ویب ڈیسک : پنجاب حکومت کی قائم کردہ کمیٹی نے پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا اداروں کو سرکاری اشتہارات کی ادائیگیاں ورکرز کی بروقت تنخواہوں سے مشروط کردیں۔

سیکریٹری اطلاعات طاہر رضا ہمدانی کی زیرصدارت صحافیوں کے مسائل کے حل کے لیے پنجاب حکومت کی قائم کردہ کمیٹی کا دوسرا اجلاس ہوا۔ 

اجلاس میں اہم فیصلے کرتے ہوئے طے پایا کہ پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا اداروں کو سرکاری اشتہارات کی ادائیگیاں ورکرز کی بروقت تنخواہوں سے مشروط ہوں گی، تمام میڈیا ادارے ماہانہ بنیادوں پر اپنے ورکرز کو دی گئی تنخواہوں کا سرٹیفکیٹ ڈی جی پی آر کو جمع کرانے کے پابند ہوں گے۔ اجلاس میں کیے گئے فیصلے کے مطابق ورکرز کو تنخواہیں وقت پر ادا نہ کرنے کی صورت میں ڈائریکٹر جنرل پبلک ریلیشنز (ڈی جی پی آر) کو اداروں کو ادائیگیاں روکنے کا اختیار حاصل ہوگا۔

تبادلوں کے منتظر اساتذہ کے لئےاچھی خبر

کمیٹی نے فیصلہ کیا کہ صحافیوں کو ایکریڈیٹیشن کارڈز کے اجرا کے لیے تجربے کی لازمی مدت دس سال سے کم کرکے پانچ سال کر دی جائے گی۔ اس کے علاوہ اجلاس میں تمام صحافتی تنظیموں نے ڈمی اخبارات کے خاتمے کے لیے ڈی جی پی آر کو مکمل تعاون فراہم کرنے کا اعلان بھی کیا۔

اجلاس میں صدر اے پی این ایس سرمد علی، صدر سی پی این ای کاظم خان، سیکریٹری ایمنڈ طارق محمود، سینئر وائس پریذیڈنٹ سی پی این ای ایاز خان اور اے پی این ایس کے اراکین نوراللہ اور محسن ممتاز نے شرکت کی۔

صحت کے منصوبوں کی موثر نگرانی کیلئے مانیٹرنگ کا نیا نظام وضع

.

ذریعہ

ذریعہ: City 42

کلیدی لفظ: اجلاس میں

پڑھیں:

آزاد کشمیر الیکشن کے حوالے سے میڈیا کیلیے ضابطہ اخلاق جاری

الیکشن کمیشن آزاد کشمیر نے انتخابات 2026 کے لیے نیا میڈیا ضابطہ اخلاق جاری کر دیا، پالیسی کا مقصد انتخابی عمل میں شفافیت، غیرجانبداری اور ذمہ دارانہ صحافتی روایات کو یقینی بنانا ہے۔

الیکشن کمیشن کے مطابق تمام میڈیا اداروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ انتخابی کوریج کے دوران مکمل غیرجانبداری کا مظاہرہ کریں اور ضابطہ اخلاق پر سختی سے عمل درآمد کریں۔

اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ پولنگ اسٹیشن کے اندر صرف مجاز میڈیا نمائندوں کو کوریج کی اجازت ہوگی تاہم پولنگ بوتھ کے اندر ووٹنگ کی خفیہ کارروائی کی کسی بھی قسم کی ریکارڈنگ یا فوٹوگرافی سختی سے ممنوع ہوگی۔

الیکشن کمیشن نے پولنگ ختم ہونے سے قبل کسی بھی قسم کے ایگزٹ پول، نتائج یا رجحانات نشر کرنے پر مکمل پابندی عائد کر دی ہے۔ نفرت انگیز، اشتعال انگیز یا فرقہ وارانہ مواد نشر کرنے سے گریز کرنے کی تاکید کی ہے۔

اسی طرح غلط، غیر مصدقہ یا گمراہ کن معلومات نشر کرنا بھی ممنوع قرار دیا گیا۔تمام امیدواروں کو انتخابی کوریج میں مساوی اور منصفانہ نمائندگی دینے کی ہدایت کی گئی ہے۔

الیکشن کمیشن نے واضح کیا ہے کہ ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر متعلقہ میڈیا ادارے کی ایکریڈیٹیشن منسوخ کی جا سکتی ہے اور قانونی کارروائی بھی عمل میں لائی جائے گی۔

کمیشن نے تمام میڈیا اداروں سے اپیل کی ہے کہ وہ انتخابی ضابطہ اخلاق پر مکمل عمل درآمد یقینی بنائیں تاکہ انتخابی عمل کے اعتماد اور شفافیت کو برقرار رکھا جا سکے۔

متعلقہ مضامین

  • سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
  • کیا فواد خان نے بھی سرجری کروالی؟ نئی تصاویر پر سوشل میڈیا پر بحث
  • آزاد کشمیر الیکشن کے حوالے سے میڈیا کیلیے ضابطہ اخلاق جاری
  • سعودی توانائی معاہدہ ابراہیمی معاہدوں سے مشروط، وائٹ ہاؤس نے ٹرمپ کا مؤقف دہرا دیا
  • کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
  • سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس،فلم "بلھا" پر پابندی یا نام تبدیلی کی سفارش، صحافیوں کے ہاؤسنگ کوٹے اور پیکا کیسز پر اہم فیصلے
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدہ ابراہیمی معاہدہ میں شمولیت سے مشروط کر دیا
  • وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا
  • آئی ایم ایف کی شرط پر ایکسپورٹ پروسیسنگ زونز کی مصنوعات مقامی مارکیٹ کو فروخت نہ کرنے کا فیصلہ