ایک نئی سائنسی تحقیق میں ہوشربا انکشاف کیا گیا ہے کہ بالغ افراد روزانہ اوسطاً 68 ہزار مائیکرو پلاسٹک ذرات سانس کے ذریعے اپنے جسم میں داخل کر رہے ہیں، جو کہ گزشتہ اندازوں سے 100 گنا زیادہ ہے۔

یہ تحقیق معروف سائنسی جریدے PLOS One میں شائع ہوئی ہے، جسے یونیورسٹی آف ٹولوز کے محققین نے انجام دیا۔ تحقیق میں خاص طور پر 1 سے 10 مائیکرومیٹر سائز کے مائیکرو پلاسٹک ذرات کا جائزہ لیا گیا جو پھیپھڑوں کی گہرائی تک پہنچنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

گھروں اور گاڑیوں کی فضا خطرناک قرار

تحقیق میں Raman spectroscopy کے ذریعے محققین نے اپنے گھروں اور گاڑیوں کے اندر موجود فضا کا تجزیہ کیا۔ نتائج کے مطابق اندرونِ خانہ فضا میں 528 ذرات فی مکعب میٹر گاڑیوں کے کیبن میں 2,238 ذرات فی مکعب میٹر کی مقدار سامنے آئی۔

یہ بھی پڑھیے مائیکروپلاسٹکس انسانی صحت کے لیے کس قدر خطرناک ہیں؟

تحقیقی ٹیم کے مطابق، 94 فیصد ذرات 10 مائیکرومیٹر سے کم سائز کے تھے، جو انسانی صحت کے لیے زیادہ خطرناک ہیں۔

صحت کے لیے سنگین خطرات

محققین نے خبردار کیا ہے کہ ان ذرات کی مسلسل سانس کے ذریعے موجودگی آکسیڈیٹو تناؤ (oxidative stress)، مدافعتی نظام کی خرابی اور اعضاء کو نقصان پہنچا سکتی ہے۔

تحقیق کے شریک مصنفین نادیا یا کووینکو اور جیروئن سونکے نے خاص طور پر گاڑیوں میں بند فضا کو زیادہ خطرناک قرار دیا، کیونکہ دوران سفر وینٹی لیشن نہ ہونے کی وجہ سے ذرات کی مقدار بڑھ جاتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: عالمی یوم ماحولیات: پلاسٹک آلودگی سے زمین، سمندر اور انسان سب خطرے میں

پالیسی سازوں سے فوری اقدام کا مطالبہ

محققین نے حکومتوں اور پالیسی ساز اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اندرونی فضا کی آلودگی پر فوری توجہ دیں اور مائیکرو پلاسٹک کے انسانی صحت پر اثرات پر مزید تحقیق کی جائے۔

تحقیقی ٹیم کے مطابق، ’مائیکرو پلاسٹک کا مسئلہ اب صرف ماحولیاتی نہیں، بلکہ ایک سنگین صحت عامہ کا مسئلہ بن چکا ہے۔‘

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

انسانی صحت پلاسٹک کے ذرات.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: پلاسٹک کے ذرات مائیکرو پلاسٹک کے لیے

پڑھیں:

مقبوضہ کشمیر میں حالاے نشل کشی کے دہانے پر پہنچ گئے ہیں، رُکن برطانوی پارلیمنٹ

برطانوی ایوانِ بالا کے رکن لارڈ قربان حسین نے کہا ہے کہ مقبوضہ کشمیر کے حالات نسل کُشی کی طرف جارہے ہیں۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق لارڈ قربان حسین نے برطانوی پارلیمنٹ میں مقبوضہ کشمیر کی انسانی حقوق کی صورتحال پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ ان کے مطابق وہاں کے حالات نسل کشی کے دہانے پر پہنچ چکے ہیں۔

انہوں نے جینوسائڈ واچ کی ایک رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے برطانوی حکومت سے پوچھا کہ وہ ان انتباہات کو کس حد تک سنجیدگی سے لیتی ہے اور ممکنہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی روک تھام کے لیے کیا اقدامات کر رہی ہے۔

جواب میں برطانوی حکومت کی جانب سے پارلیمانی انڈر سیکرٹری لارڈ کولنز نے کہا کہ برطانیہ انسانی حقوق سے متعلق اپنے دیرینہ مؤقف پر قائم ہے اور بھارتی پولیس یا سکیورٹی فورسز کے خلاف مبینہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے الزامات کی مکمل، شفاف اور غیرجانبدارانہ تحقیقات کی حمایت کرتا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • جتنی خطرناک سازشیں نوازشریف کیخلاف ہوئیں عوام کی سپورٹ نہ ہوتی تو ہمارا نام ختم ہوجانا تھا: مریم
  • پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں روزانہ کی بنیاد پر اضافہ نے عام انسان کی زندگی کو اجیرن بنا دیا
  • سونے کی قیمت میں کمی کا رجحان برقرار، فی تولہ کتنے کا ہوگیا؟
  • انسانی حقوق کا مغربی تصور سیرت طیبہؐ کی روشنی میں
  • سرداریار محمد رند کی سفری پابندی کیخلاف درخواست پر فیصلہ محفوظ
  • مقبوضہ کشمیر میں حالاے نشل کشی کے دہانے پر پہنچ گئے ہیں، رُکن برطانوی پارلیمنٹ
  • چینی چڑیا گھر میں جانور گرمی کی شدید لہر سے کیسے محفوظ رہتے ہیں؟
  • چین کا ایک اور کامیاب خلائی مشن، 5 سیٹلائٹس مقررہ مدار میں داخل
  • ایرانی اثاثے ضبط کرنے کی ٹرمپ کی دھمکی خطرناک نظیر ہے، عباس عراقچی کا سخت ردعمل
  • جاپان نے شدید گرمی سے بچاؤ کے لیے ‘انسانی ریفریجریٹر’ تیار کرلیا