برٹش کونسل اور حکومت پنجاب کے محکمہ اسپیشل ایجوکیشن نے ایک نئے مرحلے کا آغاز کرتے ہوئے مفاہمت کی ایک یادداشت پر دستخط کیے ہیں، جس کا مقصد صوبہ بھر کے خصوصی تعلیمی اداروں میں قیادت اور انتظامی صلاحیتوں کو مؤثر بنانا ہے۔

اس حکمتِ عملی پر مبنی شراکت داری کو جلد ایک آپریشنل الائنس ایگریمنٹ کے ذریعے باضابطہ شکل دی جائےگی، جس کے تحت 290 اسکول سربراہان اور 790 سینیئر اساتذہ کی پیشہ ورانہ قابلیتوں کو فروغ دیا جائےگا۔

یہ بھی پڑھیں: فروغ تعلیم کے لیے وزیراعلیٰ پنجاب نے کیا انقلابی فیصلے کیے ہیں؟

اس پروگرام میں اسپیشل ایجوکیشن کے میدان میں قیادت کے معیارات متعارف کرائے جائیں گے، اسکول مینجمنٹ کے نظام میں بہتری لائی جائے گی اور خصوصی ضروریات رکھنے والے بچوں کے لیے جامع اور طالب علم مرکز ماحول کو فروغ دیا جائےگا۔

اس منصوبے کے ذریعے برٹش کونسل اور اسپیشل ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ پنجاب مشترکہ طور پر ایک مؤثر لیڈرشپ ڈیویلپمنٹ ماڈل نافذ کریں گے، جو دونوں اداروں کے ماہرین کی مشترکہ کاوش کا نتیجہ ہو گا۔ اس پروگرام میں رہنمائی اور باہمی سیکھنے کے مواقع بھی شامل ہوں گے تاکہ اسکول سربراہان کے لیے پیشہ ورانہ ترقی کا ایک معاون ماحول فراہم کیا جا سکے۔

کنٹری ڈائریکٹر برٹش کونسل پاکستان جیمز ہیپسن نے کہاکہ برابری، تنوع اور شمولیت ہمارے کام کے مرکز میں ہے۔ خواہ وہ فنون، معاشرہ، جامع تعلیم، انگریزی تدریس یا امتحانات ہوں۔ محکمہ اسپیشل ایجوکیشن پنجاب کے ساتھ یہ معاہدہ ہر بچے کے لیے ایک جامع اور مساوی سیکھنے کے ماحول کی تشکیل کے لیے نہایت اہم ہے۔

سینیئر اسسٹنٹ برائے وزیر اعلیٰ برائے اسپیشل ایجوکیشن پنجاب ثانیہ عاشق جبین نے کہاکہ ہمارے قائد کا نظریہ ہے کہ تعلیم ہر بچے کا حق ہے۔ ہمارے لیے معذوری کمزوری نہیں ہے۔ ہم اپنے قائد کے وژن پر عمل پیرا ہیں۔

سیکریٹری اسپیشل ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ پنجاب محمد خان رانجھا کا کہنا تھا کہ ہر بچے کی اپنی ایک الگ کہانی ہے لیکن ان سب کا ایک جیسا حق ہے۔

انہوں نے کہاکہ ’سیکھنا، ترقی کرنا اور کامیاب ہونا‘ ہم جامع تعلیم کے لیے اپنی وابستگی پر قائم ہیں تاکہ ہر اسپیشل چائلڈ اپنی مکمل صلاحیتوں تک پہنچ سکے۔

یہ شراکت داری اسپیشل ایجوکیشن کے شعبے میں قیادت اور نظم و نسق کو بہتر بنانے کے لیے مقامی طور پر موزوں اور پائیدار حل پیدا کرنے کے طویل مدتی عزم کی عکاسی کرتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: اسٹریٹ اسکول کا بچوں کو تعلیم کی جانب راغب کرنے کا کارگر انداز

اس منصوبے کی تیاری میں مختلف فریقوں نے حصہ لیا ہے اور یہ عالمی معیار کی بہترین پریکٹسز اور مقامی تجربات کا امتزاج ہوگا، جس کا مقصد پنجاب کے اسپیشل ایجوکیشن نظام کو زیادہ معیاری، منصفانہ اور مؤثر بنانا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

wenews انتظامی صلاحیتیں برٹش کونسل خصوصی تعلیمی ادارے محکمہ اسپیشل ایجوکیشن مساوی تعلیم معذور بچے وی نیوز.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: انتظامی صلاحیتیں برٹش کونسل خصوصی تعلیمی ادارے محکمہ اسپیشل ایجوکیشن مساوی تعلیم معذور بچے وی نیوز اسپیشل ایجوکیشن برٹش کونسل کے لیے

پڑھیں:

ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدہ ابراہیمی معاہدہ میں شمولیت سے مشروط کر دیا

امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ مجوزہ سول جوہری معاہدے کومعاہدہ ابراہیمی (Abraham Accords) میں سعودی شمولیت سے مشروط کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ معاہدے کے تحت سعودی عرب کو کسی بھی صورت یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر جاری بیان میں کہا کہ امریکا کے محکمہ توانائی اور سعودی عرب کے درمیان زیر غور سول جوہری معاہدہ صرف پرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ یہ پروگرام ایران، متحدہ عرب امارات اور دیگر ممالک کے سول جوہری پروگراموں کی طرز پر ہوگا، تاہم اس میں یورینیم افزودگی کی اجازت شامل نہیں ہوگی۔

امریکی صدر نے کہا کہ معاہدے کی منظوری ضرور دی جائے گی، لیکن اس کی بنیادی شرط یہ ہوگی کہ سعودی عرب باعزت اور باہمی احترام پر مبنی معاہدہ ابراہیمی میں شامل ہو۔ ان کے مطابق امریکا کو ایسے سول جوہری مراکز پر کوئی اعتراض نہیں جو مکمل طور پر پرامن مقاصد کے لیے قائم کیے جائیں اور جن میں یورینیم افزودہ نہ کیا جائے۔

دوسری جانب اسرائیلی وزیراعظم کے دفتر نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ اگر سعودی عرب معاہدہ ابراہیمی میں شامل ہوتا ہے تو یہ مشرق وسطیٰ میں امن کے لیے ایک تاریخی پیش رفت ہوگی۔ بیان میں کہا گیا کہ حالیہ علاقائی پیش رفت کے بعد خطے میں امن کے دائرے کو مزید وسعت دینے کا موقع پیدا ہوا ہے، تاہم اسرائیلی حکومت نے امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے پر براہ راست کوئی تبصرہ نہیں کیا۔

ادھر امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل کی ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ صدر ٹرمپ سعودی عرب کے ساتھ 30 سالہ سول جوہری معاہدے کی اصولی منظوری دے چکے ہیں، جسے اب کانگریس کی منظوری درکار ہوگی۔ رپورٹ کے مطابق اس معاہدے کی مالیت کئی ارب ڈالر ہو سکتی ہے اور اس کے ذریعے سعودی عرب کو جوہری توانائی کی جدید ٹیکنالوجی تک رسائی حاصل ہوگی۔

تاہم اسرائیل میں اس مجوزہ معاہدے پر تحفظات بھی سامنے آئے ہیں۔ سابق اسرائیلی وزیر دفاع اویگدور لائبرمین نے اسے اسرائیل کے لیے اسٹریٹیجک خطرہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہر فوجی جوہری پروگرام کی ابتدا سول جوہری پروگرام سے ہوتی ہے اور اگر سعودی عرب کو اپنی سرزمین پر یورینیم افزودگی کی اجازت دی گئی تو اس سے مشرق وسطیٰ میں جوہری ہتھیاروں کی نئی دوڑ شروع ہونے کا خدشہ پیدا ہو سکتا ہے۔

واضح رہے کہ معاہدہ ابراہیمی کا آغاز 2020 میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پہلے دورِ صدارت میں ہوا تھا، جس کا مقصد اسرائیل اور مختلف عرب و مسلم ممالک کے درمیان سفارتی، اقتصادی اور سکیورٹی تعلقات کو فروغ دینا تھا۔ اس معاہدے کے تحت متحدہ عرب امارات، بحرین، مراکش اور سوڈان اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لا چکے ہیں، جبکہ سعودی عرب کی ممکنہ شمولیت کو خطے کی سفارتی تاریخ میں ایک اہم پیش رفت تصور کیا جا رہا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • پنجاب حکومت کا سرکاری ملازمین اور پنشنرز کو جولائی کی ادائیگیاں قبل از وقت کرنے کا فیصلہ
  • پنجاب میں پہلی مرتبہ سیلاب کی پیشگی اطلاع کیلئے ڈرون مانیٹرنگ کا آغاز
  • ڈیرہ اسماعیل خان، بیس روزہ دین شناسی شارٹ کورس
  • پنجاب حکومت کے اقدامات دھرے کے دھرے رہ گئے‘بارشوں نے تباہی مچادی
  • آزاد کشمیر الیکشن، استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد پر اتفاق
  • نیشنل اسپیشل گیمز: کراچی میں  فٹبال ٹورنامنٹ کے بعد اختتامی تقریب کا انعقاد
  • استحکام پاکستان پارٹی آزاد کشمیر اور آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد طے
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدہ ابراہیمی معاہدہ میں شمولیت سے مشروط کر دیا
  • پنجاب کے وزیر تعلیم رانا سکندر حیات کا اسکولوں میں خود پڑھانے کا اعلان
  • پنجاب کے وزیر تعلیم رانا سکندر حیات نے ٹیچر بننے کا اعلان کردیا