پاکستان کی سیاحت کی صنعت کو درپیش چیلنجز سے نمٹنے کے لیے فوری اصلاحات کا مطالبہ
اشاعت کی تاریخ: 13th, July 2025 GMT
اسلام آباد:سابق سینئر وائس چیئرمین آل پاکستان ہوٹلز ایسوسی اور صدر ہوٹل اینڈ موٹلز ایسوسی ایشن اسلام آباد، راولپنڈی اور شمالی علاقہ جات میاں اکرم فریدنےسردار یاسر الیاس خان کو وزیر اعظم کے کوآرڈینیٹر برائے سیاحت کے طور پر تقرری پر مبارکباد پیش کی اور پاکستان میں سیاحت کے فروغ کے لیے سردار یاسر الیاس خان کے دیرینہ عزم کو سراہتے ہوئے اس تقرری کو ایک “بروقت اور خوش آئند اقدام” قرار دیا ۔
میاں اکرم فرید نے کہا کہ سردار یاسر الیاس خان پاکستان میں سیاحت اور سرمایہ کاری کے لیے پرجوش وکیل ہیں ان کی قیادت، وژن، اور صنعت و تجارت کے بارے میں گہری سمجھ بوجھ انہیں اس اہم کردار کے لیے ایک مثالی انتخاب بناتی ہے۔ ہمیں یقین ہے کہ ان کی تقرری پاکستان کے سیاحت کے شعبے میں ترقی اور ترقی کے ایک نئے دور کا آغاز کرے گی۔
پاکستان کے پہلے بین الاقوامی 7 اسٹار ہوٹل کے مالک اور سابق صدر اسلام آباد چیمبر آف کامرس نے بین الاقوامی سطح پر پاکستان کے سیاحتی امیج کو بڑھانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ سیاحت کے بارے میں وزیر اعظم کے کوآرڈینیٹر کے طور پر ان کے نئے کردار سے توقع ہے کہ وہ سیاحت کے فروغ کے لئے سرکاری اور نجی اسٹیک ہولڈرز کے درمیان ہم آہنگی کو بہتر بنائیں گے۔
میاں اکرم فرید نے پاکستان کے سیاحتی مقامات خصوصا شمالی علاقہ جات کے دلفریب قدرتی حسن کو دنیا کے سامنے اجاگر کرنے کو زور دیتے ہوئے کہا کہ سردار یاسر الیاس کی بین الاقوامی سطح پر کاروباری تعلقات اور پاکستانی کاروباری برادری کے اہم ترین فرد ہونے کے ناطے وہ بین الاقوامی اور پاکستانی کاروباری برادری کو سیاحت کے شعبے میں سرمایہ کاری کے لئے آمادہ کریں ۔
اس ضمن میں میاں اکرم فرید نےسیاحتی شعبے کو پیش آنے والے کئی اہم مسائل پر روشنی ڈالتے ہوئےکہا کہ یہ تقرری ایک ایسے نازک وقت میں ہوئی ہے جب پاکستان کی سیاحت کی صنعت کو کئی ایسے سخت چیلنجوں کا سامنا ہے جن میں قدرتی آفات سرفہرست ہیں اسکے علاوہ پاکستان کے شمالی علاقہ جات میں بہت سے سیاحتی مقامات پر سڑکوں کے نیٹ ورک، ذرائع مواصلات خصوصا موبائل فون کے سگنلز کے مسائل ، بجلی و گیس کی کمیابی اور مناسب معیار کے ہوٹلز کی کمی کا سامنا ہے۔
انھوں نے سردار یاسر الیاس خان کی ان چیلنجز سے نمٹنے کی صلاحیت پر مکمل اعتماد کا اظہار کیا اورملکی اور بین الاقوامی مسافروں کو راغب کرنے کے لیے پائیدار سیاحت کے طریقوں، ایکو ٹورازم اور قابل اعتماد مہمان نوازی کے بنیادی ڈھانچے کی ترقی کی اہمیت پر زور دیا۔
انہوں نے مزید کہا کہ ” پالیسی میں تسلسل اور درست سمت کی پلاننگ کیساتھ پاکستان دنیا میں اہم سیاحتی مقام کے طور پر ابھر سکتا ہے۔ ہم بطور ہوٹلز ایسوسی ایشن اس اہم شعبے کی ترقی کےلئے وزیر اعظم کے دفتر اور متعلقہ حکام کے ساتھ مل کر کام کرنے کے منتظر ہیں۔ واضح رہے کہ سال 2025 میں غیر ملکی اور ملکی سیاحوں کی ریکارڈ سیاحت کی وجہ سے پاکستان ٹورازم انڈسٹری کی آمدنی کا تخمینہ 4 بلین ڈالر لگایا گیا ہے۔
جبکہ سال 2024 میں یہ آمدنی 3.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: سردار یاسر الیاس خان بین الاقوامی پاکستان میں پاکستان کے میاں اکرم سیاحت کے کے لیے کے لئے
پڑھیں:
شوگر ملز ایسوسی ایشن کا چینی برآمد کرنے کا مطالبہ، ماضی میں اس فیصلے سے کیا نقصان ہوا؟
پاکستان شوگر ملز ایسوسی ایشن نے حکومت سے ایک بار پھر فاضل چینی کی فوری برآمد کی اجازت دینے کا مطالبہ کیا ہے اور مؤقف اختیار کیا ہے کہ اضافی چینی بیرون ملک فروخت کرنے سے ملک کو قریباً 50 کروڑ ڈالر کا قیمتی زرمبادلہ حاصل ہو سکتا ہے۔
ماہرین اور صارفین کے حلقوں میں اس مطالبے پر تحفظات کا اظہار کیا جا رہا ہے کیونکہ گزشتہ برس بھی چینی کی برآمد کی اجازت کے بعد ملک میں چینی کی قیمتوں میں 50 سے 60 روپے فی کلو کا نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا تھا۔
مزید پڑھیں: فاضل چینی برآمد کرنے کی اجازت دی جائے، ملک کو 50 کروڑ ڈالر زرمبادلہ مل سکتا ہے: شوگر ملز ایسوسی ایشن
پاکستان شوگر ملز ایسوسی ایشن کے چیئرمین چوہدری ذکا اشرف نے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار کو ارسال کیے گئے خط میں کہا ہے کہ 26-2025 کے کرشنگ سیزن کے اختتام پر ملک میں چینی کے مجموعی ذخائر 79 لاکھ میٹرک ٹن تک پہنچ گئے ہیں، جبکہ ملک کی سالانہ ضرورت قریباً 66 لاکھ میٹرک ٹن ہے، اس طرح ملک میں 13 لاکھ میٹرک ٹن چینی سرپلس موجود ہے۔
ایسوسی ایشن کے مطابق ایک ماہ کا تزویراتی ذخیرہ محفوظ رکھنے کے باوجود قریباً 7 لاکھ 60 ہزار میٹرک ٹن چینی اضافی رہے گی، جسے برآمد کرکے ملک کے لیے قیمتی زرمبادلہ حاصل کیا جا سکتا ہے۔
خط میں کہا گیا ہے کہ فروخت نہ ہونے والے ذخائر کی وجہ سے شوگر ملوں کو شدید مالی دباؤ کا سامنا ہے جبکہ گنے کے کاشتکاروں کی ادائیگیوں اور بینک قرضوں کی واپسی میں بھی مشکلات پیدا ہو رہی ہیں۔
پی ایس ایم اے کا کہنا ہے کہ گزشتہ 2 برسوں کے دوران گنے کے کاشتکاروں کو بہتر نرخوں پر ادائیگی کی گئی جس کے باعث گنے کی کاشت اور فی ایکڑ پیداوار میں نمایاں اضافہ ہوا۔
ایسوسی ایشن نے دعویٰ کیا ہے کہ اگر موجودہ صورتحال برقرار رہی تو آئندہ سیزن میں مزید ریکارڈ گنے کی فصل پیدا ہونے کا امکان ہے جس کے نتیجے میں قریباً 20 لاکھ میٹرک ٹن اضافی چینی مارکیٹ میں آ سکتی ہے۔
دوسری جانب صارفین اور معاشی ماہرین شوگر ملز کے اس مؤقف کو تنقیدی نگاہ سے دیکھ رہے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ گزشتہ مالی سال کے دوران بھی حکومت نے چینی برآمد کرنے کی اجازت دی تھی اور اس وقت حکومتی اور صنعتی حلقوں کی جانب سے یقین دہانی کرائی گئی تھی کہ برآمدات سے مقامی مارکیٹ میں قیمتوں پر کوئی اثر نہیں پڑے گا اور چینی کی دستیابی برقرار رہے گی۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق مالی سال 25-2024 کے دوران 67 شوگر ملوں نے مجموعی طور پر 7 لاکھ 49 ہزار ٹن چینی برآمد کی جس سے قریباً 40 کروڑ ڈالر کا زرمبادلہ حاصل ہوا۔ تاہم برآمدات کے بعد ملک میں چینی کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
مارکیٹ ذرائع کے مطابق 2 ماہ قبل پرچون سطح پر چینی کی قیمت قریباً 140 روپے فی کلو تھی جبکہ تھوک مارکیٹ میں 50 کلوگرام کا تھیلا قریباً 6 ہزار 200 روپے میں فروخت ہو رہا تھا۔
موجودہ صورتحال میں پرچون قیمت 190 سے 200 روپے فی کلو تک پہنچ چکی ہے جبکہ 50 کلوگرام کے تھیلے کی قیمت بڑھ کر 9 ہزار 100 روپے تک جا پہنچی ہے۔
قیمتوں میں اس غیر معمولی اضافے کے بعد گزشتہ سال حکومت نے ذخیرہ اندوزی اور ناجائز منافع خوری کے خلاف کارروائیوں کا اعلان بھی کیا تھا۔
تاہم صارفین کا کہنا ہے کہ ان اقدامات کے باوجود مارکیٹ میں چینی کی قیمتوں کو مؤثر طور پر کنٹرول نہیں کیا جا سکا۔
شوگر ملز ایسوسی ایشن کا مؤقف ہے کہ چینی کو ذخیرہ کرنے کی مدت قریباً 2 سال ہوتی ہے اور اگر گزشتہ سال 7 لاکھ 49 ہزار ٹن چینی برآمد نہ کی جاتی تو اس کے ضائع ہونے کا خدشہ تھا۔
تاہم ناقدین کا کہنا ہے کہ ایک جانب اضافی ذخائر کا دعویٰ کیا جاتا ہے جبکہ دوسری جانب برآمدات کے فوراً بعد مقامی مارکیٹ میں قیمتوں میں نمایاں اضافہ سامنے آ جاتا ہے، جس کی وجہ سے برآمدی پالیسی پر سوالات جنم لیتے ہیں۔
مزید پڑھیں: چینی کی قیمتوں میں اضافہ: کس شوگر مل کے پاس کتنی چینی اسٹاک ہے؟
اب جبکہ شوگر ملز ایسوسی ایشن نے ایک مرتبہ پھر چینی برآمد کرنے کی اجازت مانگی ہے، حکومت کو ایک ایسے فیصلے کا سامنا ہے جس میں ایک طرف زرمبادلہ کمانے کا امکان موجود ہے تو دوسری طرف عوام کو سستی چینی کی فراہمی اور قیمتوں کو قابو میں رکھنے کا چیلنج بھی درپیش ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر برآمدات کی اجازت دی جاتی ہے تو حکومت کو سخت نگرانی، شفاف اسٹاک آڈٹ اور قیمتوں کے مؤثر کنٹرول کے لیے جامع حکمت عملی اختیار کرنا ہوگی تاکہ گزشتہ سال کی صورتحال دوبارہ پیدا نہ ہو۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں