ہے۔

انہوں نے کہا کہ صنعتی مصنوعات کی ملکی پیداور اضافے کے ساتھ ساتھ برآمدات بڑھانے کے لیے موٴثر پالیسی اقدامات حکومتی ترجیحات کا حصہ ہیں، صنعت و تجارت اور معیشت کے مختلف شعبہ جات میں اصلاحات کا مقصد طویل المدتی معاشی افادیت اور عوامی فلاح ہونا چاہئے۔ 

ایف آئی اے نے جعلی دستاویزات پر بیرون ملک جانے والی 2 خواتین کو آف لوڈ کر دیا ، 2 ایجنٹ گرفتار

وزیراعظم نے کہا کہ مستقبل کی توانائی کی ضروریات کو متبادل توانائی کے ذرائع سے پورا کرنے کے لیے جامع حکمت عملی پر بھرپور انداز میں کام ہو رہا ہے، توانائی کی بچت اور سستی ٹرانسپورٹ کی ملکی ضروریات پوری کرنے کے لئے جامع اور موثر الیکٹرک وہیکلز پالیسی وقت کی اہم ضرورت ہے۔

انہوں نے کہا کہ جدید ٹیکنالوجی کی مختلف شعبوں میں شمولیت کے لئے تمام وزارتیں اور ماہرین کی بامعنی مشاورت کو یقینی بنائیں، موثر ترقیاتی پالیسیز کی تشکیل و نفاذ کے لیۓ تمام وزراتیں باہمی تعاون اور ہم آہنگی سے کام کریں، تمام اصلاحات اور اقدامات میں انتظامی شفافیت اور بہترین کارکردگی حکومت کی اولین ترجیح ہے۔

پنجاب میں آندھی اور طوفان سے تباہی ، ایک شہری جاں بحق، 46 گھر متاثر

اجلاس میں متعلقہ وزارتوں کی جانب سی مختلف زیر غور پالیسی تجاویز پر بریفنگ دی گئی۔

اجلاس میں نائب وزیراعظم محمد اسحاق ڈار، وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب، وفاقی وزیر اقتصادی امور احد خان چیمہ، وفاقی وزیر اطلاعات عطاء اللہ تارڑ، وفاقی وزیر موسمیاتی تبدیلی مصدق ملک، وفاقی وزیر پاور ڈیویژن سردار اویس لغاری، وفاقی وزیر پٹرولیم علی پرویز ملک، کے معاون خصوصی ہارون اختر اور ڈائریکٹر جنرل ایس آئی ایف سی میجر جنرل اسد الرحمن چیمہ اور متعلقہ اداروں کے عہدے داران نے شرکت کی۔

مزید :

متعلقہ مضامین

  • اسحاق ڈار کا کویتی وزیر خارجہ سے رابطہ‘ بیلجیئم میں تعینات پاکستانی سفیر کی ملاقات
  • عمران خان کی اب کوئی مقبولیت نہیں، وہ رہا ہو جائیں تو حقیقت سب کے سامنے آ جائے گی، وزیر صحت پنجاب خواجہ عمران نذیر
  • ایران سے مذاکرات کے امکانات روشن ہیں، معاہدے کا حتمی نہیں کہہ سکتے، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو
  • لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش
  • کے فور منصوبہ مزید تاخیر کا شکار، 2029 تک مکمل ہونے کا امکان
  • پاکستان اور کویت جاری سفارتی کوششوں کے مثبت نتائج کیلئے پرامید
  • اسحاق ڈار کویتی وزیر خارجہ کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ، بدلتی عالمی صورتحال پر تبادلہ خیال
  • بانی پی ٹی آئی نے مجھے وزیر اعلی نامزد کیا کوئی طاقت مجھے نہیں ہٹا سکتی;سہیل آفریدی
  • وزیراعظم کا سرمایہ کاری اور صنعتی ترقی کیلئے اصلاحات تیز کرنے کا حکم
  • وزیراعظم کی زیر صدارت اجلاس، معیشت کی مجموعی ترقی اور پالیسی اقدامات پر جائزہ