فرانس کے بعد اب برطانیہ نے بھی غزہ میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں پر اسرائیل کو خبردار کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ وہ فلسطین کو باضابطہ طور پر ایک خود مختار ملک تسلیم کرلیں گے۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق برطانوی وزیر اعظم کیئر اسٹارمر نے خبردار کیا ہے کہ اگر اسرائیل نے غزہ میں انسانی المیے کے خاتمے کے لیے مؤثر اقدامات نہ کیے تو برطانیہ ستمبر میں فلسطینی ریاست کو تسلیم کرلے گا۔

کابینہ اجلاس کے بعد جاری کردہ سرکاری بیان میں کہا گیا کہ وزیر اعظم اسٹارمر نے واضح کیا ہے کہ برطانیہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی اجلاس سے قبل فلسطینی ریاست کو تسلیم کر سکتا ہے۔

بیان میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ اسرائیلی حکومت غزہ میں جاری ابتر صورت حال کے خاتمے، جنگ بندی کے قیام، مغربی کنارے میں مزید زمینوں کے انضمام سے گریز اور دو ریاستی حل پر مبنی دیرپا امن عمل کے آغاز کے لیے ٹھوس اقدامات کرے۔

انھوں نے حماس سے مطالبات بھی دہرائے کہ وہ تمام یرغمالیوں کو رہا کرے، جنگ بندی پر رضامندی ظاہر کرے، غزہ کی حکومت میں کوئی کردار ادا نہ کرے اور مکمل طور پر اسلحہ ڈال دے۔

برطانوی وزیراعظم کیئر اسٹارمر کی قیادت میں یہ اقدام ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب غزہ میں انسانی بحران شدید تر ہوتا جا رہا ہے اور عالمی برادری اسرائیل پر دباؤ بڑھا رہی ہے کہ وہ فلسطینی علاقوں میں جاری فوجی کارروائیاں روکے۔

لندن میں ڈاؤننگ اسٹریٹ کے باہر فلسطین کے حق میں مظاہرے بھی جاری ہیں، جہاں مظاہرین برطانوی حکومت سے فلسطینی ریاست کو فوری طور پر تسلیم کرنے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

یاد رہے کہ فرانسیسی صدر ایمانوئیل میکرون بھی اعلان کرچکے ہیں وہ ستمبر اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں فلسطین کو بطور ریاست تسلیم کرلیں گے۔ جس پر امریکا اور اسرائیل نے سخت تنقید کی تھی۔

 

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

پڑھیں:

اسرائیل کی عدم آمادگی امریکا ایران معاہدے کو خطرے میں ڈال سکتی ہے، تجزیہ کار

مشرق وسطیٰ کونسل برائے عالمی امور کے فیلو عمر رحمان نے الجزیرہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا اسرائیل کے عزائم سے یہ تاثر ملتا ہے کہ وہ جنوبی لبنان پر طویل مدت تک اپنا کنٹرول برقرار رکھنا چاہتا ہے اور وہاں آبادی کی جبری بے دخلی کی پالیسی پر عمل پیرا ہے، جس کے آثار موجودہ صورتحال میں نمایاں طور پر دیکھے جا سکتے ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ تجزیہ کاروں نے کہا ہے کہ اسرائیل کی عدم آمادگی امریکہ اور ایران کے درمیان ممکنہ معاہدے کو خطرے میں ڈال سکتی ہے۔ عالمی تجزیہ کاروں نے کہا ہے کہ اسرائیل اس وقت ایسے کسی معاہدے کیلئے تیار دکھائی نہیں دیتا، جس کے تحت لبنان میں جاری کشیدگی اور جنگی کارروائیوں کا خاتمہ ضروری ہو۔ مشرق وسطیٰ کونسل برائے عالمی امور کے فیلو عمر رحمان نے الجزیرہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا اسرائیل کے عزائم سے یہ تاثر ملتا ہے کہ وہ جنوبی لبنان پر طویل مدت تک اپنا کنٹرول برقرار رکھنا چاہتا ہے اور وہاں آبادی کی جبری بے دخلی کی پالیسی پر عمل پیرا ہے، جس کے آثار موجودہ صورتحال میں نمایاں طور پر دیکھے جا سکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اگرچہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان اب بھی بعض اختلافات موجود ہیں، تاہم دونوں ممالک ایسے معاہدے تک پہنچ سکتے ہیں، جسے بعد میں مزید تفصیل کے ساتھ مذاکرات کے ذریعے وسعت دی جا سکے، حزب اللہ کے ساتھ جنگ بندی کے معاہدے پر آمادہ نہ ہونے کی اسرائیلی پالیسی پورے عمل کو سبوتاژ کرنے اور امریکہ ایران معاہدے کو ناکام بنانے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • جنگ کا قیدی، اسرائیل امریکہ کو کہاں لے آیا؟
  • ایران کے ساتھ امریکی امن مذاکرات ، اسرائیل شامل نہیں
  • اسرائیل کی عدم آمادگی امریکا ایران معاہدے کو خطرے میں ڈال سکتی ہے، تجزیہ کار
  • اسرائیل میں نیتن یاہو کی ہٹ دھرمی پر تنقید میں اضافہ
  • قابلِ فخر سعد ایدھی
  • فلاحی ریاست کا درس دینے والے غریبوں کے وظیفے پر سیخ پا کیوں؟ سعدیہ جاوید
  • واشنگٹن میں لبنان اور اسرائیل کے درمیان مذاکرات شروع
  • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی حملوں پر برہم، نیتن یاہو کو سخت پیغام
  • اتحاد مذاہب کیلئے سعودی فتویٰ، مولانا زاہدالراشدی اور مولانا فضل الرحمان خلیل کی تائید
  • کالعدم بی ایل اے سے منسلک ملک دشمن شاعرہ کی تلاش جاری، بھارتی سرپرستی اور اور ریاست مخالف پروپیگنڈے کے شواہد برآمد