سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان نے واضح الفاظ میں کہا ہے کہ امن اور سلام کا قیام اس وقت تک ممکن نہیں جب تک فلسطینی عوام کو ان کے جائز حقوق اور مکمل خودمختار ریاست کا حق نہ دیا جائے۔

اقوام متحدہ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ طاقت کے زور پر صورتحال مسلط کرنے سے نہ امن قائم ہوگا اور نہ ہی سلامتی میسر آئے گی۔

یہ بھی پڑھیں: اسحاق ڈار اور شہزادہ فیصل بن فرحان کے درمیان ٹیلی فونک رابطہ، ولی عہد کے دورہ پاکستان پر تبادلہ خیال

شہزادہ فیصل نے فلسطینی صدر محمود عباس کے امن کے لیے خلوص اور اصلاحاتی کوششوں کی تعریف کی اور فلسطینی حکومت کی وحدت پر زور دیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ سعودی عرب فلسطینی اتھارٹی کو مختلف شعبوں میں مضبوط بنانے کے لیے مستقل تعاون کر رہا ہے تاکہ فلسطینی عوام اپنی سرزمین پر ایک باوقار زندگی گزار سکیں۔

وزیر خارجہ نے عالمی بینک گروپ کے اس فیصلے کا بھی خیرمقدم کیا جس کے تحت فلسطین کو سالانہ 300 ملین ڈالر کی گرانٹ دی جا رہی ہے جسے غزہ اور مغربی کنارے کی تعمیر و ترقی کے لیے استعمال کیا جائے گا۔

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ سعودی عرب 2 دہائیوں سے زائد عرصے سے عرب امن منصوبے کی بنیاد پر ایک خودمختار فلسطینی ریاست کے قیام کی حمایت میں مسلسل کردار ادا کر رہا ہے۔ اس سلسلے میں انہوں نے فرانس کی جانب سے فلسطین کو ریاست کے طور پر تسلیم کرنے کے عزم کو سراہتے ہوئے دیگر ممالک سے بھی اس ذمہ دارانہ اقدام کی پیروی کا مطالبہ کیا۔

مزید پڑھیے: پاک بھارت جنگ بندی میں شہزادہ محمد بن سلمان کا کردار اور سعودی ڈیجیٹل انقلاب

شہزادہ فیصل بن فرحان نے اپنے خطاب میں اس بات پر زور دیا کہ دو ریاستی حل کے نفاذ کے بغیر مشرقِ وسطی میں پائیدار امن اور استحکام ممکن نہیں۔ سعودی عرب عالمی برادری سے مطالبہ کرتا ہے کہ وہ اس تاریخی موقع پر مؤثر اور فیصلہ کن اقدام کرے تاکہ خطے کو تشدد اور بے یقینی کے دائرے سے نکالا جا سکے۔

یہ خطاب سعودی عرب کی قیادت کی مسئلہ فلسطین کے حوالے سے مستقل اصولی پالیسی اور عالمی سطح پر فلسطینی عوام کی حمایت کے عزم کا واضح اظہار تھا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

اقوام متحدہ سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان شہزادہ فیصل بن فرحان.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: اقوام متحدہ سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان شہزادہ فیصل بن فرحان شہزادہ فیصل بن فرحان انہوں نے کے لیے

پڑھیں:

سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ جوہری معاہدے کے لیے اسرائیل سے تعلقات کی بحالی سے مشروط کردیا۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہام معاہدوں  میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک ’’تاریخی جست‘‘ ثابت ہوگی۔

نیتن یاہو نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ سعودی عرب کی ابراہام معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام اور تعاون کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔

خیال رہے کہ اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے سول جوہری پروگرام کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کرنے کے بعد سامنے آیا ہے۔

کچھ دیر قبل ہی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودیہ ابراہام معاہدوں میں شامل نہیں ہوجاتا۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی پوسٹ میں یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

یاد ہے کہ ایک روز قبل جب جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب کے اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے نہیں جوڑا تھا تاہم بعد میں انھوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے منسلک ہیں۔

ادھر سعودی حکومت نے تاحال صدر ٹرمپ کے تازہ بیان پر کوئی باضابطہ ردعمل نہیں دیا تاہم ریاض متعدد مواقع پر واضح کرچکا ہے کہ وہ اس وقت تک اسرائیل کو تسلیم نہیں کرے گا جب تک فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے قابلِ عمل اور واضح راستہ موجود نہ ہو۔

سعودی عرب کا مؤقف رہا ہے کہ 1967 کی سرحدوں کی بنیاد پر آزاد فلسطینی ریاست کا قیام، مشرقی یروشلم کو اس کا دارالحکومت بنانا اور فلسطینی عوام کے جائز حقوق کا تحفظ اسرائیل سے تعلقات کی بحالی کے لیے بنیادی شرائط ہیں۔

ابراہام معاہدے کیا ہیں؟

ابراہام معاہدے 2020 میں امریکی ثالثی کے تحت طے پائے تھے جن کے نتیجے میں متحدہ عرب امارات، بحرین، سوڈان اور مراکش نے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کیے۔ بعد ازاں قازقستان نے بھی معاہدے کی حمایت کا اعلان کیا تاہم سعودی عرب اب تک اس کا حصہ نہیں بنا۔

ان معاہدوں کا مقصد اسرائیل کے عرب و مسلم ممالک کے ساتھ سفارتی، اقتصادی اور سکیورٹی تعاون کو فروغ دینا تھا لیکن غزہ جنگ اور فلسطینی مسئلے کے باعث سعودی عرب نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کا عمل روک رکھا ہے۔

 

متعلقہ مضامین

  • ازبکستان میں پاکستان کے سفیر مدثر ٹیپو نے سفارتی اسناد ازبک وزیر خارجہ کو پیش کردیں
  • مشرق وسطیٰ کی صورتحال کنٹرول سے باہر ہوتی جارہی ہے، سیکریٹری جنرل اقوام متحدہ
  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال قابو سے باہر، فوری جنگ بندی ضروری ہے، انتونیو گوتریس
  • سعودی توانائی معاہدہ ابراہیمی معاہدوں سے مشروط، وائٹ ہاؤس نے ٹرمپ کا مؤقف دہرا دیا
  • کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
  • بلوچستان، جج کے قتل کے بعد کالعدم بی ایل اے اور داعش کا گٹھ جوڑ سامنے آگیا، اقوام متحدہ سے کارروائی کا مطالبہ
  • سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور اس کی پاسداری کریں گے: پاکستان
  • پاکستانی پرچم بردار جہازوں کیخلاف کسی بھی قسم کی جارحانہ کارروائی کو قومی سلامتی کا خطرہ تصور کیا جائیگا: دفتر خارجہ
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم