صحافیوں کی تنخواہوں کو اشتہارات کی ادائیگی سے مشروط کرنے کا فیصلہ
اشاعت کی تاریخ: 30th, July 2025 GMT
ویب ڈیسک : پنجاب حکومت کی قائم کردہ کمیٹی نے پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا اداروں کو سرکاری اشتہارات کی ادائیگیاں ورکرز کی بروقت تنخواہوں سے مشروط کردیں۔
سیکریٹری اطلاعات طاہر رضا ہمدانی کی زیرصدارت صحافیوں کے مسائل کے حل کے لیے پنجاب حکومت کی قائم کردہ کمیٹی کا دوسرا اجلاس ہوا۔
اجلاس میں اہم فیصلے کرتے ہوئے طے پایا کہ پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا اداروں کو سرکاری اشتہارات کی ادائیگیاں ورکرز کی بروقت تنخواہوں سے مشروط ہوں گی، تمام میڈیا ادارے ماہانہ بنیادوں پر اپنے ورکرز کو دی گئی تنخواہوں کا سرٹیفکیٹ ڈی جی پی آر کو جمع کرانے کے پابند ہوں گے۔ اجلاس میں کیے گئے فیصلے کے مطابق ورکرز کو تنخواہیں وقت پر ادا نہ کرنے کی صورت میں ڈائریکٹر جنرل پبلک ریلیشنز (ڈی جی پی آر) کو اداروں کو ادائیگیاں روکنے کا اختیار حاصل ہوگا۔
تبادلوں کے منتظر اساتذہ کے لئےاچھی خبر
کمیٹی نے فیصلہ کیا کہ صحافیوں کو ایکریڈیٹیشن کارڈز کے اجرا کے لیے تجربے کی لازمی مدت دس سال سے کم کرکے پانچ سال کر دی جائے گی۔ اس کے علاوہ اجلاس میں تمام صحافتی تنظیموں نے ڈمی اخبارات کے خاتمے کے لیے ڈی جی پی آر کو مکمل تعاون فراہم کرنے کا اعلان بھی کیا۔
اجلاس میں صدر اے پی این ایس سرمد علی، صدر سی پی این ای کاظم خان، سیکریٹری ایمنڈ طارق محمود، سینئر وائس پریذیڈنٹ سی پی این ای ایاز خان اور اے پی این ایس کے اراکین نوراللہ اور محسن ممتاز نے شرکت کی۔
صحت کے منصوبوں کی موثر نگرانی کیلئے مانیٹرنگ کا نیا نظام وضع
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: اجلاس میں
پڑھیں:
گوگل کی مالک کمپنی الفابیٹ کا اے آئی پر 80 ارب ڈالر خرچ کرنے کا بڑا فیصلہ
اسلام آباد: مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی سے متعلق سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے دعوؤں کی حقیقت سامنے آگئی ہے۔ مختلف پلیٹ فارمز پر یہ خبریں وائرل ہو رہی تھیں کہ عیدالاضحیٰ سے قبل مری میں غیر شادی شدہ مردوں یا بیچلرز کے داخلے پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے، تاہم سرکاری وضاحت نے ان دعوؤں کو غلط قرار دے دیا ہے۔
سوشل میڈیا پوسٹس میں دعویٰ کیا جا رہا تھا کہ دفعہ 144 کے نفاذ کے بعد مری شہر میں صرف فیملیز کو داخلے کی اجازت ہوگی جبکہ بیچلرز کو مکمل طور پر روک دیا گیا ہے۔ تاہم ضلعی انتظامیہ کے مطابق ایسی کوئی پابندی پورے مری شہر پر نافذ نہیں کی گئی۔
انتظامیہ کا کہنا ہے کہ پابندی صرف مال روڈ کے مخصوص حصے تک محدود تھی، جہاں سیاحوں کے رش اور نظم و ضبط کو برقرار رکھنے کے لیے اکیلے آنے والے مردوں اور بیچلرز گروپس کے داخلے پر عارضی پابندی لگائی گئی تھی۔ فیملیز کو معمول کے مطابق مال روڈ جانے کی اجازت دی گئی تھی۔
ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (جنرل) مری کامران صغیر کے مطابق دفعہ 144 کا اطلاق صرف مال روڈ تک محدود تھا اور 31 مئی تک نافذ رہی۔ ان کا کہنا تھا کہ مری شہر میں آنے والے تمام سیاحوں کے لیے راستے کھلے تھے اور بیچلرز کے شہر میں داخلے پر کوئی مکمل پابندی نہیں تھی۔
ضلعی انتظامیہ کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن میں بھی واضح کیا گیا تھا کہ یہ اقدام صرف سیاحتی سہولیات بہتر بنانے اور ہجوم کو منظم رکھنے کے لیے کیا گیا تھا۔
اس طرح مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی کے حوالے سے وائرل ہونے والا دعویٰ حقیقت کے برعکس ثابت ہوا۔ مری بدستور تمام سیاحوں کے لیے کھلا ہے جبکہ پابندی صرف مال روڈ کے مخصوص علاقے تک محدود رہی۔