روس کے یوکرین پر فضائی حملے؛ حاملہ خاتون اور قیدیوں سمیت 27 افراد ہلاک
اشاعت کی تاریخ: 29th, July 2025 GMT
روس نے یوکرین کے جنوب مشرقی علاقوں پر تابڑ توڑ فضائی حملے کیے جس میں مجموعی طور پر 27 افراد ہلاک اور 50 سے زائد زخمی ہوگئے۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یوکرین کی فضائیہ کے ترجمان نے بتایا کہ روس نے ایک ہی رات میں 37 ڈرون اور 2 میزائل داغے جن میں سے 32 ڈرونز کو فضا میں ہی تباہ کر دیا گیا تھا۔
روس کے یوکرین پر فضائی حملے میں سب سے زیادہ جانی نقصان زاپوریزہیا میں ہوا جہاں ایک جیل کو نشانہ بنایا گیا تھا۔
روس کے یوکرین کی اس جیل پر فضائی حملے میں کم از کم 16 قیدی ہلاک اور 35 زخمی ہوگئے جن میں 11 کی حالت نازک ہونے کے باعث ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ہے۔
خارکیف کے شمال مشرقی علاقے میں ایک گاؤں میں دکان کو نشانہ بنایا گیا۔ پانچ افراد ہلاک اور تین زخمی ہوگئے۔
جنوبی خرسون علاقے میں بھی ایک شہری ہلاک اور تین زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔
علاوہ ازیں شہر کامیانکے میں روسی میزائل حملے میں ایک حاملہ خاتون سمیت تین افراد جب کہ سینیلنیکوو ضلع میں ایک شہری ہلاک اور متعدد زخمی ہوگئے۔
اسی طرح ادیسا ریجن کے گاؤں ویلیکا میخائیلیوکا میں ایک 75 سالہ خاتون جاں بحق اور ایک 68 سالہ مرد زخمی ہوگیا۔
یوکرین پر یہ تازہ حملے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی روس کو دی گئی نئی مہلت کے ایک دن بعد کیے گئے، جس میں کہا گیا تھا کہ روس کو 10 سے 12 دن میں جنگ ختم کرنے پر آمادہ ہونا ہوگا ورنہ مزید سخت پابندیوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔
دوسری جانب روس کے جنوبی علاقے روستوف میں یوکرین کے ڈرون حملوں میں ایک شخص ہلاک ہو گیا۔
روسی وزارت دفاع کا کہنا ہے کہ رات بھر میں 74 ڈرون مار گرائے گئے، جن میں سے 22 صرف روستوف ریجن میں تباہ کیے گئے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: فضائی حملے زخمی ہوگئے ہلاک اور میں ایک روس کے
پڑھیں:
بجلی، گیس، پانی، پیٹرول سمیت ہر شعبے میں ٹیکس وصول کیے جا رہے ہیں، شاداب نقشبندی
سربراہ پاکستان سنی تحریک نے کہا کہ وقت کا تقاضا ہے کہ عوام کو مہنگائی، بے روزگاری اور بنیادی سہولیات کے بحران سے نجات دلانے کے لیے فوری، سنجیدہ اور مؤثر اقدامات کیے جائیں تاکہ عوام کا اعتماد بحال ہو اور ملک معاشی استحکام کی جانب گامزن ہو سکے۔ اسلام ٹائمز۔ پاکستان سنی تحریک کے سربراہ محمد شاداب رضا نقشبندی نے کہا ہے کہ گیس، بجلی اور پانی کی مسلسل قلت، بڑھتی ہوئی مہنگائی اور حکومتی معاشی پالیسیاں عوام کے لیے شدید پریشانی کا باعث بن چکی ہیں، حکمران طبقہ تاجروں، کسانوں، مزدوروں اور عام شہریوں کو معاشی ریلیف اور سہولیات فرام کرنے میں بے بس ہے۔ ان کیالات کا اظہار انہوں نے مرکز اہلسنت سے جاری ایک بیان میں کیا۔ محمد شاداب رضا نقشبندی نے کہا کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بار بار ہونے والے اضافے نے نہ صرف شہریوں کی مشکلات میں اضافہ کیا ہے بلکہ معیشت کو بھی عدم استحکام سے دوچار کر دیا ہے، بازاروں میں سناٹے تاجر بھی پریشان حال ہیں، حکمرانوں کے پاس تاحال ایسی عوام دوست معاشی پالیسی دکھائی نہیں دے رہی جو مہنگائی پر قابو پا سکے اور عام آدمی کو حقیقی سہولت فراہم کرے۔
ان کا کہنا تھا کہ حکومت کو چاہیئے کہ دعووں اور اعلانات کے بجائے عملی اقدامات کرے، عوام کی بنیادی ضروریات کی فراہمی کو یقینی بنائے اور معاشی استحکام کے لیے بڑے، مؤثر اور دیرپا فیصلے کرے۔ انہوں نے کہا کہ جمہوریت اور آئین کا بنیادی مقصد عوام کو باعزت، محفوظ اور خوشحال زندگی فراہم کرنا ہے، حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ شہریوں کو معیاری تعلیم، بہترین طبی سہولیات، روزگار کے مواقع، معاشی استحکام اور بنیادی ضروریات کی فراہمی یقینی بنائے، عوام کو مہنگائی، بے روزگاری اور غربت سے نجات دلانے کے لیے مؤثر اور عوام دوست پالیسیاں اختیار کی جائیں، حقیقی جمہوریت اسی وقت مضبوط ہوتی ہے جب آئین کی بالادستی، قانون کی مساوی حکمرانی اور عوامی فلاح و بہبود کو اولین ترجیح دی جائے۔