ٹنڈو محمد خان، ایم ڈبلیو ایم کے تحت زائرین امام حسینؑ پر بذریعہ سڑک سفر پر پابندی کے خلاف ریلی
اشاعت کی تاریخ: 31st, July 2025 GMT
اپنے خطاب میں رہنماؤں نے کہا کہ اربعین امام حسینؑ کا مقدس سفر آسان اور محفوظ بنایا جا سکے، اگر مطالبات پر سنجیدگی سے غور نہ کیا گیا تو احتجاجی تحریک کو وسعت دی جائے گی اور ملک گیر سطح پر عوامی ردعمل سامنے لایا جائے گا۔اور احتجاجی تحریک چلائی جائے گی۔ اسلام ٹائمز۔ مجلس وحدت مسلمین ضلع ٹنڈو محمد خان کی جانب سے زائرین امام حسینؑ پر بائے روڈ سفری پابندی کے خلاف علامہ راجہ ناصر عباس جعفری کی اپیل پر پرامن بھرپور احتجاجی ریلی جامع مسجد علی سے نکالی گئی جو لبیک یا حسینؑ کے فلک شگاف نعروں کے ساتھ شہر کے اہم راستوں سے گزرتی ہوئی پریس کلب سٹی پل پہنچی، جہاں پر علامتی دھرنے دیا گیا۔ اس موقع پر ایم ڈبلیو ایم سندھ کے صوبائی رہنما محمود الحسن، ضلعی صدر امجد حسین لغاری، مولانا امیر حسین رحمانی، سابق صوبائی مشیر میر علی نواز تالپور، معروف سماجی شخصیت میر کاظم رضا تالپور، میر راجہ شوکت تالپور، مولانا کاظم مطہری، سجاد علی ڈومکی، ساجن مغل، میر غلام علی اور دیگر نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ریاستی ادارے زائرین کے ساتھ تعاون نہیں کر رہی ہے، زائرین کے سفر کو محدود کرنے کے بجائے ان کی مکمل سیکیورٹی یقینی بنائی جائے تاکہ اربعین امام حسینؑ کا مقدس سفر آسان اور محفوظ بنایا جا سکے، اگر مطالبات پر سنجیدگی سے غور نہ کیا گیا تو احتجاجی تحریک کو وسعت دی جائے گی اور ملک گیر سطح پر عوامی ردعمل سامنے لایا جائے گا۔اور احتجاجی تحریک چلائی جائے گی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: احتجاجی تحریک جائے گی
پڑھیں:
مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی؟ حقیقت سامنے آگئی
سوشل میڈیا پر یہ دعویٰ وائرل ہورہا تھا کہ پنجاب کے سیاحتی مقام مری میں 31 مئی تک غیر شادی شدہ مردوں (بیچلرز) کے داخلے پر سرکاری پابندی عائد کردی گئی ہے، تاہم فیکٹ چیک کے بعد یہ واضح ہوا ہے کہ یہ دعویٰ گمراہ کن ہے اور مکمل طور پر درست نہیں۔
فیس بک سمیت مختلف پلیٹ فارمز پر شیئر کی جانے والی پوسٹس میں کہا جا رہا تھا کہ عید سے قبل مری میں دفعہ 144 نافذ کرتے ہوئے بیچلرز کے داخلے پر پابندی لگا دی گئی ہے اور صرف فیملیز کو ہی شہر میں جانے کی اجازت ہوگی۔ ان دعوؤں میں یہ تاثر دیا گیا کہ مبینہ پابندی پورے مری شہر پر لاگو ہے۔
حقیقت اس کے برعکس ہے۔ حکام کے مطابق مری میں غیر شادی شدہ مردوں کے داخلے پر کوئی مکمل پابندی عائد نہیں کی گئی۔ صرف مخصوص ہدایت کے تحت مال روڈ پر ایک تبدیلی کی گئی ہے، جہاں اکیلے آنے والے مردوں یا بیچلرز گروپس کو داخلے کی اجازت نہیں ہوگی، جبکہ فیملیز بدستور وہاں جا سکتی ہیں۔
ضلع مری کے ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (جنرل) کامران صغیر کے مطابق 31 مئی تک دفعہ 144 نافذ تھی، جس کا اطلاق صرف مال روڈ تک محدود تھا۔ ان کے مطابق مری شہر میں بیچلرز کے داخلے پر کوئی پابندی نہیں، البتہ مال روڈ پر صرف فیملیز کو جانے کی اجازت دی گئی ہے تاکہ سیاحتی نظم و ضبط بہتر بنایا جا سکے۔
انہوں نے مزید وضاحت کی کہ ’’مال روڈ کے اوپر اکیلے مردوں کو اجازت نہیں، صرف فیملیز جا سکتی ہیں، پورا مری بند نہیں ہے، بیچلرز کی انٹری پر مکمل پابندی نہیں ہے۔‘‘
ڈپٹی کمشنر مری کے سرکاری فیس بک اکاؤنٹ سے بھی 20 مئی کو جاری نوٹیفکیشن شیئر کیا گیا تھا، جس میں کہا گیا تھا کہ پولیس کی سفارش پر مال روڈ پر صرف فیملیز کو داخلے کی اجازت دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے تاکہ سیاحوں کو بہتر سہولت فراہم کی جا سکے۔
یہ دعویٰ کہ مری میں بیچلرز کے داخلے پر مکمل پابندی عائد ہے، غلط ثابت ہوا۔ حقیقت یہ ہے کہ پابندی صرف مال روڈ کے مخصوص حصے تک محدود ہے، جبکہ مری شہر بدستور تمام سیاحوں کے لیے کھلا ہے۔